+ -

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
«أَمَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ - أَوْ: لاَ يَخْشَى أَحَدُكُمْ - إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الإِمَامِ، أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ، أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ».

[صحيح] - [متفق عليه]
المزيــد ...

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
"کیا تم میں سے کوئی شخص، جو امام سے پہلے اپنا سر اٹھاتا ہے، اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ اس کے سر کو گدھے کا سر بنا دے یا اس کی صورت گدھے کی صورت جیسی بنا دے؟"

صحیح - متفق علیہ

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے امام سے پہلے اپنا سر اٹھانے والے کو یہ سخت وعید سنائی ہے کہ کہیں اس کے سر کو گدھے کا سر نہ بنا دے یا اس کی صورت گدھے کی صورت جیسی نہ بنا دے۔

ترجمہ: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان ایغور بنگالی زبان فرانسیسی زبان ترکی زبان روسی زبان بوسنیائی زبان سنہالی ہندوستانی چینی زبان فارسی زبان ویتنامی تجالوج کردی ہاؤسا پرتگالی سواحلی تھائی پشتو آسامی السويدية الأمهرية الغوجاراتية الدرية
ترجمہ دیکھیں

حدیث کے کچھ فوائد

  1. امام کے ساتھ مقتدیوں کی چار حالتیں ہو سکتی ہيں۔ ان میں تین حالتیں ممنوع ہیں۔ یعنی امام سے آگے بڑھ جانا، اس کے ساتھ ساتھ چلنا اور اس سے پیچھے رہ جانا۔ جب کہ ہونا یہ چاہیے کہ مقتدی امام کے اتباع کرے۔
  2. مقتدی کے لیے امام کی اتباع کرنا واجب ہے۔
  3. امام سے پہلے اپنا سر اٹھانے والے کے سر کو گدھے کا سر بنا دیا جائے، ایسا ممکن ہے۔ یہ ایک طرح کا مسخ ہے۔
مزید ۔ ۔ ۔