حدیث کی فہرست

مجھے سات اعضا پر سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے
عربي الإنجليزية الأوردية
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھا کرتے تھے : "اللَّهمَّ اغْفِرْ لي، وارْحَمْنِي، وعافِني، واهْدِني، وارزقْنِي"۔ (اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم کر، مجھے عافیت دے، میری رہ نمائی فرما اور مجھے رزق عطا کر۔)
عربي الإنجليزية الأوردية
اللہ کے رسول ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر تک اٹھاتے
عربي الإنجليزية الأوردية
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے اسی طرح تشہد سکھایا، جیسے قرآن کی سورہ سکھاتے تھے۔ اس وقت میری ہتھیلی آپ کی دونوں ہتھیلیوں کے بیچ میں تھی
عربي الإنجليزية الأوردية
سجدے میں اعتدال کو ملحوظ رکھو اورتم میں سے کوئی بھی شخص اپنے بازوؤں کو کتے کی طرح نہ بچھائے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ جس کی آمین ملائکہ کی آمین کے موافق ہو جاتی ہے اس کے پچھلےگناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جب تم سجدے کرو تو اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر رکھ دیا کرو اور اپنی کہنیوں کو اوپر اٹھائے رکھو"۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے، اسے چاہیے کہ گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھوں کو (زمین پر) رکھے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
ابن عمر رضی اللہ عنہما (نماز میں سجدے میں جاتے ہوئے) اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں سے پہلے (زمین پر) رکھتے تھے اور فرماتے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
ميں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ ﷺ اپنے دائیں طرف "السلام عليكم ورحمةُ اللهِ وبركاته" کہہ کر اور بائیں طرف "السلام عليكم ورحمةُ الله" کہہ کر سلام پھیرتے تھے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فجر کی دونوں رکعتوں میں {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} اور {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} پڑھی۔
عربي الإنجليزية الأوردية
لوگو! میں نے یہ سب کچھ اس لیے کیا، تاکہ تم میری اقتدا کرو اور میری نماز سیکھ لو۔‘‘
عربي الإنجليزية الأوردية
جب تم نماز پڑھو، تو اپنی صفیں درست کر لو۔ پھر تم میں سے ایک شخص تمھارا امام بن کر نماز پڑھائے۔ چنانچہ جب وہ تکبیر کہے، تو تم تکبیر کہو
عربي الإنجليزية الأوردية
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقینا میں تم سب کے مقابلے میں رسول اللہ ﷺ کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں۔ بےشک یہی آپ کی نماز ہوتی تھی تا آں کہ آپ دنیا سے رخصت ہو گئے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
سب سے برا چور وہ ہے، جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہو۔" کسی صحابی نے پوچھا کہ نماز میں چوری کرنے کا کیا مطلب ہے، تو آپ نے جواب دیا : "نماز میں چوری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی رکوع اور سجدہ مکمل طور پر ادا نہ کرے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب رکوع سے پیٹھ اٹھاتے، تو یہ دعا پڑھتے : "سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ
عربي الإنجليزية الأوردية
اللہ کے نبی صلی اللہ عليه وسلم دو سجدوں کے بیچ یہ دعا پڑھا کرتے تھے : "رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي"۔ (اے میرے رب! مجھے بخش دے۔ اے میرے رب مجھے بخش دے۔)
عربي الإنجليزية الأوردية
وہ ایک شیطان ہے، جسے خِِنزَب کہا جاتا ہے۔ جب تمھیں اس کے خلل انداز ہونے کا احساس ہو، تو اس سے اللہ کی پناہ مانگو اور اپنی بائیں جانب تین بار تھتکارو
عربي الإنجليزية الأوردية
رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تھے، تو جس وقت کھڑے ہوتے تکبیر کہتے، پھر جب رکوع کرتے تو تکبیر کہتے، پھر رکوع سے اپنی پیٹھ اٹھاتے تو ”سَمِعَ اللَّه لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہتے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
میں نے محمد ﷺ کے ساتھ نماز کو غور سے دیکھا۔ آپ ﷺ کا قیام، رکوع، رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا، آپ ﷺ کا سجدہ اور دونوں سجدوں کے مابین بیٹھنا، آپ ﷺ کا (دوسرا) سجدہ اور سلام پھیرنے اور (نمازيوں کی طرف) رُخ كرنے کے مابین آپ ﷺ کا بیٹھنا، میں نے یہ سب اعمال تقریبا برابر پائے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
