عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: ما صلّى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بعد أن نَزَلت عليه: (إذا جاء نصرُ الله والفتح..) إلا يقول فيها: «سُبْحَانَكَ اللهم ربَّنا وبحمدك، اللَّهُمَّ اغفر لي». وفي لفظ: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يكثر أن يقولَ في ركوعه وسجوده: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ ربنا وبحمدك، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لي».
[صحيح.] - [متفق عليه.]
المزيــد ...

عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ﴾ کے نازل ہونے کے بعد کوئی ایسی نماز نہیں پڑھی، جس میں آپ یہ نہ پڑھتے ہوں: ”سُبْحَانَكَ اللهم ربَّنا وبحمدك، اللَّهُمَّ اغفر لي“ پاک ہے تو اے ہمارے رب! اپنی خوبیوں کے ساتھ اے اللہ! مجھے بخش دے۔ ایک اور روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ کثرت سے اپنے رکو ع وسجود میں یہ دعا پڑھتے تھے: ”سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ ربنا وبحمدك، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لي“ پاک ہے تو اے ہمارے رب! اپنی خوبیوں کے ساتھ اے اللہ! مجھے بخش دے۔
صحیح - متفق علیہ

شرح

عائشہ رضی اللہ عنہا اس حدیث میں بیان فرما رہی ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ پر سورۃ النصر نازل فرمائی اور آپ نے اس علامت یعنی نصرت اور فتح مکہ کو دیکھ لیا، تو فورا اللہ تعالیٰ کے حکم ﴿فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ﴾ ” آپ اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ جائیے حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگیے“ کی تعمیل میں لگ گئے۔ چنانچہ آپ کثرت سے یہ ذکر ((سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي)) پڑھتے تھے۔ ان کلمات میں اللہ تعالیٰ کی تمام نقائص سے پاکی، اس کی حمد وثنا کا تذکرہ اور اخیر میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی طلب جیسی چیزوں کو جمع کر دیا گیا ہے۔ آپ اپنی ہر فرض اور نفل نماز کے رکوع و سجود میں یہ تسبیح پڑھتے تھے۔ یہ سورت رسول اللہ ﷺ کی وفات کے قریب ہونے کی علامت بھی تھی۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی ایغور کردی ہاؤسا پرتگالی
ترجمہ دیکھیں