عن البراء -رضي الله عنه- قال: بعث النبي -صلى الله عليه وسلم- خالد بن الوليد إلى أهل اليمن يَدْعُوهُمْ إلى الإسلام فَلَمْ يُجِيبُوهُ، ثم إنَّ النبي -صلى الله عليه وسلم- بعث علي بن أبي طالب، وأمره أن يَقْفُلَ خالد ومن كان معه إلا رجل ممن كان مع خالد أحب أن يُعَقِّبَ مع علي -رضي الله عنه- فَلْيُعَقِّبْ معه قال البراء فَكُنْتُ مِمَّنْ عَقَّبَ مَعَهُ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ القوم خرجوا إلينا فصلى بنا عليٌّ -رضي الله عنه- وَصَفَّنَا صَفًّا واحدا، ثم تقدَّم بين أيدينا، فقرأ عليهم كتاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فَأَسْلَمَتْ هَمْدَانُ جَمِيعًا، فكتب علي -رضي الله عنه- إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بإسلامهم، فلمَّا قرأ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- الكتاب خَرَّ ساجدا، ثم رفع رأسه، فقال: السَّلَامُ عَلَى هَمْدَانَ، السلامُ على هَمْدَانَ.
[حسن.] - [رواه البيهقي.]
المزيــد ...

براء رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خالد بن ولید رضی الله عنہ کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے یمن بھیجا، مگر انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کو وہاں بھیجا، اور اس بات كا حکم دیا کہ خالد بن ولید رضی الله عنہ اور ان کے ساتھی واپس لوٹ آئیں الا یہ کہ کوئی ان میں سے علی رضی الله عنہ کے ساتھ وہاں رکنا چاہے تو وہ رک سکتا ہے۔چناں چہ براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جو علی رضی الله عنہ کے ساتھ ٹھہر گئے. جب ہم اہل یمن کے بالکل نزدیک پہنچے تو وہ بھی نکل کر ہمارے سامنے آگئے، علی رضی الله عنہ نے آگے بڑھ کر ہمیں نماز پڑھائی پھر انہوں نے ہماری ایک صف بنائی اور ہم سے آگے کھڑے ہوکر ان کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا خط پڑھ کر سنایا، چناں چہ قبیلہ ھمدان کےسارے ہی لوگ مسلمان ہوگیے، علی رضی الله عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں قبیلہ ھمدان کے مسلمان ہونے (کی خوش خبری) کا خط بھیجا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ خط پڑھا تو (اللہ تعالی کا شکر بجا لاتے ہوئے) فوراً سجدہ میں گر گئے. پھر آپ ﷺ نے سجدہ سے سر اٹھا کر قبیلہ ھمدان کو دعا دی کہ ھمدان پر سلامتی ہو، ھمدان پر سلامتی ہو۔

شرح

حدیث مذکور میں اس بات کا بیان ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو جب کبھی کوئی خوشی حاصل ہوتی تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہو جاتے، اسی سلسلے کا ایک واقعہ وہ بھی ہے جو علی رضی الله عنہ کے ساتھ پیش آیا، جب اہل یمن نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اسلام لانے سے انکار کردیا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں اسلام کی دعوت دینے کے لیے یمن بھیجا اور علی رضی الله عنہ نے جب انہیں اسلام کی دعوت دی تو قبیلہ ھمدان کے سارے ہی لوگ مسلمان ہو گیے، پھر انہوں نے نبی صلی الله علیہ والہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ ھمدان کے مسلمان ہونے کی خوش خبری کا خط بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے فورا ًسجدہ میں گر گئے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان ہسپانوی زبان ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان بنگالی زبان
ترجمہ دیکھیں