عن الحسن، أن أبا بَكْرَة جاء ورسول الله راكع، فركع دون الصَّف ثم مَشَى إلى الصَّف فلما قَضَى النبي -صلى الله عليه وسلم- صلاته، قال: «أيُّكم الذي ركع دون الصَّف ثم مَشَى إلى الصَّف؟» فقال أبو بَكْرَة: أنا، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «زادَك الله حِرْصَا ولا تَعُد».
[صحيح.] - [رواه أبو داود وأحمد، وأصله عند البخاري.]
المزيــد ...

حسن سے روایت ہے کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ (مسجد میں) آئے اس حال میں کہ رسول اللہ ﷺ رکوع میں تھے، تو انہوں نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا، پھر وہ صف میں ملنے کے لیے چلے۔ جب نبی ﷺ نماز پڑھ چکے، تو آپ نے پوچھا: ’’تم میں سے کس نے صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کیا تھا، پھر وہ صف میں ملنے کے لیے چل کر آیا؟‘‘ ابوبکرہ نے کہا: میں نے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تمہاری (نیکی کی) حرص کو بڑھائے، دوبارہ ایسا نہ کرنا“۔
صحیح - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

شرح

ابو بکرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو انہوں نے نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کو رکوع کی حالت میں پایا، چناں چہ انہوں نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا تاکہ رکعت پاسکیں، پھر وہ رکوع كي حالت میں صف میں ملنے کے لئے چلے یہاں تک کہ مقتدیوں کے ساتھ صف میں داخل ہو گئے، نبی ﷺ نے صف کے پیچھے کی حرکت کو محسوس کیا اور سمجھ گئے کہ کوئی تیز چل کر آیا ہے اورصف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کیا ہے، بلکہ یہ بات آپ ﷺ کی خصوصیات میں سے تھی کہ آپ نماز میں اپنے پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھ لیتے جس طرح آپ ﷺ اپنے سامنے سے دیکھتے۔ پھر جب نبی ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو پو چھا: تم میں سے کس نے صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کیا تھا، پھر صف میں ملنے کے لئے چل کر آیا؟ ابو بکرہ نے کہا: میں نے، یعنی جو آپ دریافت کر رہے ہیں اے اللہ کے رسول! وہ میں نے کیا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ تمہاری نیکی کی حرص و چاہ اور رغبت کو بڑھائے، لیکن دوبارہ رکعت پانے کے لئے تیز چل کر نہ آنا اور نہ صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کرنا، اس لئے کہ جلد بازی سکون اور وقار کے منافی و خلاف ہے، اور آپ ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے کہ: ”صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز نہیں ہوتی“ ابو بکرہ کا عمل اس سے خارج ہے کیوں کہ صف کے پیچھے ان کا تنہا رہنا تھوڑی دیر کے لیے تھا، جیسے کہ کسی نے تنہا رکوع کیا اورحالت رکوع ہی میں کوئی اس کے ساتھ آکر مل گیا، پھر بھی ایسا کرنا آپ ﷺ کے اس فرمان: ”دوبارہ ایسا نہ کرنا“ کی وجہ سے مشروع و درست نہیں ہے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی
ترجمہ دیکھیں