عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنين رَضيَ اللهُ عنها قَالَتْ:
كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ، وَالقِرَاءَةِ، بِـ الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العَالَمِينَ، وَكَانَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَوِّبْهُ، وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا، وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ، وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ اليُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ اليُمْنَى، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عُقْبَةِ الشَّيْطَانِ، وَيَنْهَى أَنْ يَفْتَرِشَ الرَّجُلُ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ، وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ.

[صحيح] - [رواه مسلم] - [صحيح مسلم: 498]
المزيــد ...

امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں:
رسول اللہ ﷺ نماز کی ابتدا تکبیر تحریمہ اور اَلْحَمْد لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ کی قرأت سے کرتے تھے اور جب رکوع کرتے تو سر کو نہ اونچا رکھتے نہ نیچا بلکہ برابر سیدھا رکھتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے جب تک سیدھے کھڑے نہ ہوجاتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے جب تک سیدھے نہ بیٹھ جاتے اور ہر دو رکعتوں میں التحیات پڑھتے اور بائیں پاؤں کو بچھاتے اور اپنے دائیں پاؤں کو کھڑا کرتے اور شیطان کی طرح بیٹھنے سے منع فرماتے اور اس سے بھی منع فرماتے کہ درندوں کی طرح آدمی اپنے دونوں ہاتھ زمین پر بچھا دے اور آپ ﷺ سلام کے ساتھ نماز ختم کرتے۔

[صحيح] - [رواه مسلم] - [صحيح مسلم - 498]

شرح

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کی نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ اپنی نماز کا آغاز تکبیرِ تحریمہ سے کرتے اور ”اللہ اکبر“ کہتے، اور قراءت سورۃ الفاتحہ سے شروع فرماتے: ’’سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے واﻻ ہے...‘‘۔ جب آپ قیام کے بعد رکوع کرتے تو رکوع کے دوران نہ اپنا سر بلند کرتے اور نہ ہی اسے پست کرتے، بلکہ اسے برابر اور سیدھا رکھتے، جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سجدہ کرنے سے پہلے سیدھے کھڑے ہو جاتے، اور جب پہلے سجدے سے سر اٹھاتے تو دوسرا سجدہ اس وقت تک نہ کرتے جب تک اطمینان سے بیٹھ نہ جاتے۔ آپ ﷺ ہر دو رکعتوں کے بعد تشہد کے لیے بیٹھتے اور ’’التحيات لله والصلوات والطيبات...‘‘ پڑھتے تھے، اور جب آپ ﷺ دونوں سجدوں کے درمیان یا تشہد کے لیے بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھ جاتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے۔ نمازی کے لیے اپنی نماز میں شیطان کی طرح بیٹھنا منع ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ وہ اپنے دونوں پاؤں زمین پر بچھا لے اور اپنی ایڑیوں پر بیٹھے، یا اپنی سرین کو زمین سے چپکا لے، اپنی پنڈلیوں کو کھڑا رکھے اور اپنے ہاتھوں کو زمین پر کتے کی طرح بچھا دے، یا یہ کہ نمازی سجدے میں اپنے بازوؤں کو درندوں کی طرح پھیلا دے۔ آپ ﷺ اپنی نماز کا اختتام ایک بار دائیں اور دوسری بار بائیں طرف ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ“ کہہ کر سلام پھیرنے کے ساتھ فرماتے تھے۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. نبی ﷺ کی نماز کے طریقہ کا کچھ بیان۔
  2. تکبیر تحریمہ کا واجب ہونا، جو نماز کے اقوال وافعال کے منافی ہر قول و فعل کو حرام کر دیتی ہے، اور یہ کہ نماز میں داخل ہونے کے لیے اس کے علاوہ کوئی دوسرا صیغہ اس کا قائم مقام نہیں ہو سکتا۔
  3. سورۂ فاتحہ پڑھنے کا وجوب۔
  4. رکوع کا وجوب، اور اس میں (پشت کو) برابر رکھنا افضل ہے، نہ بلند اور نہ پست۔
  5. رکوع سے سر اٹھانا، اور اس کے بعد سیدھا کھڑا ہونا واجب ہے۔
  6. سجدے کا وجوب، اس سے سر اٹھانے کا وجوب، اور اس کے بعد اعتدال سے بیٹھنا۔
  7. نماز میں بیٹھنے کی حالت میں نمازی کا بائیں پیر کو بچھا کر بیٹھنا اور دائیں پیر کو کھڑا کرنا مشروع ہے، البتہ مغرب اور عشاء جیسی دو تشہد والی نمازوں کے آخری تشہد میں تورک کرنا مشروع ہے، اس سلسلے میں دوسری احادیث بھی وارد ہوئی ہیں۔
  8. بیٹھنے کے انداز میں شیطان کی مشابہت اختیار کرنے کی ممانعت، اس کی صورت یہ ہے کہ آدمی اپنی ایڑیوں پر بیٹھے اور اپنے دونوں پاؤں زمین پر بچھا لے، یا انہیں کھڑا کر کے ان کے درمیان زمین پر بیٹھ جائے۔
  9. درندوں کی طرح بازو پھیلانے میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ نمازی اپنے دونوں بازوؤں کو زمین پر پھیلا دے، کیونکہ یہ سستی اور کمزوری کی دلیل ہے۔
  10. نماز کے افعال میں شیطان اور جانوروں کی مشابہت اختیار کرنے کی ممانعت۔
  11. نماز کو سلام پھیر کر ختم کرنا واجب ہے، اور یہ نمازیوں، حاضرین اور غائب صالحین کے لیے تمام شرور اور نقائص سے سلامتی کی دعا ہے۔
  12. نماز میں اطمینان کا وجوب۔
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان مزید ۔ ۔ ۔ (33)
مزید ۔ ۔ ۔