1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فقہ و اصولِ فقہ

حدیث تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے؛ سوئے ہوئے شخص سے جب تک بیدار نہ ہو جائے، بچے سے جب تک کہ بالغ نہ ہو جائے اور دیوانے سے جب تک اسے عقل نہ آ جائے"۔

عن علي رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:
«رُفِعَ الْقَلَمُ عن ثلاثة: عن النائم حتى يَسْتَيْقِظَ، وعن الصبي حتى يَحْتَلِمَ، وعن المجنون حتى يَعْقِلَ».

علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا:
"تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے؛ سوئے ہوئے شخص سے جب تک بیدار نہ ہو جائے، بچے سے جب تک کہ بالغ نہ ہو جائے اور دیوانے سے جب تک اسے عقل نہ آ جائے"۔

صحيح رواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرى وابن ماجه وأحمد سنن أبي داود - 4403

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ تین افراد کو چھوڑ کر تمام انسان مکلف ہیں۔ یہ تین افراد اس طرح ہیں:
چھوٹا بچہ بڑا اور بالغ ہونے تک۔
فاقد العقل مجنوں دوبارہ عقل و شعور واپس آنے تک۔
سویا ہوا انسان جاگنے تک۔
یہ تینوں مکلف نہيں ہیں اور ان سے غلط کام ہو جائے تو ان کے کھاتے میں گناہ نہیں لکھا جاتا۔ البتہ چھوٹے بچے کے کھاتے میں نیکی لکھی جاتی ہے۔ لیکن مجنون اور سوئے ہوئے انسان کے کھاتے میں وہ بھی نہیں لکھی جاتی۔ کیوں کہ شعور نہ ہو نے کی وجہ سے دونوں اس قابل ہی نہیں ہوتے کہ ان کی عبادت صحیح ہو۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. انسان اپنی اہلیت سے یا تو نیند کی وجہ سے محروم ہوتا ہے، جس کے سبب وہ واجبات کو ادا کرنے سے قاصر ہوتا ہے، یا کم سنی اور بچپنے کی وجہ سے، جس کے سبب اس کے اندر اہلیت موجود نہیں ہوتی، یا جنون کی وجہ سے، جس کے سبب عقل وشعور کام کرنا بند کردیتا ہے، یا اس کیفیت کی وجہ سے جو جنون کے حکم میں آتی ہے، جیسے حالت نشہ۔ چنانچہ جس شخص کے اندر تمیز اور تصور کرنے کی صحیح صلاحیت مفقود ہو، اس کے اندر مذکورہ تین میں سے کسی ایک سبب کی بنا پر اہلیت بھی مفقود ہوجاتی ہے۔ چنانچہ ایسے شخص سے اللہ تعالی کے حق میں اگر کوئی زیادتی یا کوتاہی سرزد ہوجائے، تو اللہ تعالی اپنے عدل و انصاف، حلم و بردباری اور جود وسخا کی بنا پر اسے معاف کردیا ہے۔
  2. ان تینوں کے کھاتے میں گناہ نہ لکھنے کا یہ مطلب نہيں ہے کہ کچھ دنیوی احکام ان پر نافذ نہیں ہوں گے۔ مثال کے طور پر مجنون اگر کسی کا قتل کر دے، تو اسے قصاص کے طور پر قتل نہيں کیا جائے گا اور اسے کفارہ بھی نہیں دینا نہيں۔ البتہ اس کے خاندان کو دیت دینی ہوگی۔
  3. بالغ ہونے کی تین علامتیں ہیں: منی کا احتلام وغیرہ کے ذریعے نکلنا، يا ناف کے نیچے بال اگ جانا یا پندرہ سال پورے ہو جانا۔ عورت کے اندر ایک چوتھی چيز بھی پائی جاتی ہے، اور وہ ہے حیض کا آنا۔
  4. سبکی کہتے ہیں: حدیث میں آئے ہوئے 'صبی' لفظ کے معنی غلام (بچے) کے ہيں۔ جب کہ دیگرحضرات کہتے ہيں: بچہ جب ماں کے پیٹ میں ہو، تو اسے (عربی میں) 'جنین' کہا جاتا ہے۔ جب پیدا ہو جائے، تو 'صبی' کہلاتا ہے۔ شیرخوارگی کا زمانہ گزرنے کے بعد سے سات سال تک 'غلام' کہلاتا ہے۔ بعد ازاں دس سال تک 'یافع' کہلاتا ہے۔ پھر پندرہ سال تک 'حزور' کہلاتا ہے۔ اور سیوطی کے بقول قطعی بات یہ ہے کہ بچے کو ان تمام احوال میں 'صبی' کہا جائے گا۔

تراجم کا مشاہدہ

51 زبان
EN English الإنجليزية
ID Indonesia الإندونيسية
BN বাংলা البنغالية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TA தமிழ் التاميلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
KY Кыргызча القيرقيزية
NE नेपाली النيبالية
LT Lietuvių الليتوانية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
TG тоҷикӣ الطاجيكية
RW Kinyarwanda الكينياروندا
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
CS Čeština التشيكية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
OM Oromoo الأورومو
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
AZ Azərbaycan الأذربيجانية
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية