1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فقہ و اصولِ فقہ

حدیث جو شخص ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ اور تینتیس مرتبہ اللہ اکبر کہے، تو یہ کل ننانوے مرتبہ ہوا اور سو کی عدد پورا کرتے ہوئے ‘‘لا إله إلا الله وحْدَه لا شريك له له المُلك وله الحَمد وهو على كلِّ شيء قَدِير’’ (اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہيں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے) کہے، تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کی طرح ہوں"۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«مَنْ سَبَّحَ اللهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَحَمِدَ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبَّرَ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، فَتْلِكَ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، وَقَالَ: تَمَامَ الْمِائَةِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ غُفِرَتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
"جو شخص ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ اور تینتیس مرتبہ اللہ اکبر کہے، تو یہ کل ننانوے مرتبہ ہوا اور سو کی عدد پورا کرتے ہوئے ‘‘لا إله إلا الله وحْدَه لا شريك له له المُلك وله الحَمد وهو على كلِّ شيء قَدِير’’ (اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہيں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے) کہے، تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کی طرح ہوں"۔

صحيح رواه مسلم صحيح مسلم - 597

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جس نے فرض نماز سے فارغ ہونے کے بعد ان اوراد کا اہتمام کیا :
تینتیس بار سبحان اللہ۔ اس کے ذریعے تمام نقائص سے اللہ کے پاک ہونے کا اعلان کیا جاتا ہے۔
تینتیس بار "الحمد لله"۔ اس کے ذریعے اللہ تعالی کو اس کی محبت اور تعظیم کے ساتھ اوصاف کمال سے متصف کیا جاتا ہے۔
تینتیس بار اللہ اکبر۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تمام چيزوں سے عظیم اورسب سے بڑھ کر شان والا ہے۔
اور سو کی گنتی پوری کرنے کے لیے کہا جائے گا : "لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شيء قدير"۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہيں، بس وہی اکیلے مکمل بادشاہت رکھتا ہے اور تمام تعریفات کا وہی مستحق ہے، وہ قادر مطلق ہے، اسے کوئی چیز عاجز و بے بس نہيں کر سکتی۔
جس نے اس ذکر کا اہتمام کیا، اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہيں اور مٹادیے جاتے ہیں، چاہے وہ سمندر میں موجوں اور لہروں کے وقت ظاہر ہونے والے سفید جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. فرض نمازوں کے بعد اس ذکر کو پڑھنا مستحب ہے۔
  2. یہ ذکر گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے۔
  3. اللہ کا عظیم فضل و کرم اور رحمت و مغفرت۔
  4. یہ ذکر گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے۔ یاد رہے کہ اس سے صغیرہ گناہ ہی معاف ہوتے ہيں۔ کبیرہ گناہ کے لیے توبہ ضروری ہے۔

تراجم کا مشاہدہ

56 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
BN বাংলা البنغالية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TA தமிழ் التاميلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
KY Кыргызча القيرقيزية
NE नेपाली النيبالية
YO Yorùbá اليوروبا
LT Lietuvių الليتوانية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
SO Soomaali الصومالية
TG тоҷикӣ الطاجيكية
RW Kinyarwanda الكينياروندا
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
CS Čeština التشيكية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
OM Oromoo الأورومو
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
AZ Azərbaycan الأذربيجانية
UZ O‘zbek الأوزبكية
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية
KMR Kurmancî الكرمنجية