حدیث کی فہرست

قبروں پر مت بیٹھو اور ان کی جانب منہ کرکے نماز نہ پڑھو۔
عربي الإنجليزية الأوردية
نبی ﷺ نے (ایک دن) عشا کی نماز میں تاخیر فرما دی۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نکلے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! نماز پڑھانے کے لیے تشریف لائیے۔ عورتیں اور بچے سو چکے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے، اس حال میں کہ آپ ﷺ کے سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: اگر مجھے اپنی امت (یا آپ ﷺ نے فرمایا) اگر مجھے لوگوں کے دشواری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو انھیں حکم دیتا کہ وہ اس گھڑی میں یہ نماز پڑھا کریں۔
عربي الإنجليزية الأوردية
اللہ بالغ عورت کی نماز بغیر دوپٹے کے قبول نہیں کرتا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ اس کپڑے کا کوئی بھی حصہ اس کے کندھوں پر نہ ہو۔
عربي الإنجليزية الأوردية
رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے، وہ جس طرف بھی آپ کو لیے پھرتی۔ لیکن جب فرض (نماز پڑھنے) کا ارادہ کرتے تو سواری سے اتر پڑتے اور قبلہ کی طرف منہ کرلیتے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
رسول اللہ ﷺ جب سفر پر جاتے اور آپ کا نفل نماز پڑھنے کا ارادہ ہوتا تو آپ ﷺ سواری کا رخ قبلے کی طرف کر کے تکبیر کہتے اور نماز شروع کردیتے (بعد میں) چاہے سواری کا رخ کدھر بھی ہوتا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
زمین ساری کی ساری سجدہ گاہ ہے، سوائے قبرستان اور غسل خانے کے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے؛ سوئے ہوئے شخص سے جب تک بیدار نہ ہو جائے، بچے سے جب تک کہ بالغ نہ ہو جائے اور دیوانے سے جب تک اسے عقل نہ آ جائے"۔
عربي الإنجليزية الأوردية
لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آنے والا ان کے پاس آیا، اور اس نے کہا کہ آج کی رات نبی ﷺ پر قرآن نازل کیا گیا ہے اور آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ کعبہ کی طرف رخ کریں۔ لہذا آپ لوگ بھی کعبہ کی طرف رخ کرليں
عربي الإنجليزية الأوردية
رسول اللہ ﷺ، اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہم خانۂ کعبہ کے اندر داخل ہوئے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
نبی ﷺ ظہر کی نماز ٹھیک دوپہر میں پڑھا کرتے، عصر کی نماز اس وقت ادا فرماتے جب کہ سورج ابھی صاف اور روشن ہوتا اور نماز مغرب وقت ہوتے ہی پڑھ لیتے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
رسول اللہ ﷺ فجر کی نماز پڑھتے تھے تو مومن عورتیں بڑی بڑی چادروں میں لپٹیں آپ ﷺ کے ساتھ نماز میں شریک ہوتیں۔ پھر (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) وہ اپنے گھروں کو لوٹ جاتیں اور اندھیرے کی وجہ سے کوئی بھی انھیں پہچان نہ پاتا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے لیٹی ہوتی تھی اور میرے پاؤں آپ ﷺ کے قبلے کی جانب ہوتے تھے۔ آپ ﷺ جب سجدہ کرتے تو میرے پاؤں کو دبا دیتے اور میں انہیں سمیٹ لیتی پھر آپ ﷺ کھڑے ہوتے تو میں پاؤں پھلا لیتی اور ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوا کرتے تھے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
ظہر کا وقت سورج کے ڈھل جانے سے آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو جانے تک (یعنی) عصر کا وقت داخل ہونے تک رہتا ہے۔ عصر کا وقت سورج زرد ہونے تک، مغر ب کا وقت سرخی غائب ہونے تک، عشا کی نماز کا وقت آدھی رات تک اور صبح کی نماز کا وقت طلوع فجر سے اس وقت تک رہتا ہے، جب تک سورج طلوع نہیں ہوجاتا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
