+ -

عن ابن عباس رضي الله عنهما:
كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول بين السجدتين: «اللَّهمَّ اغْفِرْ لي، وارْحَمْنِي، وعافِني، واهْدِني، وارزقْنِي».

[حسن بشواهده] - [رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمد] - [سنن أبي داود: 850]
المزيــد ...

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھا کرتے تھے : "اللَّهمَّ اغْفِرْ لي، وارْحَمْنِي، وعافِني، واهْدِني، وارزقْنِي"۔ (اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم کر، مجھے عافیت دے، میری رہ نمائی فرما اور مجھے رزق عطا کر۔)

صحیح - اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نماز کے اندر دو سجدوں کے بیچ یہ پانچ چیزیں مانگا کرتے تھے، جن کی ایک مسلمان کو بڑی ضرورت ہوتی ہے اور جن کے اندر دنیا اور آخرت دونوں جہان کی بھلائیاں سمٹ آئی ہيں۔ آپ اللہ سے گناہوں پر پردہ ڈالنے اور انھیں بخش دینے، اپنے اوپر رحمت کی چادر تان دینے، شکوک و شبہات، شہوتوں اور بیماریوں سے عافیت میں رکھنے، راہ حق پر چلانے اور اس پر مضبوطی سے قائم رکھنے اور ایمان، علم، عمل صالح اور رزق حلال عطا کرنے کی دعا کیا کرتے تھے۔

ترجمہ: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان ایغور بنگالی زبان فرانسیسی زبان ترکی زبان روسی زبان بوسنیائی زبان سنہالی ہندوستانی چینی زبان فارسی زبان ویتنامی تجالوج کردی ہاؤسا پرتگالی مليالم تلگو سواحلی تمل بورمی تھائی جاپانی پشتو آسامی الباني السويدية الأمهرية الهولندية الغوجاراتية القيرقيزية النيبالية اليوروبا الليتوانية الدرية الصومالية الكينياروندا المجرية التشيكية المالاجاشية
ترجمہ دیکھیں

حدیث کے کچھ فوائد

  1. دو سجدوں کے بیچ کے جلسے میں اس دعا کی مشروعیت۔
  2. ان دعاؤں کی فضیلت، جو دنیا و آخرت کی بھلائیوں پر مشتمل ہیں۔
مزید ۔ ۔ ۔