عن صالح بن خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ -رضي الله عنه- عمّن صلَّى مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- صلاة ذَاتِ الرِّقَاعِ صلاةَ الخوف: أن طائفة صفَّت معه، وطائفة وِجَاهَ الْعَدُوِّ، فصلَّى بالذين معه ركعة، ثم ثبت قائما، وأتموا لأنفسهم، ثم انصرفوا، فصفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ، وجاءت الطائفة الأخرى، فصلَّى بهم الركعة التي بقيت، ثم ثبت جالسا، وأتموا لأنفسهم، ثم سلَّم بهم.
[صحيح.] - [متفق عليه.]
المزيــد ...

صالح بن خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ ایک ایسے صحابی سے روایت کرتے ہیں جنہوں نے غزوۂ ذات الرقاع میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز خوف پڑھی تھی۔ (خوف کی نماز کا طریقہ یوں) نقل کرتے ہیں کہ (اس دن) ایک جماعت نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ( نماز کے لیے) صف بندی کی اور دوسری جماعت دشمن کے مقابل صف آرا ہو گئی۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس جماعت کو جو آپ ﷺ کے ساتھ تھی، ایک رکعت نماز پڑھائی اور پھر آپ ﷺ کھڑے رہے اور اس جماعت نے خود اپنی نماز پوری کی (یعنی جماعت میں شامل لوگوں نےدوسری رکعت تنہا پڑھ لی) پھر اس کے بعد یہ جماعت (نماز سے فارغ ہو کر) واپس ہوئی اور دشمن کے مقابل صف آرا ہوگئی اور وہ جماعت جو دشمن کے مقابل صف آرا تھی (نماز کے لیے) آگئی۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے وہ دوسری رکعت، جو باقی رہ گئی تھی، اس جماعت کے ساتھ پڑھی اور (تشہد میں) بیٹھے رہے اور پھر اس جماعت نے خود اپنی نماز پوری کی اور پھر آپ ﷺ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔
صحیح - متفق علیہ

شرح

نبی ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ ایک غزوے میں تشریف لے گئے، جس میں اکثر صحابہ پیدل تھے۔ جب وہ پاؤں ننگے ہونے کی وجہ سے نڈھال ہو گئے، تو اپنے قدموں پر کپڑوں کے چیتھڑے لپیٹ لیے۔ نبی ﷺ کا دشمن کے ساتھ آمنا سامنا تو ہوا، لیکن قتال کی نوبت نہ آئی، تاہم مسلمانوں نے اپنے دشمنوں کو خوف زدہ ضرور کر دیا۔ اس حدیث کی رو سے دشمن قبلے کی سمت میں نہیں تھے، کیوںکہ ان کے گھر مدینے کے مشرقی جانب تھے۔ چنانچہ نبی ﷺ نے مسلمانوں کے دو گروہ بنا دیے۔ ایک گروہ نے نماز کے لیے صف بندی کر لی اور دوسرا گروہ نمازیوں کے پیچھے موجود دشمن کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ نبی ﷺ نے اپنے ساتھ موجود لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی۔ پھر آپ ﷺ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ ﷺ کھڑے رہے، جب کہ لوگوں نے خود ہی اپنی دوسری رکعت پوری کی اور سلام پھیر دیا اور دشمن کی جانب چلے گئے۔ پھر دوسرا گروہ آ گیا۔ آپ ﷺ نے انہیں باقی ماندہ ایک رکعت پڑھائی۔ پھر آپ ﷺ بیٹھے رہے، یہاں تک کہ لوگوں نے کھڑے ہو کر خود ہی ایک اور رکعت پڑھ لی۔ پھر آپ ﷺ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔ پہلے گروہ کو امام کے ساتھ تکبیر تحریمہ کہنے کی خصوصیت حاصل ہوئی اور دوسرے کو نماز سے نکلنے یعنی امام کے ساتھ سلام پھیرنے کی خصوصیت ملی۔ یوں آپ ﷺ نے دشمن کو حملہ کرنے کا موقع نہ دیا اور اس کے ساتھ ساتھ امام کے ساتھ نماز کی فضیلت پانے میں بھی سب برابر کے شریک رہے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی ایغور ہاؤسا پرتگالی
ترجمہ دیکھیں