نماز کی فرضیت اور اسے چھوڑنے والے کا حکم

10حدیث کی فہرست

حدیث کی فہرست 10

”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے
جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی، اس کا عمل ضا‏ئع ہو گیا۔
”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے
جو شخص کسی نماز کو بھول جائے، تو وہ اسے اسی وقت پڑھ لے، جب یاد آ جائے۔ اس کے علاوہ اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے
''بے شک آدمی اور شرک و کفر کے درمیان (فاصلہ مٹانے والا عمل) نماز کا ترک کرنا ہے''۔
”ہمارے اور ان (کافروں) کے درمیان جو عہد و میثاق ہے، وہ نماز ہے۔ جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا“
نبی کریم ﷺ کے پاس اس آدمی کا ذکر کيا گيا جو رات کو سویا اور صبح ہونے تک سویا رہا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ایسا آدمى ہے کہ شیطان نے پیشاب کر دیا اس کے دونوں کانوں میں، یا فرمایا: جس کے کان میں“۔
اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو، جب ان کی عمر سات سال ہو جائے اور انھیں اس کے لیے مارو، جب ان کی عمر دس سال ہو جائے اور ان کے بستر الگ الگ کر دو۔
میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے اور قبیلہ سعد بن بکر سے تعلق رکھتا ہوں۔
’’جس نے ہماری نماز پڑھی، ہمارے قبلے کا استقبال کیا اور ہمارا ذبیحہ کھایا، تو وہی مسلمان ہے جس کے لیے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ ہے، اس لیے اللہ کے ذمہ کو نہ توڑو۔‘‘