عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضيَ اللهُ عنهما:
سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى المِنْبَرِ، مَا تَرَى فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ، قَالَ: «مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ الصُّبْحَ صَلَّى وَاحِدَةً، فَأَوْتَرَتْ لَهُ مَا صَلَّى» وَإِنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «اجْعَلُوا آخِرَ صَلاَتِكُمْ وِتْرًا» فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِهِ.
[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح البخاري: 472]
المزيــد ...
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں:
ایک آدمی نے نبی ﷺ سے اس وقت سوال کیا جب آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے، کہ رات کی نماز کے بارے میں آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’دو دو رکعت کر کے (پڑھو)، اور جب صبح ہونے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو، وہ تمہاری ساری نماز کو طاق کر دے گی۔‘‘ اور آپ ﷺ یہ بھی فرماتے تھے: ’’اپنی آخری نماز وتر کو بناؤ‘‘، چناں چہ نبی ﷺ نے اسی کا حکم دیا۔
[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح البخاري - 472]
ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے اس وقت سوال کیا جب آپ ﷺ منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے: ”یا رسول اللہ! مجھے سکھائیے کہ میں رات کی نماز کیسے پڑھوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر دو رکعت پر سلام پھیرو، جب صبح ہونے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو، جو تمہاری پڑھی ہوئی نماز کو وتر بنا دے گی۔ آپ ﷺ رات کی آخری نماز کو وتر بنانے کی وصیت فرماتے تھے۔