1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فقہ و اصولِ فقہ

حدیث میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر سینے کے اوپر رکھا۔

عن وائل بن حجر رضي الله عنه قال: «صلَّيت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ووضع يَدَه اليُمْنَى على يَدِه اليُسْرى على صَدْرِه».

وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر سینے کے اوپر رکھا۔

صحیح اسے ابنِ خزیمہ نے روایت کیا ہے۔

شرح

”اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا“ جب ’یَد‘ کا استعمال مطلقاً کہا جائے تو اس سے مراد ہتھیلی ہوتی ہے۔ اس کی تائید ابوداؤد اور نسائی کی وہ روایت کرتی ہے جس میں ہے ”ثم وضع يده اليُمنى على ظهر كفه اليُسرى والرُّسْغ والساعد“ یعنی پھر آپ نے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی، پہنچے اور کلائی پر رکھا۔ ’رسغ‘ ہتھیلی اور کلائی کے درمیان جوڑ کو کہتے ہیں۔ ”اپنے سینے پر“ یعنی نماز میں دورانِ قیام اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں پر اور پھر دونوں ہاتھوں کو سینے کے اوپر رکھا۔

تراجم کا مشاہدہ

15 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا