وہ ایسے لوگ تھے کہ اگر ان میں سے کوئی نیک بندہ (یا یہ فرمایا کہ) نیک آدمی مر جاتا، تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے
میری قبر کو عید ( میلا) نہ بنا لینا اور نہ ہی اپنے گھروں کو قبرستان بننا۔ مجھ پر درود وسلام بھیجا کرو۔ کیوں کہ تمھارا بھیجا گیا سلام مجھ تک پہنچتا ہے چاہے، تم جہاں بھی ہو۔
جو شخص ہماری مسجدوں یا ہمارے بازاروں میں سے کہیں سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہوں تو اسے چاہیے کہ انہیں تھامے رکھے یا پھر اپنی ہتھیلی سے ان کے پھلوں (پیکان) کو پکڑے رکھے تا کہ مسلمانوں میں سے کسی کو ان سے کچھ گزند نہ پہنچے۔
اگر تم اس علاقے کے ہوتے، تو میں تمھیں سختی کے ساتھ مارتا؛ تم رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں اپنی آوازیں بلند کر رہے ہو!
میری اس مسجد میں پڑھی گئی ایک نماز مسجد حرام کے علاوہ دیگر مسجدوں میں پڑھی گئی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے"۔
جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو، تو یہ دعا پڑھے : "اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ" (اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔) اور جب مسجد سے نکلے تو یہ دعا پڑھے : "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ" (اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔)
لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آنے والا ان کے پاس آیا، اور اس نے کہا کہ آج کی رات نبی ﷺ پر قرآن نازل کیا گیا ہے اور آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ کعبہ کی طرف رخ کریں۔ لہذا آپ لوگ بھی کعبہ کی طرف رخ کرليں
اے بنوسلمہ! اپنے گھروں میں ہی رہو، تمھارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں، اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں۔
میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے، تو میں نے ان میں سب سے بہتر عمل راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے اور سب سے برا عمل مسجد میں بلغم نکال پھینکنے اور اسے دفن نہ کرنے کو پایا۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ مقامات، مساجد ہیں اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ مقامات بازار ہیں۔
ان مسجدوں میں پیشاب اور نجاست مناسب نہیں ہیں۔ یہ تو اللہ تعالی کے ذکر اور قرآن پڑھنے كے لئے بنائی گئی ہیں۔
ایک آدمی نے مسجد میں آواز لگائی اور اس نے کہا کہ میرا سرخ اونٹ کون لے گیا ہے تو نبی ﷺ نے فرمایا: تجھے وہ نہ ملے، کیونکہ مسجدیں انہی کاموں کے لیے ہوتی ہیں جن کے لیے بنائی گئی ہیں۔
میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تم نے رسول اللہﷺ سے یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ میری طرف سے جواب دے، اے اللہ! روح القدس کے ذریعے اس کی مدد فرما‘؟ تو انھوں نے کہا: اے اللہ تو (گواہ رہنا) ہاں۔ (میں نے سنا تھا)۔
جو آدمی سنے کہ کوئی شخص مسجد میں کسی گم شدہ چیز کا اعلان کرکر کے ڈھونڈتا پھرتا ہے تو اسے کہے کہ: اللہ کرے یہ چیز تجھے نہ ملے۔ مساجد اس مقصد کے لیے تو نہیں بنائی گئیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں خرید وفروخت کررہاہو تو کہو: اللہ تعالیٰ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے، اور جب ایسے شخص کودیکھوجو مسجد میں گمشدہ چیز (کا اعلان کرتے ہوئے اُسے) تلاش کرتاہو تو کہو : اللہ تمہاری چیزتمہیں نہ لوٹائے
قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ لوگ مسجدوں (کو تعمیر کرنے) کے سلسلے میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگ جائیں گے۔
نبی ﷺ جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج اچھی طرح طلوع ہو جاتا۔
جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو نبی ﷺ پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ
رسول اللہ ﷺ نے گھڑ سواروں کا ایک دستہ نجد کی طرف روانہ کیا۔ وہ قبیلہ بنو حنیفہ کے سرداروں میں سے ایک شخص ثمامہ بن اثال نامی کو پکڑ کر لائے اور مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا۔۔
غزوۂ خندق کے دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے، قبیلۂ قریش کے ایک شخص حبان بن عرقہ نامی نے ان پر تیر چلایا تھا اور وہ ان کے بازو کی رگ میں آ کے لگا تھا، تو رسول اکرم ﷺ نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگایا تاکہ آپ قریب سے ان کی عیادت کر سکیں۔
وہ لونڈی میرے پاس آتی اور مجھ سے باتیں کیا کرتی تھی۔ جب بھی وہ میرے پاس آتی تو یہ ضرور کہتی: وَيَوْمَ الْوِشَاحِ مِنْ أَعَاجِيبِ رَبِّنَا --- أَلَا إِنَّهُ مِنْ بَلْدَةِ الْكُفْرِ أَنْجَانِي (کمر بند کا دن ہمارے رب کی عجیب نشانیوں میں سے ہے۔ اسی نے مجھے کفر کے ملک سے نجات دی)۔