نبی ﷺ مسجد میں تشريف لے گئے، تو ایک شخص مسجد ميں داخل ہوا، اس نے نماز پڑھی، پھر آپﷺ کے پاس آيا اورسلام کیا، آپﷺنے فرمایا: ”جاؤ پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“۔
عربي الإنجليزية الأوردية
نبی ﷺ اُمامہ بنت زینب بنت رسول اللہ ﷺ کو اٹھائے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
میں نے ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی، تو میں نے ان میں سے کسی کو بھی ”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم“ پڑھتے ہوئے نہیں سنا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو لشکر کی ایک ٹکری کا امیر بنا کر بھیجا، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے اور نماز میں (قراءت کا) اختتام ﴿قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ﴾ پر کرتے تھے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
میں اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ جب سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے اور جب سر اٹھاتے تو بھی تکبیر کہتے اور جب دو رکعات سے اٹھتے تو بھی تکبیر کہتے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
میں نے بنی کریم ﷺ کو مغرب کی نماز میں سورۂ طور پڑھتے سنا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
میں تمہیں نماز پڑھاؤں گا، اور میرا ارادہ نماز کا نہیں بلکہ (میں صرف یہ بتانے کے لئے) نماز پڑھوں گا کہ میں ںے رسول اللہ ﷺ کو کیسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے گنا ہوں کی مغفرت فرما اور مجھ سے جو زیادتی ہوئی ہو ان سے اور ان سب باتوں سے درگزر فرما جن کو تو مجھ سے زیادہ جا ننے والا ہے، تو ہی آگے بڑھانے والا اور پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں۔
عربي الإنجليزية الأوردية
رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے کے لئے قبا تشریف لے گئے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، آپ لوگوں کی امامت کر رہے تھے اور ابو العاص رضی اللہ عنہ کی بیٹی امامہ رضی اللہ عنہا جو نبی ﷺ کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کی بیٹی تھیں، آپ کے کندھے پر تھیں، جب آپ رکوع میں جاتے تو انھیں کندھے سے اتار دیتے اور جب سجدے سے اٹھتے تو پھر انہیں اپنے کندھے پر بٹھا لیتے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
نماز میں دو سیاہوں (یعنی) سانپ اور بچھو کو مار ڈالو۔
عربي الإنجليزية الأوردية
اپنی نماز کو اچھی طرح نہ پڑھنے والے کی حديث جس کو رفاعہ رضی اللہ عنہ نے روايت کيا ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ ﷺ کے دس صحابہ کرام کے درمیان جن میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے یہ کہنا کہ میں آپ لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں جانتا ہوں۔
عربي الإنجليزية الأوردية
رسول اللہ ﷺ نماز کی ابتدا تکبیر تحریمہ اور اَلْحَمْد لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
عربي الإنجليزية الأوردية
میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر سینے کے اوپر رکھا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
نبی کریم ﷺ، ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما نماز ”الحمد للہ رب العالمین“ کے ساتھ شروع کرتے تھے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
نبی کریم ﷺ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور دو مزید سورتیں پڑھتے تھے اور آخری دو رکعات میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھتے۔ کبھی کبھی ہمیں ایک آیت سنا بھی دیا کرتے تھے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہﷺ کے قیام کا اندازہ لگاتے تھے۔ ہم نے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قیام کا اندازہ الٓم :تنزيل (السجدہ) کی قراءت کے بقدر لگایا اور اس کی آخری دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ اس سے نصف کے بقدر لگایا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
