بلاشبہ مجھے تم پر جس چیز کا خوف سب سے زیادہ ہے، وہ شرک اصغر ہے۔" صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! شرک اصغر کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا : "ریا
”اے اللہ! جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے، پھر وہ ان پر سختی کرے، تو تو بھی اس پر سختی فرما- اور جو میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنےِ، پھر ان کے ساتھ نرمی کرے، تو تو بھی اس کے ساتھ نرمی فرما“۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جوتا پہننا، کنگھی کرنا، طہارت حاصل کرنا اور اپنے سبھی کاموں کو دائيں سے کرنا پسند کرتے تھے۔
میں نے اللہ کے نبی ﷺ کو کبھی اس طرح قہقہہ مار کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ میں آپ کے گلے کے کوے کو دیکھ سکوں۔ آپﷺ تو بس مسکرایا کرتے تھے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب رات کى نیند سے بیدار ہوتے، تو اپنے منہ کو مسواک سے رگڑ کر صاف کرتے۔
کیا میں تمہیں دجال کے متعلق ایک ایسی بات نہ بتا دوں، جو کسی نبی نے اپنی قوم کونہیں بتائی؟ وہ کانا ہوگا اور اپنے ساتھ جنت اور جہنم جیسی چیز لائے گا۔
اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود برحق نہیں، عرب کے لیے تباہی اس شر سے آئے گی، جس کے واقع ہونے کا زمانہ قریب آ گیا ہے۔ آج یاجوج اور ماجوج کی دیوار میں اتنا شگاف پیدا ہو گیا ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم غیر شادی شدہ پردہ نشیں عورت سے بھی زیادہ با حیا تھے۔ چنانچہ جب کوئی ایسی چيز دیکھتے، جو ناپسند ہوتی، تو ہم اس ناپسندیدگی کو آپ کے چہرے کی رنگت سے پہچان لیتے تھے۔
صرف اور صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، تمھارے آباو اجداد جو کچھ کہتے ہیں، اسے چھوڑ دو۔ اور وہ ہمیں نماز پڑھنے کا حکم دیتاہے اور سچائی کا۔
نبی ﷺ سفر میں تھے۔ آپ ﷺ نے نمازِ عشاء ادا کی تو ایک رکعت میں ’وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ‘ پڑھی۔ میں نے آپ ﷺ سے زیادہ اچھی آواز والا یا آپ ﷺ سے اچھا پڑھنے والا کبھی نہیں سنا۔
اللہ کے نبی ﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنے دونوں بازوؤں کو اس قدر کشادہ کرتے کہ آپ ﷺ کی دونوں بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگتی۔
اللہ کے رسول ﷺ کو جب چھینک آتی، تو اپنا ہاتھ یا اپنا کپڑا منہ پر رکھ لیتے اور اس سے اپنی آواز کو ہلکی یا پست کرتے۔
اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں پڑنے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دے دیتا"۔
اللہ کی قسم! تمھارے ذریعے سے کسی ایک آدمی کا ہدایت یافتہ ہو جانا تمھارے لیے (بیش قیمت) سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔‘‘
میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، جب کہ ہم دونوں جنبی ہوا کرتے تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ازار باندھ لیتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ اپنے جسم کو ملایا کرتے، جب کہ اس وقت میں حائضہ ہوا کرتی۔
عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے آپ ﷺ کو اپنےسینے کے ساتھ سہارا دے رکھا تھا۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ میں ایک تازہ مسواک لیے اسے کر رہے تھے۔ آپ ﷺ مسلسل مسواک کی طرف دیکھ رہے تھے۔
نبی ﷺ نے (ایک دن) عشا کی نماز میں تاخیر فرما دی۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نکلے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! نماز پڑھانے کے لیے تشریف لائیے۔ عورتیں اور بچے سو چکے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے، اس حال میں کہ آپ ﷺ کے سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: اگر مجھے اپنی امت (یا آپ ﷺ نے فرمایا) اگر مجھے لوگوں کے دشواری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو انھیں حکم دیتا کہ وہ اس گھڑی میں یہ نماز پڑھا کریں۔
جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، تو میرے گھر میں تھوڑے سے جَو کے سوا جو ایک طاق میں رکھا ہوا تھا اور کوئی چیز ایسی نہیں تھی، جو کسی جگر والے (جاندار) کی خوراک بن سکتی۔ میں اسی میں سے کھاتی رہی، یہاں تک کہ کافی عرصہ گزر گیا۔ پھر میں نےاسے ناپا تو وہ ختم ہو گیا۔
اگر کسی تکلیف یا کسی اور عذر کی بنا پر رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز رہ جاتی تو آپ ﷺ دن میں بارہ رکعات پڑھتے تھے۔
میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے آگ جلائی اور پتنگے اور پروانے اس میں گرنے لگے اور یہ شخص انہیں اس سے ہٹا رہا ہے۔ (اسی طرح) میں تمہیں کمر سے پکڑ پکڑ کر آگ میں گرنے سے بچا رہا ہوں لیکن تم میرے ہاتھوں سے نکلے جاتے ہو۔
رسول الله ﷺ مسلسل کئی راتیں بھوکے گزارتے اور ان کے اہل و عیال کو رات کا کھانا میسر نہیں ہوتا اور اکثر ان کے کھانے میں جَو کی روٹی ہوتی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی انسان تھے اور آپ سب سے زیادہ سخی رمضان میں ہوا کرتے تھے، جب جبریل عليہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے
جب کوئی مسلمان مجھ پر سلام بھیجتا ہے، تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھے لوٹا دیتا ہے، تاکہ میں اس کے سلام کا جواب دے دوں"۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو آپ کا سر میرے سینے اور گردن کے بیچ میں رکھا ہوا تھا۔ وہ کہتی ہیں: جب آپ کی روح نکلی، تو ایسی خوشبو محسوس ہوئی کہ میں نے کبھی اس سے بڑھ کر پاکیزہ خوشبو محسوس نہیں کی۔
صحابہ کرام کے نزدیک کوئی بھی آدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ پیارا نہیں تھا۔ اس کے باوجود جب وہ آپ کو دیکھتے تو آپ کے لیے کھڑے نہیں ہوتے تھے، کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ آپ اس چیز کو ناپسند کرتے ہیں
عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ تو جواب دیا: آپ ایک عام انسان کی طرح رہتے۔ اپنے کپڑے سے پسو اور چچڑی وغیرہ نکالتے، اپنی بکری دوہتے اور اپنے کام خود کرتے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم چالیس سال کی عمر میں نبی بنائے گئے۔ پھر مکہ میں تیرہ سال رہے اور اس مدت میں آپ پر وحی آتی رہی۔ پھر ہجرت کا حکم ہوا اور ہجرت کی سر زمین میں دس سال رہے اور تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی
مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری دیدار کی سعادت اس وقت حاصل ہوئی، جب آپ نے (اپنے کمرے اور مسجد کے بیچ میں پڑا ہوا) پردہ اٹھایا۔ اس وقت لوگ، ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھ کر نماز پڑھ رہے تھے
میں نے کسی دراز گیسوؤں والے شخص کو سرخ لباس میں ملبوس کسی شخص کو رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر حسین نہیں دیکھا.
رسول اللہ ﷺ کا دایاں ہاتھ وضو اور کھانا کھانے کے لیے اور بایاں ہاتھ قضائے حاجت اور ان چیزوں کے لیے ہوتا تھا جن میں گندگی ہوتی ہے۔
جب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ مکہ تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا کہ: تمہارے پاس ایسے لوگ آئے ہیں جنہیں یثرب (مدینہ منورہ) کے بخار نے کمزور کر دیا ہے۔ چنانچہ نبی ﷺ نے حکم دیا کہ طواف کے پہلے تین چکروں میں تیز قدم چلیں اور دونوں یمانی رکنوں کے درمیان حسب معمول چلیں۔
رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کی جگہ جاتے تو میں اور میرے جیسا ایک اور لڑکا پانی کا برتن اور ایک نیزہ اٹھاۓ ہوتے۔ آپ ﷺ پانی کے ذریعے استنجا کرتے تھے۔
میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مسواک کر رہا ہوں۔ اسی درمیان دو آدمی میرے پاس آئے، ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا۔ میں نے ان میں سے چھوٹے کو مسواک دے دی، مگر مجھ سے کہا گیا کہ بڑے کو دو۔ چنانچہ میں نے ان میں سے بڑے کو مسواک دے دی۔
