عن معاوية بن الحَكم السُّلَمي -رضي الله عنه- قال: بَيْنَا أنا أُصلِّي مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، إذ عَطَس رجُل من القوم، فقلت: يَرْحَمُكَ الله، فَرَمَانِي القوم بأبْصَارهم، فقلت: وَاثُكْلَ أُمِّيَاهْ، ما شَأنُكُم تنظرون إليَّ؟، فجعلوا يضربون بأيْدِيهم على أفْخَاذِهم، فلما رأيتهم يُصَمِّتُونَنِي لكنِّي سَكَتُّ، فلما صلَّى رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فَبِأَبِي هو وأمِّي، ما رأيت معَلِّما قَبْلَه ولا بَعده أحْسَن تَعليما منه، فوالله، ما كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبني وَلَا شَتَمَنِي، قال: «إن هذه الصلاة لا يَصلح فيها شيء من كلام الناس، إنما هو التَّسبيح والتَّكبير وقراءة القرآن»، أو كما قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قلت: يا رسول الله، إنِّي حديث عَهد بِجَاهلية، وقد جاء الله بالإسلام، وإن مِنَّا رجَالا يَأتون الكُهَّان، قال: «فلا تَأْتِهِم» قال: ومِنَّا رجَال يَتَطَيَّرُونَ، قال: ذَاك شَيء يَجِدونه في صُدورهم، فلا يَصُدَّنَّهُمْ -قال ابن الصَّبَّاحِ: فلا يَصُدَّنَّكُم- قال قلت: ومِنَّا رجال يَخُطُّونَ، قال: «كان نَبِي من الأنبياء يَخُطُّ، فمن وافق خَطَه فَذَاك»، قال: وكانت لي جَارية تَرعى غَنَما لي قِبَل أُحُدٍ والْجَوَّانِيَّةِ، فَاطَّلَعْتُ ذات يوم فإذا الذِّيب قد ذهب بِشَاة من غَنَمِهَا، وأنا رجُلٌ من بَني آدم، آسَف كما يَأْسَفُونَ؛ لكني صَكَكْتُهَا صَكَّة، فَأَتَيْت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فَعظَّم ذلك عليَّ، قلت: يا رسول الله أفلا أُعْتِقُهَا؟ قال: «ائْتِنِي بها»، فَأَتَيْتُهُ بها، فقال لها: «أَيْن الله؟» قالت: في السَّماء، قال: «من أنا؟»، قالت: أنت رسول الله، قال: «أَعْتِقْهَا، فَإِنها مُؤْمِنَةٌ».
[صحيح.] - [رواه مسلم.]
المزيــد ...

معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ اسی دوران جماعت میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے ”یَرحَمُکَ اللہ“ کہہ دیا۔ اس پر لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا۔ میں نے کہا: میری ماں مجھے گم پائے، تم مجھے کیوں گھور رہے ہو؟ یہ سن کر وہ لوگ اپنی رانوں پر اپنے ہاتھ مارنے لگے۔ پھر جب میں نے دیکھا کہ وہ لوگ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں تو میں خاموش ہوگیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہو گئے، میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان جائیں، میں نے آپ ﷺ سے پہلے اور نہ ہی آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ سے بہتر کوئی معلِّم دیکھا۔ اللہ کی قسم نہ آپ ﷺ نے مجھے جھڑکا اور نہ ہی مجھے مارا۔ آپ ﷺ نے بس اتنا فرمایا کہ نماز میں لوگوں کی بات چیت درست نہیں ہے۔ نماز تو تسبیح و تکبیر اور قرآن پڑھنے کا نام ہے۔یارسولﷺ نے اس جیسی بات کہی۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے جاہلیت کو ترک کیے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے دین اسلام بھیجا ہے (اور مجھے اس سے شرف یاب کیا ہے) ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں (اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟) آپ ﷺ نے فرمایا: تم ان کے پاس نہ جاؤ۔ میں نے عرض کیا: ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو بدشگونی لیتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ ایسی بات ہے جو وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں (ایک طرح کا وہم ہے) یہ وہم انھیں ان کے کسی کام سے نہ روکے ۔ تم اس طرح نہ کرو۔ پھر میں نے عرض کیا: ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: انبیائے کرام میں سے ایک نبی بھی لکیریں کھینچتے تھے۔ چنانچہ جس آدمی کا لکیر کھینچنا اس کے مطابق ہو وہ صحیح ہے۔ راوئ حدیث معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری ایک لونڈی تھی جو احد اور جوانیہ کے علاقوں میں میری بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ایک دن میں وہاں گیا تو دیکھا کہ ایک بھیڑیا میری ایک بکری کو اٹھا کر لے گیا ہے۔ آخر میں بھی انسانوں میں سے ایک انسان ہوں۔ مجھے بھی غصہ آتا ہے جس طرح کہ دوسرے لوگوں کو غصہ آجاتا ہے۔ میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا۔ مجھ پر اسے تھپڑ مارنا بہت گراں گزرا تھا۔ میں نے عرض کیاکہ کیا میں اس لونڈی کو آزاد نہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے میرے پاس لاؤ۔ میں اسے آپ ﷺ کے پاس لے آیا۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا کہ اللہ کہاں ہے؟ اس لونڈی نے جواب دیا: آسمان میں۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس لونڈی نے کہا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دے کیونکہ یہ لونڈی مومنہ ہے“۔
صحیح - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

شرح

معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ وہ قصہ بیان کر رہے ہیں جواس وقت پیش آیا جب وہ نبی ﷺ کے ساتھ باجماعت نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھ رہے تھے۔ انہیں سنائی دیا کہ ایک شخص نے چھینک مار کر الحمدللہ کہا ہے۔ چنانچہ انہوں نے یرحمک اللہ کہہ کر اس کے اس قول کا جلدی سے جواب دیا جیسا کہ قاعدہ ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ الحمد للہ کہےاور اس کا بھائی یا اس کا ساتھی یرحمک اللہ کہے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ علم نہیں تھا کہ چھینکنے والے کا جواب دینے کا استحباب نماز کے علاوہ دیگر اوقات میں ہے۔ ” لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا“ یعنی بغیر بولے انہوں نے آنکھوں سے ان کو اشارہ کیا اور خشمگیں نظروں سے انہیں گھورا تاہم معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی اس ناگواری کا سبب نہ جان سکے چنانچہ وہ ان سے مخاطب ہو کر کہنے لگے: ” میری ماں مجھے گم پائے“ يعنی ہائے میری ماں مجھے گم پائے اور میں ہلا ک ہوا۔ تمہیں کیا ہوا ہے اور کیا بات ہے؟ تم غصہ بھری نگاہوں سے میری طرف کیوں دیکھ رہے ہو؟ ”وہ لوگ اپنی رانوں پر اپنے ہاتھ مارنے لگے“ یعنی ان لوگوں کی ان پر ناگواری مزید بڑھ گئی اور وہ ہاتھوں کو رانوں پر مارنے لگے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ خاموش ہو جائیں اور بولنا بند کر دیں چنانچہ وہ چپ ہو گئے۔ پھر جب میں نے دیکھا کہ وہ لوگ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں تو میں خاموش ہوگیا یعنی جب میں جان گیا کہ وہ مجھے گفتگو سے خاموش ہونے کو کہہ رہے ہیں تو مجھے ان کی طرف سے بہت زیادہ ناگواری کے اظہار پرحیرت ہوئی کیونکہ اپنےعمل کی برائی سے میں ناواقف تھا۔ میں نے ارادہ تو کیا کہ ان سے جھگڑوں تاہم حکم کی تعمیل میں مَیں چپ ہو گیا کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ باعلم تھے۔ چنانچہ میں نے اپنے غصے کو چھوڑ دیا اور وجہ دریافت نہ کی۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہو گئے یعنی جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی نماز ختم کی اور اس سے فارغ ہوئے۔ ”فَبِأَبِي هو وأمِّي“ یعنی میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان۔ یہ قسم نہیں۔ بلکہ یہ صرف ماں باپ کو فدا کرنے کا اظہار ہے۔ میں نے آپ ﷺ سے پہلے اور نہ ہی آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ سے بہتر کوئی معلِّم دیکھا کیونکہ نبی ﷺ نہ ان سے درشتگی سے پیش آئے اور نہ ہی انہیں جھڑکا۔ بلکہ آپ ﷺ نے ایسے طریقے سے شرعی حکم کی وضاحت کی جسے انسان فورا قبول کرلیتا ہے اور اس کی تعمیل کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے نہ تو مجھے ڈانٹا اور نہ کوئی سخت بات کہی۔ نہ ہی مجھے مارا میں نے حکم شرعی کی جو مخالفت کی تھی اس پر آپ ﷺ نے مار کر میری تادیب نہ کی۔ اور نہ ہی آپ ﷺ نے مجھ سے کوئی درشت بات کہی بلکہ آپ ﷺ نے نرمی کے ساتھ میرے سامنے حکم شرعی کی وضاحت فرمائی اور فرمایا: ”اس نماز میں لوگوں کی آپس کی بات چیت درست نہیں، بلکہ نماز تو تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت کا نام ہے“ یعنی نماز میں لوگوں کا آپس میں بات چیت کرنا جائز نہیں۔ ابتدائےاسلام میں اسے روا رکھا گیا تھا لیکن بعد میں اسے منسوخ کر دیا گیا۔ نماز میں صرف تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہوتی ہے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے جاہلیت کو ترک کیے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ یعنی مجھے جاہلیت کو چھوڑے کچھ ہی عرصہ گزرا ہے۔ جاہلیت کا اطلاق اس حالت پر ہوتا ہے جو شریعت کے آنے سے پہلے تھی۔ اسے جاہلیت کا نام ان لوگوں کی بہت زیادہ جہالت اور برائی کی وجہ سے دیا گیا۔ میں کفر سے اسلام کی طرف منتقل ہو گیا ہوں لیکن ابھی تک مجھے دین کے احکام کا علم نہیں ہے۔ ان کے کچھ ساتھی کاہنوں کے پاس جاتے اور ان سے مستقبل میں پیش آنے والے غیبی امور کے بارے میں پوچھتے۔ آپﷺ نے فرمایا: تم ان کے پاس نہ جاؤ، کاہنوں کے پاس آنے سے اس لیے منع کیا گیا کیونکہ وہ غیبی امور کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ بعض اوقات ان کی بات صحیح نکل آتی ہے جس کی وجہ سے انسان کے فتنے میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہوتا ہے کیونکہ یہ لوگوں کے لیے بہت سے شرعی امور کو مشتبہ بنا دیتے ہیں۔ کئی صحیح احادیث میں کاہنوں کے پاس آنے اور ان کی باتوں کی تصدیق کرنے کی ممانعت اور ان کی دی گئی شیرینی کے حرام ہونے کا حکم آیا ہے۔ ہم میں سے کچھ لوگ برا شگون لیتے ہیں، تَطَیّر کا معنی ہے کسی دیکھی یا سنی گئی بات یا پھر کسی وقت یا جگہ سے برا شگون لینا۔ عرب لوگ بدشگونی لینے میں معروف تھے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی اچھے کام کا ارادہ کرتا اور پھر پرندے کو دائیں یا بائیں جانب جاتے ہوئے دیکھ لیتا جیسا کہ ان کے ہاں معروف تھا تو وہ اپنے ارادے سے بازآجاتا۔اسی طرح کوئی شخص کسی آواز کو سن کر یا کسی آدمی کو دیکھ کر اس سے برا شگون لیتا۔ بعض لوگ نکاح کے سلسلے میں شوال کے مہینے سے بد شگونی لیتے۔ بعض لوگ بدھ کے دن یا صفر کے مہینے سے بد شگونی لیتے۔ ان سب باتوں کو شریعت نے باطل قرار دیا ہے کیونکہ اس سے انسان کی عقل، سوچ اور طرزِعمل کو ضرر لاحق ہوتا ہے۔ انسان کا ان امور کی پرواہ نہ کرنا ہی دراصل اللہ پر توکل ہے۔ ”یہ ایسی بات ہے جو وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں (ایک طرح کا وہم ہے) یہ وہم انھیں ان کے کسی کام سے نہ روکے“ یعنی بدشگونی ایسی شے ہے جو ان کے دلوں میں پیدا ہو ہی جاتی ہے اور اس سلسلے میں ان پر کوئی عتاب بھی نہیں۔ اسے وہ خود سے نہیں لاتے چنانچہ اس کی ذمہ داری بھی ان پرعائد نہیں ہوتی۔ تاہم انہیں چاہیے کہ وہ اس کی وجہ سے اپنے امور میں تصرف کرنے سے نہ رکیں۔ اس بات پر انہیں قدرت حاصل ہے چنانچہ اس کی ذمہ داری ان پرعائد ہوتی ہے۔ اس لیے نبی ﷺ نے بدشگونی پرعمل کرنے اور اس بات سے منع فرمایا کہ وہ اس کی وجہ سے اپنے کاموں سے رک جائیں۔ بہت سی صحیح احادیث میں بدشگونی کی ممانعت آئی ہے۔ بدشگونی کو یہاں بدشگونی پر عمل کرنے پر محمول کیا جائے گا نہ کہ اس سوچ پر جو انسان کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے تاہم لوگوں کے ہاں اس کا جو تقاضا ہوتا ہے اس پر وہ عمل نہیں کرتا۔ ”ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں“ عربوں کے ہاں ”خط“ یہ تھا کہ کاہن آکر اپنے سامنے موجود لڑکے کو حکم دیتا کہ وہ ریت میں بہت سی لکیریں کھینچے۔ پھر اسے کہتا کہ وہ دو دو کر کے ان کو مٹاتا جائے۔پھر وہ ان لکیروں میں جوآخری لکیریں بچ جاتی ان کو دیکھتا۔ اگر باقی ماندہ لکیریں جفت (جوڑ) ہوتیں تو یہ فلاح و کامیابی کی دلیل ہوتی اور اگر اکیلی (طاق) ہوتی تو یہ نامرادی اور مایوسی کی دلیل ہوتی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: انبیائے کرام میں سے ایک نبی بھی لکیریں کھینچتے تھے یعنی وہ نبی ریت میں کھینچی گئی لکیروں کی طرح لکیرں کھینچتے اور ان لکیروں کے توسط سے فراست کے بل بوتے پر امور کو جاننے کی کوشش کرتے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ نبی ادریس علیہ السلام یا دانیال علیہ السلام تھے۔ ”فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ“ یعنی جس کا خط اس نبی علیہ الصلاۃ والسلام کے خط کے موافق ہو گیا۔ ”فَذَاك“ یعنی جس کا خط اس نبی کے خط کے موافق ہو گیا اس کے لیے یہ جائز ہے۔ لیکن چونکہ ہمارے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے اس موافقت کا یقینی طور پرعلم ہو سکے اس لیے ایسا کرنا مباح نہیں ہے۔ مقصد یہ کہ ایسا کرنا حرام ہے کیونکہ یہ جائز صرف اسی وقت ہو گا جب موافقت کا یقین ہو جائے اوراس کا یقین ہمیں ہو نہیں سکتا۔ اس بات کا بھی احتمال ہے کہ ایسا کرنا ہماری شریعت میں منسوخ ہو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ علم رمل اس نبی کی نبوت کی علامت ہو اور چونکہ ان کی نبوت ختم ہو چکی اس لیے ہمیں اسے اپنانے سے منع کر دیا گیا۔ بہرحال یہ حدیث علم رمل پر عمل کرنے کی حرمت پر دلالت کرتی ہے نہ کہ اس کے جائز ہونے پر۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں علم رمل کے بارے میں لوگوں کے طرزِعمل اور اس کے فاسد ہونے کی بھی نشاندہی ہے کیونکہ موافقت کا تقاضا ہے کہ اس کا علم ہو اور علم دو طریقوں میں سے کسی سے حاصل ہو سکتا ہے: اول: اس علم کی کیفیت کے بیان میں کوئی صریح اورصحیح نص موجود ہو۔ دوم: اس نبی سے لے کر ہمارے نبی ﷺ کے دور تک یہ تواتر کے ساتھ منقول ہو۔ اور یہ دونوں ہی باتیں موجود نہیں۔ یہاں یہ جان لینا مناسب ہے کہ انبیاء علمِ غیب کی طرف دعوت نہیں دیتے اور نہ ہی لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ ان کو علمِ غیب حاصل ہے۔ لوگوں کو انہوں نے امورِغیب میں سے جو کچھ بتایا وہ انہیں اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی علم ہوا تھا۔ چنانچہ وہ اسے اپنی طرف منسوب نہیں کرتے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿عَالِمُ الْغَيْبِ فَلا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا، إِلاَّ مَنِ ارْتَضَى مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا﴾ ”وہ عالم الغیب ہے، اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا سوائے اُس رسول کے جسے اُس نے(غیب کا کوئی علم دینے کے لیے) پسند کر لیا ہو، تو اُس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے“۔ (الجن 26، 27) کیونکہ علمِ غیب اللہ نے اپنے لیے خاص کر رکھا ہے۔ چنانچہ جو شخص بھی اپنے بارے میں اس کا دعوی کرے گا وہ ربوبیت کی بعض خصوصیات کا حامل ہونے کا مدعی ہو گا اور یہی کچھ اس کاروبار کے کرنے والے کرتے ہیں۔ اس حدیث سے ان لوگوں کے اس جھوٹے دعوے کا پول کھل جاتا ہے کہ یہ نبی ان کے استاد ہیں۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میری ایک لونڈی تھی جو احد اور جوانیہ کے علاقوں میں میری بکریاں چرایا کرتی تھی یعنی ان کی ایک باندی تھی جو احد کے قریب واقع ایک جگہ پر ان کی بھیڑ بکریاں چراتی تھی۔ ایک دن میں وہاں گیا تو دیکھا کہ ایک بھیڑیا میری ایک بکری کو اٹھا کر لے گیا ہے یعنی انہیں پتا چلا کہ بھیڑیے نے ایک بھیڑ کو چیر پھاڑ ڈالا ہے۔ اگرچہ بھیڑ بکریاں ان کی تھیں تاہم انہوں نے کہا کہ ”اس باندی کی بھیڑ بکریاں“یعنی جن کی وہ دیکھ بھال کرتی تھی۔ آخر میں بھی انسانوں میں سے ایک انسان ہوں۔ مجھے بھی غصہ آتا ہے جس طرح کہ دوسرے لوگوں کو غصہ آجاتا ہے، ”اسف“ کا معنی ہے: غصہ، یعنی بھیڑیے کے بھیڑ کو کھا لینے کی وجہ سے میں اس پر غصے ہوا۔ چنانچہ میں نے اسے سختی کے ساتھ مارنے کا ارادہ کیا جیسا کہ غصے میں ہوتا ہے۔ میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا، لیکن میں نے ایسا نہ کیا بلکہ اسے ایک تھپڑ مارنے پر ہی اکتفاء کیا۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا۔ مجھ پر اسے تھپڑ مارنا بہت گراں گزرا تھا، اس باندی کو تھپڑ مارنے کے بعد وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپﷺ کو سارا ماجرا سنایا۔ آپ ﷺ نے ان کا باندی کو تھپڑ مارنا بہت بڑا عمل جانا۔ جب معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ نبی ﷺ پر ان کے اس عمل کا بہت اثر ہوا اور آپ ﷺ نے اسے دل پر لیا ہے تو وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ یعنی اسے مارنے کے بدلے میں اسے میں غلامی سے آزاد کر دیتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے میرے پاس لے کرآؤ۔چنانچہ میں اسے لے کر آپ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ یعنی وہ معبود کہاں ہے جو عبادت کا حق دار اور صفات کمال سے متصف ہے؟ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے پوچھا: تیرا رب کہاں ہے؟ نبی ﷺ نے اس سوال کے ذریعے اس بات کی یقین دہانی کرنا چاہی کہ وہ موحّد ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس سے ایسی بات پوچھی جس کا مقصود سمجھ میں آتا ہے کیونکہ اللہ کے آسمان میں ہونے پر اعتقاد رکھنا موحدین کی علامت ہے۔ اس نے کہا: آسمان میں۔ یہاں سے ”السماء“ سے مراد ”اوپر“ ہے اور یہ کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہرشے سے بالا تر اپنے عرش کے اوپر ہے جو کہ مخلوقات کے لیے چھت ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ میں کون ہوں؟ اس نے جواب دیا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا: اسے آزاد کر دو۔ یہ مومنہ ہے۔ جب اس نے اللہ کےاوپر ہونے اور آپ ﷺ کی رسالت کی گواہی دے دی تو آپ ﷺ نے اسے آزاد کرنے کا حکم دیا کیونکہ یہ اس کے ایمان اور عقیدہ کی درستگی کی دلیل تھی۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی
ترجمہ دیکھیں