عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: لما كان يوم حُنين آثر رسول الله صلى الله عليه وسلم ناسًا في القِسْمَة، فأعطى الأَقْرَع بن حَابِس مئة من الإبل، وأعطى عُيينة بن حِصن مثل ذلك، وأعطى نَاسًا من أشراف العَرب وآثَرَهُم يومئذ في القِسْمَة. فقال رجل: والله إن هذه قِسْمَة ما عُدل فيها، وما أُريد فيها وجه الله، فقلت: والله لأُخبرن رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتيته فأخبرته بما قال، فتغير وجهه حتى كان كالصِّرفِ. ثم قال: «فمن يَعْدِل إذا لم يعدل الله ورسوله؟» ثم قال: «يَرحم الله موسى، قد أُوذي بأكثر من هذا فصبر». فقلت: لا جَرم لا أرفع إليه بعدها حديثًا. المزيد
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ جب حنین کا معرکہ پیش آیا، تو رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت کی تقسیم میں کچھ لوگوں کو ترجیح دی۔ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ عطا فرمائے اور عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ کو بھی اتنا ہی مال عطا فرمایا۔ آپ نے عرب کے معزز لوگوں کو مال عطا فرمایا اور انھیں اس دن تقسیم میں ترجیح دی، تو ایک آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! یہ ایسی تقسیم ہے، جس میں عدل نہیں کیا گیا اور اس تقسیم سے اللہ کی رضا کا قصد نہیں کیا گیا۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں یہ بات رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کروں گا۔ میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کو وہ بات بتائی، جو اس آدمی نے کہی تھی۔ اس پر آپ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہوکر سرخ ہوگیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اللہ اور اس کا رسول عدل نہیں کریں گے، تو پھر کون عدل کرے گا؟ پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے۔ ان کو اس سے زیادہ تکلیف دی گئی اور انھوں نے صبر کیا! میں نے (اپنے جی میں) کہا: آئندہ میں ایسی بات آپ ﷺ کو نہیں بتایا کروں گا“۔