تمام ازواجِ مطہرات نبی کریم ﷺ کے پاس تھیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی آئیں، ان کی چال رسول اللہ ﷺ کی چال سے بہت زیادہ مشابہ تھی۔
ایک شخص نے اُحُد کے دن آپ ﷺ سے کہا: آپ کیا کہتے ہیں کہ اگر میں مارا گیا تو میں کہاں رہوں گا (میرا ٹھکانہ کہاں ہوگا)؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا جنت میں۔ انھوں نے اپنے ہاتھ سے کھجوریں پھینکیں اور لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہوگیے۔
جس طرح رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھایا کرتے تھے میں بالکل اسی طرح تمھیں نماز پڑھانے میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں چھوڑتا۔
جو اللہ نے لے لی، وہ اسی کی تھی اور جو اس نے دی تھی، وہ بھی اسی کی تھی اور ہر چیز کا اس کے پاس ایک وقت مقرر ہے۔ اس لیے صبر کرو اور اللہ سے ثواب کی امید رکھو
اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لیے سمیٹ دیا تو میں نے اس کے مشرق اور مغرب کو دیکھا اور جہاں تک کی زمین میرے لیے سمیٹ دی گئی تھی وہاں تک عنقریب میری امت کی سلطنت وحکومت پہنچ کر رہے گی اور مجھے سرخ اور سفید دو خزانے عطا کیے گئے۔
نبی ﷺ جب کوئی بات کہتے، تو اسے تین بار دوہراتے، تاکہ آپ ﷺ کی بات کو پوری طرح سمجھ لیا جائے اور جب کچھ لوگوں کے پاس آ کر سلام کرتے، تو انھیں تین بار سلام کرتے۔
ہمارے پاس موجود سونے کے ایک ٹکڑے کا خیال میرے ذہن میں آیا۔ مجھے یہ برا لگا کہ میری توجہ اس کی طرف لگی رہے۔ چنانچہ میں نے اسے بانٹ دینے کا حکم دےدیا۔
میں نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ چمڑے سے بنے ایک سرخ خیمے میں مقیم تھے۔ اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ (آپ ﷺ کے) وضو کا پانی لے کر نکلے، تو کوئی ان سے براہ راست یہ پانی لے رہا تھا اور کوئی اس سے یہ پانی لے رہا تھا جس نے ان سے لیا تھا۔
رسول اللہ ﷺ کسی مہینے میں روزے نہ رکھتے، تو ہمیں یوں لگنے لگتا کہ آپ ﷺ اس مہینے میں روزہ رکھیں گے ہی نہیں اور روزہ رکھنا شروع کر دیتے، تو ہمیں محسوس ہونے لگتا کہ آپ ﷺ اس میں سے کوئی دن بھی بنا روزے کے نہیں رہیں گے۔ رات کو آپ اگر رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے، تو دیکھ لیتے اور اگر سوتے ہوئے دیکھنا چاہتے، تو بھی دیکھ لیتے۔
ايسا کبھی نہیں ہوا کہ رسول اللہ ﷺ سے کسی چيز کا سوال کيا گيا ہو اور آپ ﷺ نے جواب ميں ’’نہيں‘‘ فرمايا ہو.
رسول اللہ ﷺ کے پاس پانی ملا ہوا دودھ لایا گیا۔ آپ ﷺ کی دائیں طرف ایک اعرابی تھا اور بائیں طرف ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ ﷺ نے پی کر اسے اعرابی کو دے دیا اور فرمایا: دائیں طرف والا زیادہ حق دار ہے۔ پھر وہ جو اس کی داہنی طرف ہے۔
رسول اللہ ﷺ کبھی کسی عمل کو چاہتے ہوئے بھی محض اس ڈر سے ترک فرما دیتے تھے کہ لوگوں کے عمل کرنے سے کہیں وہ ان پر فرض نہ ہو جائے۔
نبی ﷺ نے ان سے ایک اونٹ خریدا اور ان کے لیے (بطورِ قیمت) جب (چاندی کو) وزن کیا تو کچھ بڑھا کر وزن کیا۔
تم سے پہلی امتوں کے لوگ (جو ایمان لائے) ان کا تو یہ حال ہوا کہ ان میں سے کسی کو پکڑ لیا جاتا اور اس کے لیے زمین میں گڑھا کھود کر اس میں اسے ڈال دیا جاتا، پھر آرا لایا جاتا اور اس کے سر پر رکھ کر اس کے دو ٹکڑے کر دئیے جاتے اور لوہے کے کنگھے اس کے گوشت اور ہڈیوں میں دھنسا دیے جاتے؛ لیکن یہ آزمائشیں بھی اسے اپنے دین سے ہٹا نہیں سکتی تھیں۔
میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں اور میرا ارادہ اسے لمبا کرنے کا ہوتا ہے کہ میں بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں، تو میں اپنی نماز میں اختصار سے کام لیتا ہوں، اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ میں اس کی ماں کو مشقت میں ڈالوں
رسول اللہ ﷺ نے صوم وصال سے منع فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ آپ بھی تو وصال کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمھاری طرح نہیں ہوں۔ مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔
