عن عائشة -رضي الله عنها- مرفوعاً: «إذا نَعَسَ أحدكم وهو يصلي فَلْيَرْقُدْ حتى يذهب عنه النوم، فإن أحدكم إذا صلى وهو نَاعِسٌ لا يدري لعله يذهب يستغفر فَيَسُبُّ نَفْسَهُ».
[صحيح.] - [متفق عليه.]
المزيــد ...

عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا روایت ہے کہ: ’’جب تم میں سے کسی شخص کو نماز پڑھتے ہوئے اونگھ آئے تو اسے چاہیے کہ وہ سو جائے، یہاں تک کہ اس کی نیند دور ہوجائے۔ کیوں کہ جب تم میں سے کوئی اونگھتے ہوئے نماز پڑھے گا، تو پتہ نہيں ہوسکتا ہے کہ وہ استغفار کرنے لگے تواپنے آپ ہی کو برا کہنے لگ جائے۔‘‘

شرح

حدیث کا موضوع یہ ہے کہ عبادت سے نفس کو تھکانا ناپسندیدہ ہے۔ لہٰذا جب نمازی دورانِ نماز نیند کا غلبہ محسوس کرے تو اسے چاہيے کہ نماز توڑ کر یا پوری کر کے سوجائے اور اپنے نفس کو راحت و آرام پہنچائے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ تکان کی حالت میں وہ اپنے آپ پر بد دعا کر بیٹھے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان ہسپانوی زبان ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان بنگالی زبان چینی زبان
ترجمہ دیکھیں