عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الخَطْمِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي البَرَاءُ وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ، قَالَ:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، لَمْ يَحْنِ أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَقَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا، ثُمَّ نَقَعُ سُجُودًا بَعْدَهُ.

[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح البخاري: 690]
المزيــد ...

عبد اللہ بن یزید خَطمی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے براء نے حدیث بیان کی، اور وہ جھوٹے نہیں ہیں، انہوں نے کہا:
رسول اللہ ﷺ جب ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہتے تو ہم میں سے کوئی بھی اس وقت تک اپنی پیٹھ نہیں جھکاتا تھا جب تک کہ نبی ﷺ سجدہ میں نہ چلے جاتے۔ ہم پھر آپ ﷺ کے بعد سجدے میں جاتے تھے۔

[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح البخاري - 690]

شرح

صادق (سچے) صحابی براء بن عازب رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ نبی ﷺ جب رکوع سے اپنا سر مبارک اٹھا کر ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہتے، تو آپ ﷺ کے پیچھے موجود صحابہ کھڑے رہتے تھے۔ کوئی بھی اپنی کمر سجدے کے لیے نہ جھکاتا، یہاں تک کہ آپ ﷺ اپنی پیشانی مبارک زمین پر رکھ دیتے۔ پھر اس کے بعد وہ سجدے میں جایا کرتے تھے۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. نماز میں صحابہ رسول اللہ ﷺ کی اقتدا اس طرح کرتے تھے کہ وہ قیام سے سجدے کی طرف اس وقت تک منتقل نہیں ہوتے تھے، جب تک کہ آپ ﷺ سجدہ نہ کر لیتے۔
  2. ابن دقیق العید کہتے ہیں: اس میں نبی ﷺ کے طویل اطمینان کی دلیل ہے۔
  3. اقتدا کے اعتبار سے امام کے ساتھ مقتدی کی چار حالتیں ہیں: 1- مسابقت (آگے بڑھنا): اس کی صورت یہ ہے کہ مقتدی کوئی کام اپنے امام سے پہلے شروع کر دے، یعنی مقتدی امام کے کسی رکن تک پہنچنے سے پہلے خود اس رکن تک پہنچ جائے۔ مثلاً امام کے رکوع کرنے سے پہلے رکوع کر لے، یا امام کے سجدہ کرنے سے پہلے سجدہ کر لے۔ یہ حرام ہے، اگر ممانعت کا علم ہونے کے باوجود وہ جان بوجھ کر سبقت کرے تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی۔ اگر یہ سبقت تکبیر تحریمہ میں ہو تو اس کی نماز منعقد ہی نہیں ہوگی اور اس پر از سر نو نماز پڑھنا لازم ہوگا۔ 2- موافقت (ساتھ ساتھ کرنا): اس کی صورت یہ ہے کہ وہ امام کے ساتھ ساتھ چلے، یعنی امام کے رکوع کے ساتھ رکوع کرے، اس کے سجدے کے ساتھ سجدہ کرے اور اس کے اٹھنے کے ساتھ اٹھے۔ اس کا سب سے کمتر درجہ یہ ہے کہ یہ مکروہ ہے، جبکہ دلائل سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بھی حرام ہے۔ اگر تکبیر تحریمہ میں امام کے ساتھ تکبیر کرے تو اس کی نماز منعقد نہیں ہوگی اور اسے نماز دہرانی ہوگی۔ 3- متابعت (اتباع کرنا): اس کی صورت یہ ہے کہ وہ نماز کے افعال بغیر کسی تاخیر کے اپنے امام کے بعد ادا کرے۔ یہی درست طریقہ اور سنت کے مطابق ہے۔ 4- تخلف (پیچھے رہ جانا): اس کی صورت یہ ہے کہ وہ اپنے امام سے اتنا پیچھے رہ جائے کہ وہ (اتباع) کے دائرے سے نکل جائے۔ جیسے کہ امام رکوع کر لے اور مقتدی کھڑا ہی رہے، یہاں تک کہ امام رکوع سے اٹھنے کے قریب پہنچ جائے۔ یہ درست طریقے کے خلاف ہے اور یہ حرام ہے۔ سوائے اس کے کہ کوئی عذر ہو جیسے بیماری اور بڑھاپا۔
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان مزید ۔ ۔ ۔ (33)
مزید ۔ ۔ ۔