ایک کھجور کا تنا تھا، جس پر نبی کریم ﷺ دوران خطبہ ٹیک لگا کر کھڑے ہوا کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ کے لیے منبر رکھ دیا گیا اور( آپ نے اس تنے پر ٹیک لگانا چھوڑ دیا) تو ہم نے اس کے رونے کی ایسی آواز سنی، جیسے دس مہینے کی گابھن اونٹنی آواز کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے منبر سے اتر کر اپنا ہاتھ اس پر رکھا، تو اسے سکون ہوا۔
میں آپ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ ﷺ کے جسم پر ایک موٹے کنارے والی نجرانی چادر تھی۔ اتنے میں ایک دیہاتی آپ کے پاس آیا اور اس نے آپ کی چادر بڑے زور سے کھینچی۔
اگر میرے پاس مال ہو تو میں اسے تم سے ہرگز بچا کر نہیں رکھوں گا۔ (تاہم یاد رکھو کہ) جو شخص سوال کرنے سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اسے سوال کرنے سے محفوظ رکھتا ہے اور جو شخص بے نیاز ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بے نیاز کر دیتا ہے اور جو شخص صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالی بھی اسے صبر کی توفیق عطا کرتا ہے۔ اور کسی کو بھی صبر سے زیادہ بہتر اور اس سے زیادہ بے پایاں بھلائی نہیں ملتی۔
اے جبرائیل! محمد کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ ہم آپ کی امت کے بارے میں آپ کو راضی کریں گے اور آپ کو رنجیدہ نہیں ہونے دیں گے۔
(آپ ﷺ کے تواضع کا یہ حال تھا کہ) مدینے کی لونڈیوں میں سے کوئی لونڈی آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑ کر (آپﷺ کو اپنے کسی کام کے لیے) جہاں چاہتی، لے جاتی۔
میری چادر مجھے دے دو، اگر میرے پاس درخت کے کانٹوں جتنے بھی اونٹ بکریاں ہوتیں تو میں ان سب کو تم میں تقسیم کردیتا، مجھے تم بخیل نہیں پاؤ گے اور نہ ہی جھوٹا اور بزدل پاؤگے۔
اسے چھوڑ دو اور پیشاب پر پانی کا بھرا ہوا ڈول یا بڑا ڈول بہا دو۔ کیوںکہ تم لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنے کے واسطے بھیجے گئے ہو اور تمھیں تنگی پیدا کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا ہے۔
وہ رزق تھا جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھیجا تھا، کیا تمہارے پاس اس کے گوشت سے کچھ بچا ہے، اس میں سے ہمیں بھی کھلاؤ! ہم نے اس میں سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا تو آپ ﷺ نے اسے کھایا۔
کیا تم نے یہ سمجھا تھا کہ میں نے تم سے تمھارا اونٹ لینے کے لیے بھاؤ تاؤ کیا تھا؟ اپنا اونٹ بھی لے لو اور درہم بھی۔ یہ سب تیرا ہے۔
نبی كريم ﷺ اپنے گھر میں کیا کام کرتے تھے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ ﷺ اپنے گھر والوں کی خدمت ميں لگے رہتے تھے، اور جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے ليے تشريف لے جاتے۔
رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا۔ نہ ہی کسی عورت کو، نہ ہی کسی خادم کو، اِلاّ یہ کہ آپ جہاد فی سبیل اللہ کر رہے ہوں۔
کیا آپ پر کوئی دن اُحد کے دن سے بھی زیادہ سخت گزرا ہے؟ آپ ﷺ نے اس پر فرمایا کہ تمہاری قوم (قریش) کی طرف سے میں نے کتنی مصیبتیں اٹھائی ہیں لیکن اس سارے دور میں عقبہ کا دن مجھ پر سب سے زیادہ سخت تھا۔
میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز میں کمزوری محسوس کی ہے۔ میرے خیال میں آپ ﷺ بھوکے ہیں۔ تو کیا تمہارے پاس کھانے پینے کی کوئی چیز ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں۔
یہودیوں کا یہ معمول تھا کہ جب ان کے درمیان کسی خاتون کو حیض آجاتا تو وہ اس کے ساتھ نہ کھاتے تھے اور نہ اس کے ساتھ گھر میں اکٹھے رہتے تھے۔
جس دن بدر کی لڑائی ہوئی اس دن رسول اللہﷺ نے مشرکوں کو دیکھا کہ وہ ایک ہزار تھے اور آپ ﷺکے اصحاب تین سو انیس آدمی تھے۔
میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو رونے کی وجہ سے آپﷺ کے سینے سے ایسی آواز آ رہی تھی جیسے چکی چلنے کی آواز ہوتی ہے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، آپ کو پکڑ کر لٹا دیا، پھر آپ کے سینے کو چیرا، دل کو نکالا اور اس سے جمے ہوئے خون کا ایک ٹکڑا نکالنے کے بعد کہا : یہ آپ کے اندر شیطان کا حصہ تھا۔
