عن جندب بن سفيان البجلي -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه قال: «مَنْ صلَّى الصبحَ فهو في ذِمَّةِ اللهِ، فانظُرْ يا ابنَ آدمَ، لا يَطْلُبَنَّكَ اللهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيء».
[صحيح.] - [رواه مسلم بلفظ: «من صلى الصبح فهو في ذمة الله، فلا يطلبنكم الله من ذمته بشيء فيدركه فيكبه في نار جهنم»، وهذا لفظ أحمد.]
المزيــد ...

جندب بن سفیان البجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے فجر پڑھ لی وہ اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے۔ اس لیے اے آدم کے بیٹے! اس بات کو دھیان میں رکھ کہ کہیں اللہ تعالیٰ تجھ سے اپنی امان کی بابت کسی قسم کی باز پرس نہ کرے“۔
صحیح - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

شرح

اس حدیث میں نماز فجر کی فضیلت کا بیان ہے اور یہ کہ اس نماز کا ادا کرنے والا اللہ تعالیٰ کے حفظ و امان میں ہو جاتا ہے یعنی اس کی حفاظت و نگہبانی اور اس کی ضمانت میں آجاتا ہے اور اس کو وہ اپنے امان میں داخل فرمالیتا ہے۔ ابی نعیم کی مستخرج (252/2، حدیث نمبر:1467) میں موجود ایک روایت میں ”جماعت کے ساتھ“ کے الفاظ مذکور ہیں۔ نیز نبی کریم ﷺ نے ان لوگوں کو خبردار کردیا، جو اللہ تعالیٰ کے حفظ و امان میں رہنے والے ان نمازیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی جرات کرتے ہیں اور سخت تنبیہ و دھمکی کے اسلوب میں ان سے خطاب فرمایاکہ:اللہ تعالیٰ کے حفظ و امان میں رہنے والوں کو تکلیف پہنچاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بارے میں غلط گمان و خیال میں نہ رہنا (کہ وہ تمھیں چھوڑ دے گا) بلکہ یہ چیز اللہ تعالیٰ کی سخت سزا اور جہنم میں داخلے-والعیاذ باللہ- کا سبب ہوگی۔ آپ کے قول: ”کہیں، اللہ تعالیٰ تجھ سے اپنے امان کی بابت کسی قسم کی باز پرس نہ کرے“ کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ نماز فجرمیں کوتاہی نہ کرو یا کوئی برا عمل نہ کرو کہ اللہ تعالیٰ تمھاری حفاظت کا وعدہ واپس لے لے۔!! یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نماز فجر، دن کی نماز کی کنجی و کلید ہے، بلکہ دن بھر کے عمل کی کلید ہے اور یہ گویا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس بات کا عہد و پیمان ہے کہ بندۂ مومن اپنے رب عز و جل کی اطاعت و فرماں برداری، اس کے اوامر کی پیروی اور اس کی منع کردہ باتوں سے اجتناب کرتے ہوئے انجام دے گا۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان چینی زبان فارسی زبان ہندوستانی
ترجمہ دیکھیں