عَنْ وَائِل بن حُجرٍ رضي الله عنه قَالَ:
صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ»، وَعَنْ شِمَالِهِ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ».

[حسن] - [رواه أبو داود] - [سنن أبي داود: 997]
المزيــد ...

وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں:
ميں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ ﷺ اپنے دائیں طرف "السلام عليكم ورحمةُ اللهِ وبركاته" کہہ کر اور بائیں طرف "السلام عليكم ورحمةُ الله" کہہ کر سلام پھیرتے تھے۔

[حَسَنْ] - [اسے ابو داود نے روایت کیا ہے] - [سننِ ابو داود - 997]

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب اپنی نماز سے نکلنا چاہتے تھے، تو دائيں اور بائيں سلام پھیرتے تھے۔ سلام پھیرنے کا طریقہ یہ تھا کہ پہلے اپنے چہرے کو دائيں جانب پھیرتے ہوئے "السلام عليكم ورحمة الله وبركاته" کہتے اور اس کے بعد بائیں جانب پھیرتے ہوئے "السلام عليكم ورحمة الله" کہتے۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. نماز میں دو سلام ہیں اور سلام پھیرنا نماز کا ایک رکن ہے۔
  2. کبھی کبھی "وبركاته" بڑھا لینا مستحب ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس لفظ کا استعمال ہمیشہ نہیں کرتے تھے۔
  3. نماز میں دونوں سلاموں کے الفاظ کو زبان سے ادا کرنا ایک رکنِ واجب ہے۔ لیکن سلام کے الفاظ کو زبان سے ادا کرتے ہوئے منہ پھیرنا مستحب ہے۔
  4. "السلام عليكم ورحمة الله" منہ پھیرتے ہوئے کہنا چاہیے۔ نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان مزید ۔ ۔ ۔ (44)
مزید ۔ ۔ ۔