جب عمرو بن معاذ رضی اللہ عنہ کا پاوں کٹ گیا، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے پاوں میں تھوک لگا دیا اور وہ ٹھیک ہو گئے
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے میرے چہرے پر اپنا ہاتھ پھیرا اور میرے لیے دعا کی۔ عزرہ کہتے ہیں: پھر ابو زید ایک سو بیس سال زندہ رہے اور اس کے باوجود ان کے سر کے محض چند بال ہی سفید ہوئے تھے
یزید بن اسود رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی۔ پھر لوگ تیزی سے اٹھے اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے چہروں پر پھیرنے لگے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے بھی آپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے چہرے پر پھیرا، تو پایا کہ آپ کا ہاتھ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور اس سے مشک سے کہیں بهتر خوشبو پھوٹ رہی تھی
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے یہاں آئے پھر ہمارے یہاں ہی قیلولہ کیا تو آپ کے جسم سے پسینہ نکلنے لگا تو میری ماں ایک شیشی لے آئی اور اس میں آپ کا پسینہ جمع کرنے لگی
اے اللہ کے رسول! میرا بھانجا بیمار ہے، تو آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا کی۔ پھر آپ نے وضو کیا، تو میں نے آپ کے وضو کے پانی میں سے پیا اور پھر آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا، تو آپ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی، جو کبوتر کے انڈے کی مانند تھی
کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کے لیے مغفرت طلب کی ہے؟ تو کہا: ہاں! اور تمھارے لیے بھی۔ پھر یہ آیت پڑھی: {وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ} [محمد: 19] (اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مومن مردوں اور مؤمن عورتوں کے حق میں بھی)
مجھے اللہ کی راہ میں اس وقت ڈرایا گیا، جس وقت اور کوئی نہیں تھا جسے ڈرایا جاتا۔ مجھے اللہ کی راہ میں اس وقت ستایا گیا، جس وقت کوئی اور نہیں تھا جسے ستایا جاتا۔ میرے اوپر تیس دن اور رات ایسے گزرے کہ میرے اور بلال کے پاس کچھ نہیں تھا، جسے کوئی جاندار کھاتا ہو، سوائے اس کے جو بلال اپنی بغل میں چھپاکر رکھتے
ایک عورت دماغی اعتبار سے کچھ کمزور تھی۔ تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کچھ حاجت ہے۔ آپ نے کہا: "اے ام فلاں! تم سوچ کر بتاو کہ کس راستہ پر تم مجھ سے اپنى حاجت بیان کرنا چاہتی ہو, تاکہ میں تمھاری حاجت پوری کرسکوں"۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک پرانے اور بوسیدہ کجاوے اور اس پر بچھی ہوئی ایک ایسی چادر پر بیٹھ کر حج کیا، جس کی قیمت چادر درہم تھی یا اتنی بھی نہیں تھی۔ پھر فرمایا : "اے اللہ! یہ ایسا حج ہے، جس میں نہ ریاکاری ہے، نہ شہرت طلبی"۔
آپ نہ بد زبان تھے، نہ گندی باتوں اور کاموں میں پڑتے تھے، نہ بازاروں میں چیخ اور چلا کر بات کرنے والے تھے اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے، بلکہ آپ معافی اور درگزر سے کام لیتے تھے
جب سے میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی موت کی سختی دیکھی ہے، تب سے میں آسان موت کی وجہ سے کسی پر رشک نہیں کرتی
جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات ہوئی، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک دوسرے سے کہا کہ آپ کو کہاں دفن کیا جائے؟ تب ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اسی جگہ جہاں آپ کی وفات ہوئی ہے
ابو بکر رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے انتقال کے بعد, آپ کے پاس آئے، اپنا منہ آپ کی دونوں آنکھوں کے بیچ رکھا، اپنے دونوں ہاتھ آپ کی دونوں کنپٹیوں پر رکھے اور کہا : "ہائے نبی! ہائےمخلص دوست! ہائےبرگزیدہ شخصیت!"