ہم مغرب کی نماز نبی ﷺ کے ساتھ ادا کرتے اور جب ہم میں سے کوئی واپس پلٹتا تو (ابھی اتنا اجالا باقی ہوتا کہ) وہ اپنے تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ سکتا تھا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جس نے طلوعِ آفتاب سے پہلے فجر کی ایک رکعت پا لی تو اس نے نمازِ فجر پا لی اور جس نے غروبِ آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت پا لی تو گویا اس نے عصر کی نماز پا لی۔
عربي الإنجليزية الأوردية
فجر دو طرح کی ہوتی ہے: ایک وہ جو بھیڑیے کی دم کی طرح (اوپر اٹھی) ہوتی ہے۔ اس میں نماز (فجر) پڑھنا جائز نہیں اور کھانا (سحری) کھانا حرام نہیں۔ دوسری وہ فجر ہے جو اُفق کے ساتھ ساتھ پھیلی ہوتی ہے۔ اس میں ںماز (فجر) پڑھنا جائز ہے اور کھانا (سحری) کھانا حرام ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
ہم ایک تاریک رات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھےتو ہمیں پتہ نہیں چل سکا کہ قبلہ کس طرف ہے۔ چنانچہ ہم میں سے ہر شخص نے اپنی سمت کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لی۔ جب ہم نے صبح کی تو نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا۔ چنانچہ (اس موقع پر) یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ﴿فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّـهِ﴾ ”تم جس طرف رخ کر لو اللہ کا چہرہ اسی طرف ہے۔“
عربي الإنجليزية الأوردية
مشرق ومغرب کے مابین جو کچھ ہے سب قبلہ ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جب تم میں سے کوئی مسجد آئے، تو دیکھ لیا کرے، اگر اسے اپنے جوتوں میں کوئی گندگی یا ناپاکی نظر آئے، تو اسے رگڑ کرصاف کر لے اور ان میں نماز پڑھ لے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جب شام کا کھانا حاضر ہو جائے تو مغرب کی نماز سے پہلے کھانا کھا لو اور اپنا کھانا چھوڑ کر نماز کی طرف جلدی مت کرو۔
عربي الإنجليزية الأوردية
یا رسول اللہ! سورج غروب ہوگیا اور نماز عصر پڑھنا میرے لیے ممکن نہ ہوسکا۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا:اللہ کی قسم! نماز میں نے بھی نہیں پڑھی ہے۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر ہم وادی بطحان گئے، آپ ﷺ نے وہاں نماز کے لیے وضو کیا، ہم نے بھی وضو کیا۔ آپ ﷺ نے سورج غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز پڑھی اور اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔
عربي الإنجليزية الأوردية
میں اور میرے والد دونوں ابو بَرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو میرے والد نے ان سے پوچھا کہ نبی ﷺ فرض نماز کیسے (یعنی کب) پڑھتے تھے؟
عربي الإنجليزية الأوردية
جبریل آئے اور انہوں نے میری امامت کرائی۔ میں نے اُن کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی۔
عربي الإنجليزية الأوردية
یہی (عشا کی نماز کا پسندیدہ) وقت ہے، اگر میں اپنی امت پر گراں نہ سمجھتا
عربي الإنجليزية الأوردية
فجر کے ساتھ صبح کرو کیوں کہ یہ تمہارے اجر کے لیے بہت عظیم ہے۔ یا اجر کے اعتبار سے بہت عظیم ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جب کپڑا کشادہ ہو تو اس کے دونوں کناروں کو ایک دوسرے کے مخالف کندھوں پر ڈال لو اور جب کپڑا تنگ ہو تو اسے اپنی کمر پر باندھ لو>
عربي الإنجليزية الأوردية
تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ اس کے دونوں کندھوں پر کچھ بھی کپڑا نہ ہو
عربي الإنجليزية الأوردية