میں نے رسول کریم ﷺ سے زیادہ مشابہت والی نماز فلاں شخص کے علاوہ کسی کے پیچھے نہیں پڑھی، چنانچہ ہم نے اس شخص کے پیچھے نماز پڑھی، وہ ظہر کی پہلی دونوں رکعتیں لمبی کرتے تھے، اور آخری دونوں رکعتیں ہلکی کرتے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
میں نے نبی کریم ﷺ کو مغرب کی نماز میں سورۃ الطور پڑھتے ہوۓ سنا۔ جب آپ اس آیت پر پہنچے ﴿ أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ، أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۚ بَل لَّا يُوقِنُونَ، أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ﴾ تو قریب تھا کہ میرا دل اڑ جائے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
رسول اللہ ﷺ کی نماز آپ کا رکوع کرنا، رکوع سے سر اٹھانا اور سجدہ کرنا، نیز دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً برابر برابر ہوتا تھا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
نبی ﷺ رکوع کرتے وقت اپنی انگلیاں کشادہ کر لیتے اور سجدہ کرتے وقت اپنی انگلیاں سمیٹ لیا کرتے تھے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جب نبی ﷺ اپنی نماز کی طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
نبی کریم ﷺ نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد قنوتِ نازلہ پڑھی۔ جس میں آپ ﷺ بنو سلیم کے قبیلوں کے حق میں بددعا کر رہے تھے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
نبیﷺ جب کسی قوم کے حق میں دعا یا کسی کے لیے بد دعا کرتے، تو اس صورت میں قنوت پڑھتے، ورنہ نہیں پڑھتے تھے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
اے ابا جان! آپ نے تو رسول اللہ ﷺ، ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمررضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ اور یہاں کوفہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے تقریبا پانچ سال تک نماز پڑھی ہے۔ کیا وہ لوگ فجر کی نماز میں قنوت پڑھا کرتے تھے؟۔ انھوں نے جواب دیا کہ میرے بیٹے! یہ (دین میں) ایک نئی ایجاد کردہ شے ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جب(نماز میں )بیٹھ کر دعا کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پراور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے اور اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے اوراپنا انگوٹھا اپنی د رمیانی انگلی پررکھتےاور بائیں گٹھنے کو اپنی بائیں ہتھیلی کے اندر لےلیتے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھتا کہ آپ ﷺ دائیں اور بائیں سلام پھیرتے تھے، یہاں تک کہ میں آپ ﷺ کے رخسار کی سفیدی دیکھ لیتا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
اہل کوفہ نے سعد یعنی ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی شکایت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کی تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو معزول کر کے عمار رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا حاکم بنایا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جب آپ ﷺ فجر کی آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھاتے تو ”سَمِعَ الله لمن حَمِدَه“ اور”رَبَّنا ولك الحَمْدُ“ کہنے کے بعد فرماتے:”اللهمَّ الْعَنْ فُلانًا وفُلانًا“(اے اللہ فلاں اور فلاں پر لعنت فرما)۔ اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ...﴾
عربي الإنجليزية الأوردية
اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، یا اللہ! بے بس و ناتواں مسلمانوں کو نجات بخش، اے اللہ! قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما، اے اللہ! ان پر يوسف عليہ السلام کے زمانے جيسی قحط سالی مسلط فرما۔
عربي الإنجليزية الأوردية
رسول اللہ ﷺ اپنی نماز کا آغاز ”اللَّهُ أَكْبَرُ“ کہہ کر فرمایا کرتے تھے اور﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ سے قراءت شروع کر تے تھے اور جب آپ ﷺ رکوع کرتے تو نہ اپنا سر اونچا رکھتے اور نہ اُسے جھکائے رکھتے بلکہ درمیان میں رکھتے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
رسول اللہ ﷺ جب تکبیرِ تحریمہ کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابر تک اٹھاتے اور آپ ﷺ جب رکوع کرتے تو اُس وقت بھی دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابرتک اٹھاتے۔
عربي الإنجليزية الأوردية