جس دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم مدینے میں داخل ہوئے، تو اس کی ہر چیز روشن ہو گئی اور جس دن آپ کی وفات ہوئی، تو اس کی ہر چیز پر اندھیرا چھا گیا
میرے وارثین دینار و درہم بانٹ کر نہیں لیں گے۔ میں اپنی بیویوں کے خرچ اور اپنے خلیفہ کے گزارے کے بعد جو کچھ چھوڑ جاوں، وہ صدقہ ہے
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ دینار چھوڑا، نہ درہم چھوڑا، نہ بکری چھوڑی، نہ اونٹ چھوڑا اور نہ کسی چیز کی وصیت ہی کی
کسی نبی کی روح اس وقت تک نکالی نہیں گئی، جب تک اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا نہیں دیا گیا اور پھر دنیا یا جنت میں سے کسی ایک کو چننے کا اختیار نہیں دیا گیا۔ چنانچہ جب آپ کی وفات کا وقت آیا، تو آپ بے ہوش ہو گئے دراں حال کہ آپ کا سر میرے زانو پر تھا۔ پھر جب ہوش میں آئے تو اپنی نگاہ گھر کی چھت کی طرف اٹھائی اور پھر فرمایا : "اللهمَّ الرَّفِيقَ الأعلى" یعنی اے اللہ! مجھے اعلی علیین میں رہنے والے نبیوں کی رفاقت چاہیے
میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مشرکین مکہ کی سب سے بڑی ظالمانہ حرکت کے بارے میں پوچھا، جو انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کی تھی، تو انھوں نے بتلایا: میں نے دیکھا کہ عقبہ بن ابی معیط آپ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ اس بدبخت نے اپنی چادر آپ کی گردن مبارک میں ڈالی اور اس کے ذریعے آپ ﷺ کا گلا سختی سے گھونٹنے لگا۔
رسول اللہ ﷺ نے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں کسی اور سے شادی نہیں کی حتی کہ آپ - رضی اللہ عنہا- فوت ہو گئیں۔
اے عائش! یہ جبریل ہیں، جو تم کو سلام کہہ رہے ہیں۔ میں نے کہا: ان پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ میں جو نہیں دیکھ پاتی آپ اسے دیکھتے ہیں
مردوں میں سے بہت سے لوگ مرتبۂ کمال تک پہنچے، لیکن عورتوں میں سے صرف فرعون کی بیوی آسیہ اور مریم بنت عمران ہی مرتبۂ کمال تک پہنچیں اور عائشہ کو عورتوں پر وہی فضیلت حاصل ہے، جو فضیلت ثرید کو سارے کھانوں پر حاصل ہے
رسول اللہ ﷺ بسا اوقات ایک عمل کو چاہتے ہوئے بھی اسے محض اس ڈر سے ترک فرما دیتے تھے کہ لوگوں کے عمل کرنے کی وجہ سے کہیں وہ ان پر فرض نہ ہو جائے۔
کیا آپ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی بیماری کی حالت نہیں بتائیں گی؟ انھوں نے فرمایا: ہاں ضرور! سن لو۔ آپ ﷺ کا مرض بڑھ گیا۔ تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے عرض کی: جی نہیں یا رسول اللہ ! لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔
تم اپنے شوہر کے نزدیک بے وقعت نہیں ہو، اگر چاہو تو میں تمہارے پاس تک رہ سکتا ہوں لیکن اگر میں تمہارے پاس سات دن رہوں تو دوسری بیویوں کے پاس بھی سات دن رہوں گا۔
رسول اللہ ﷺ شہد اور میٹھی چیزیں پسند کرتے تھے۔ آپ ﷺ عصر کی نماز سے فارغ ہو کر اپنی بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے اور بعض سے قریب بھی ہوتے تھے۔ ایک دن آپ ﷺ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور معمول سے زیادہ دیر ان کے گھر ٹھہرے۔
مرض الموت میں رسول اللہ ﷺ پوچھتے رہتے تھے کہ ”کل میرا قیام کہاں ہو گا، کل میرا قیام کہاں ہو گا؟“ آپ ﷺ عائشہ (رضی اللہ عنہا) کی باری کے منتظر تھے، پھر آپ کی بیویوں نے آپ کی چاہت کے مطابق آپ کو اُن کے ہاں قیام کی اجازت دے دی۔
جب نبی ﷺ باہر تشریف لے جانا چاہتے (سفر کے لیے) تو اپنی ازواجِ مطہرات میں قرعہ ڈالتے اور جس کا نام نکل آتا انہیں آپ ﷺ اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔
علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کا قول کہ میں پہلا آدمی ہوں گا، جو قیامت کے دن رحمن کے سامنے جھگڑنے کے لیے گھٹنوں پر بیٹھے گا
نبی ﷺ جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج اچھی طرح طلوع ہو جاتا۔
