1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فقہ و اصولِ فقہ

حدیث نبیﷺ جب کسی قوم کے حق میں دعا یا کسی کے لیے بد دعا کرتے، تو اس صورت میں قنوت پڑھتے، ورنہ نہیں پڑھتے تھے۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم : كان لا يقنت إلا إذا دعا لقوم، أو دعا على قوم.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ جب کسی قوم کے حق میں دعا یا کسی کے لیے بد دعا کرتے، تو اس صورت میں قنوت پڑھتے، ورنہ نہیں پڑھتے تھے۔

صحیح اسے ابنِ خزیمہ نے روایت کیا ہے۔

شرح

حدیث میں وہ مواقع بیان کیے گئے ہیں، جہاں آپ علیہ الصلاۃ السلام قنوت پڑھتے تھے۔ یعنی کسی کے لیے دعا یا بد دعا کرتے وقت۔ اس سے حادثات میں قنوت کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ فرض نمازوں میں اس کے علاوہ کوئی قنوت وارد نہیں ہوا۔ یہ حادثات اور مصائب کے دنوں کے ساتھ خاص ہے۔ اس لیے کہ اللہ کے نبی ﷺ مسلمانوں کے لیے دعا مانگتے وقت یا کفار کے لیے بددعا مانگتے وقت قنوت پڑھتے تھے۔ نیز یہ کسی خاص نماز کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ تمام نمازوں میں اسے پڑھنا چاہیے۔

تراجم کا مشاہدہ

14 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا