+ -

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم:
«اللهم لا تجعل قبري وثنًا، لعن الله قومًا اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد».

[صحيح] - [رواه أحمد] - [مسند أحمد: 7358]
المزيــد ...

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
”اے اللہ! میری قبر کو بت نہ بنانا۔ ان لوگوں پر اللہ کا شدید غضب نازل ہو، جنھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا“۔

صحیح - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب سے دعا کی ہے کہ وہ آپ کی قبر کو اس بت کی طرح بننے نہ دے، لوگ جس کی عبادت کرتے ہيں۔ مثلا اس کی غلو آمیز تعظیم کرتے ہیں اور اس کی جانب منہ کرکے سجدہ کرتے ہیں۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ نے ان لوگوں کو اپنی رحمت سے دور کر دیا، جنھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنا لیا، کیوں کو ان کو مسجد بنانا ان کی عبادت اور ان کے بارے میں غلو آمیز عقیدے کا ذریعہ ہے۔

ترجمہ: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان ایغور بنگالی زبان فرانسیسی زبان ترکی زبان روسی زبان بوسنیائی زبان سنہالی ہندوستانی چینی زبان فارسی زبان ویتنامی تجالوج کردی ہاؤسا پرتگالی مليالم تلگو سواحلی تمل بورمی تھائی جرمنی جاپانی پشتو آسامی الباني السويدية الأمهرية الهولندية الغوجاراتية القيرقيزية النيبالية اليوروبا الليتوانية الدرية الصومالية الطاجيكية الكينياروندا الرومانية المجرية التشيكية
ترجمہ دیکھیں

حدیث کے کچھ فوائد

  1. نبیوں اور نیک لوگوں کے بارے میں شرعی حد سے آگے بڑھنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ کے علاوہ ان کی عبادت ہونے لگتی ہے۔ اس لیے شرک کے وسائل سے بچنا ضروری ہے۔
  2. قبروں کی تعظیم اور ان کے پاس عبادت کرنے کے لیے ان کا رخ کرنا جائز نہيں ہے، چاہے قبر میں مدفون شخص اللہ سے جتنا بھی قریب ہو۔
  3. قبروں پر مسجد بنانا حرام ہے۔
  4. قبروں کے پاس نماز پڑھنا حرام ہے، چاہے وہاں مسجد نہ بھی بنائی گئی ہو۔ البتہ ایسے جنازے کی نماز اس سے مستثنی ہے، جس پر نماز نہ پڑھی گئی ہو۔
مزید ۔ ۔ ۔