اے اللہ! میں بھی ایک بشر ہی ہوں، چنانچہ مسلمانوں میں سے جس کسی شخص کو میں نے برا بھلا کہا ہو، یا اس پر لعنت کی ہو، یا اسے مارا ہو، تو اسے اس کے لیے پاکیزگی اور رحمت بنا دے۔
محمد ﷺ کے اہل خانہ ، جب سے وہ مدینہ آئے، مسلسل تین راتیں گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی، یہاں تک کہ آپ کی روح قبض کرلی گئی۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنی موت کے وقت نہ کوئی درہم ودینار چھوڑا‘ نہ کوئی غلام‘ نہ کوئی لونڈی اور نہ کوئی اور چیز۔ البتہ اپنا سفید خچر، اپنے ہتھیار اور ایک زمین چھوڑی جسے آپ نے صدقہ کر دیا تھا۔
میں چل رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، میں نے اپنی نظر اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس حرا میں آیا تھا
غزوۂ احد کے موقع پر مجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا جب کہ میری عمر چودہ سال تھی۔ آپ ﷺ نے مجھے (جنگ میں شرکت کی) اجازت نہ دی۔
رسول اللہ ﷺ مکہ میں ثنیہ بالا کے مقام کداء سے جو بطحا میں ہے، داخل ہوئے تھے اور ثنیہ زیریں کی طرف سے باہر نکلے تھے۔
یا رسول اللہ! سورج غروب ہوگیا اور نماز عصر پڑھنا میرے لیے ممکن نہ ہوسکا۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا:اللہ کی قسم! نماز میں نے بھی نہیں پڑھی ہے۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر ہم وادی بطحان گئے، آپ ﷺ نے وہاں نماز کے لیے وضو کیا، ہم نے بھی وضو کیا۔ آپ ﷺ نے سورج غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز پڑھی اور اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔
جب نبی اکرم ﷺ غزوہ تبوک سے آئے تو لوگوں نے آپ کا استقبال کیا، اور میں بھی بچوں کے ساتھ آپ سے جاکر ثنیۃ الوداع پر ملا۔
ہم ایک غزوے میں رسول اللہﷺ کے ہمراہ ںکلے۔ ہم چھ آدمی تھے اور ہمارے درميان ایک ہی اونٹ تھا جس پرہم باری باری سوار ہوتے تھے۔ اس سے ہمارے پاؤں زخمی ہوگئے تھے، میرا پاؤں بھی زخمی ہوگيا تھا
اگر میں اپنی ان کھجوروں کو کھا لینے تک زندہ رہا، تو پھر یہ بڑی لمبی زندگی ہوگی۔ پھر انھوں نے، جو کھجوریں ان کے پاس تھیں، پھینکیں اور کافروں سے لڑائی شروع کردی، یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔
میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ ﷺ نے اتنا لمبا قیام کیا کہ میرے دل میں ایک غلط خیال پیدا ہوگیا۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ وہ غلط خیال کیا تھا؟۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے سوچا کہ بیٹھ جاؤں اورآپ ﷺ کا ساتھ چھوڑدوں۔
رسول اللہ ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا۔ جس وقت آپ نے اسے اتارا تو ایک شخص نے آ کر بتایا کہ ابن اخطل کعبہ کے پردوں سے لٹکا ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے قتل کر دو۔
غزوۂ تبوک کے موقع پر لوگوں کو سخت بھوک لگی، انہوں نے آپ ﷺ سے کہا یارسول اللہ! اگر آپ اجازت دیں تو ہم اپنی سواری کے اونٹ ذبح کرلیں تاکہ ان کا گوشت کھائیں اور ان کے روغن سے فائدہ اٹھائیں۔
رسول اللہ ﷺ نے دس جاسوسوں کی ایک جماعت بھیجی اور عاصم بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر بنایا۔
انہوں نے مجھے ایک چیز اختیار کرنے پر مجبور کردیا کہ یا تو یہ مذموم طریقے (بےجا اصرار) سے سوال کریں یا مجھے بخیل بنادیں تو میں بخیل بننے والا نہیں ہوں۔
ہم غزوہ خندق کے موقع پر خندق کھود رہے تھے کہ ایک بہت سخت قسم کی چٹان نکلی، صحابہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے عرض کیا: کہ خندق میں ایک چٹان ظاہر ہوگئی ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا: ”میں اندر اترتا ہوں“۔
