فہرست احادیث

رسول اللہ ﷺ نے مجھے تشہد سکھایا اس حال میں کہ میرا ہاتھ آپ ﷺ ﷺ کی ہتھیلیوں کے درمیان میں تھا اور ایسے سکھایا جس طرح آپ ﷺ قرآن کی سورت سکھا یا کرتے تھے: ”التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ“۔ ترجمہ:”تمام بزرگیاں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، تمام دعائیں اور صلاتیں اور تمام پاکیزہ چیزیں بھی۔ اے نبی! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“۔

ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں اس دروازے سے داخل ہوا، جو دارالقضا کی طرف تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر خطبہ دے رہے تھے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اپنا منہ کرکے کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مال (جانور) تباہ ہو گئے اور راستے بند ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ ہم پر پانی برسائے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی:"اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا" اے اللہ! ہم پر پانی برسا۔ اے اللہ! ہم پر پانی برسا۔ اے اللہ! ہم پر پانی برسا۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! آسمان میں کہیں کسی بادل یا بادل کی ٹکڑی کا نام و نشان تک نہ تھا اور ہمارے اور سلع پہاڑی کے بیچ مکانات بھی نہیں تھے (جو ان کے دیدار میں حائل بنتے)، اتنے میں پہاڑ کے پیچھے سے ڈھال کی طرح بادل نمودار ہوا اور آسمان کے بیچ میں پہنچ کر چاروں طرف پھیل گیا اور برسنے لگا۔ اللہ کی قسم! (ایسی بارش ہوئی کہ) ہم نے ایک ہفتے تک سورج نہیں دیکھا۔ پھر اسی دروازے سے دوسرے جمعے کے دن ایک شخص مسجد میں داخل ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ وہ کھڑے کھڑے ہی آپ کی طرف متوجہ ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! (کثرتِ بارش سے) مال تباہ ہوگئے اور راستے بند ہوگئے؛ اس لیے اللہ تعالی سے دعا کیجیے کہ وہ بارش روک دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی"اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلا عَلَيْنَا...

ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ (ﷺ) جب (آغاز )نماز کے لیے تکبیر کہتے،تو قراءت کرنے سے پہلے کچھ دیر سکوت فرماتے۔ میں نےعرض کیا: اے اللہ کے رسول! (ﷺ) میرے ماں باپ آپ پر قربان! یہ جو تکبیر اور قراءت کے درمیان آپ کی خاموشی ہے، (اس کے دوران میں ) آپ کیا کہتے ہیں؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا:’’میں کہتا ہوں: اللھم باعدبینی وبین خطایای کما باعدت بین المشرق والمغرب اللہم نقنی من خطایای کما ینقی الثوب الابیض من الدنس، اللھم اغسلنی من خطایای بالثلج والماء والبرد"۔ ترجمہ: اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اس طرح دوری ڈال دے، جس طرح تونے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے اس طرح پاک صاف کر دے، جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں کودھودے، برف کے ساتھ ،پانی کےساتھ اور اولوں کے ساتھ‘‘۔

رسول اللہﷺ نے مجھے وتر میں پڑھنے کے لیے چند کلمات سکھائے۔(جو یہ ہیں): ''اللهم اهدني فيمن هديت، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وبارك لي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وإنه لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ''۔ ترجمہ:’’اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں (شامل کرکے) ہدایت دے جنھیں تو نے ہدایت بخشی، مجھے ان لوگوں میں (شامل کرکے) عافیت عطا فرما جن کو تو نے عافیت عطا کی، اور میری نگرانی فرما ان لوگوں میں(شامل کرکے) جن کا تونگراں بنا اور جو تو نے دیا ہے اس میں میرے لیے برکت عطا فرما، اور جس کا تو نے فیصلہ فرما دیا ہے اس کی برائی سے مجھے بچا، اس لیے کہ تو ہی فیصلہ کرتا ہے، تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، اور تو جس سے دوستی کرے وہ ذلیل نہیں ہو سکتا اور جس سے دشمنی کرے اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا۔ اے ہمارے رب! تو برکت والا اور بلند و بالا ہے۔‘‘