عن وائل بن حجر-رضي الله عنه- قال: «صلَّيت مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، ووضع يَدَه اليُمْنَى على يَدِه اليُسْرى على صَدْرِه».
[صحيح] - [رواه ابن خزيمة.]
المزيــد ...

وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر سینے کے اوپر رکھا۔
صحیح - اسے ابنِ خزیمہ نے روایت کیا ہے۔

شرح

”اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا“ جب ’یَد‘ کا استعمال مطلقاً کہا جائے تو اس سے مراد ہتھیلی ہوتی ہے۔ اس کی تائید ابوداؤد اور نسائی کی وہ روایت کرتی ہے جس میں ہے ”ثم وضع يده اليُمنى على ظهر كفه اليُسرى والرُّسْغ والساعد“ یعنی پھر آپ نے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی، پہنچے اور کلائی پر رکھا۔ ’رسغ‘ ہتھیلی اور کلائی کے درمیان جوڑ کو کہتے ہیں۔ ”اپنے سینے پر“ یعنی نماز میں دورانِ قیام اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں پر اور پھر دونوں ہاتھوں کو سینے کے اوپر رکھا۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی ایغور ہاؤسا
ترجمہ دیکھیں