اس شخص نے مجھ پر میری تلوار کھینچی تھی، جب کہ میں سویا ہوا تھا میں بیدار ہوا تو یہ اس کے ہاتھ میں سونتی ہوئی تھی، اس نے کہا: اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے کہا: اللہ
میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک تھا۔۔ میں اور ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہی رہے اور آپ ﷺ سے جدا نہ ہوئے، رسول اللہ ﷺ اپنے ایک سفید خچر پر سوار تھے۔
رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مسعود میں چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا پس ایک ٹکڑے کو پہاڑ نے چھپالیا اور دوسرا ٹکڑا پہاڑ کے اوپر تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے اللہ گواہ رہ“۔
ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ ہم رات بھر چلتے رہے اور جب رات کا آخری حصہ آیا تو ہم نے پڑاؤ ڈالا اور مسافر کے لیے اس وقت کے پڑاؤ سے زیادہ مرغوب اور کوئی چیز نہیں ہوتی ( پھر ہم اس طرح غافل ہو کر سو گیے) کہ ہمیں سورج کی گرمی کے سوا کوئی چیز بیدار نہ کر سکی۔ سب سے پہلے بیدار ہونے والا شخص فلاں تھا، پھر فلاں پھر فلاں، پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔
جب نبی ﷺ جنگِ خندق سے مدینہ واپس ہوئے اور ہتھیار اتار کر غسل کیا تو جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور کہا: آپ نے ہتھیار اتار دیے؟ اللہ کی قسم! ہم نے تو ابھی ہتھیار نہیں اتارے، چلیے ان کی طرف (حملہ کے لیے) نکلیے۔
گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں غبار کی طرف جو بنی غنم کی گلیوں میں اٹھی تھی وہ حضرت جبریل علیہ السلام کے قافلے کی تھی یہ اس وقت کا ذکر ہے جب رسول اللہ ﷺ بنی قریظہ سے لڑنے کے لیے چلے۔
قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اے عمر! جب شیطان کسی راستہ سے چلتا ہوا تم سے ملتا ہے تو وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔
غزوۂ خندق کے دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے، قبیلۂ قریش کے ایک شخص حبان بن عرقہ نامی نے ان پر تیر چلایا تھا اور وہ ان کے بازو کی رگ میں آ کے لگا تھا، تو رسول اکرم ﷺ نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگایا تاکہ آپ قریب سے ان کی عیادت کر سکیں۔
میں نے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی پر رشک نہیں کیا سوائے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے حالانکہ میں نے ان کو نہیں پایا۔ ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بکری ذبح کرتے تھے تو آپ ﷺ فرماتے کہ اس کا گوشت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو بھیج دو۔
ابراہیم میرا بیٹا ہے، وہ شیرخوارگی کی حالت میں فوت ہوا، اس کے لیے دو دایہ متعین کی گئی ہیں جو جنت میں اس کی مدتِ شِیر خوارگی کو پورا کررہی ہیں۔
جب سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان کے لیے جنت میں ایک دودھ پلانے والی ہے۔
کیا اللہ کے رسول ﷺ نے آپ کے لیے مغفرت کی دعا کی ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں! اور تمھارے لیے بھی کی ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ﴾ ”اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کے حق میں بھی“۔
کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ انہوں نے اس اس طرح کى باتیں کى ہیں؟ میں تو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، کبھی روزہ رکھتا ہوں اور کبھی نہیں رکھتا اور میں عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں۔ جس نے میری سنت سے گریز کیا اس کا مجھ سےکوئی تعلق نہیں۔
جب بھی رسول اللہ ﷺ کو دو چیزوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا، تو آپ ﷺ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب کرتے، بشرط کہ وہ آسان کام گناہ نہ ہوتا۔ اگر وہ گناہ ہوتا، تو آپ ﷺ اس سے سب سے زیادہ دور رہتے۔