ایسے کوئی دن نہیں ہیں، جن میں نیکی کے کام کرنا اللہ کے نزدیک ان دنوں میں نیکی کے کام کرنے سے زیادہ محبوب ہو"۔ آپ کی مراد ذو الحجہ مہینہ کے ابتدائی دس دن ہیں
جس نے کسی معاہد کو قتل کیا، وہ جنت کی بو تک نہیں پائے گا، جب کہ اس کی بو چالیس سال کی مسافت سے مل جاتی ہے۔
ایک عورت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے کسی غزوے میں مقتول پائی گئی، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل کی نکیر فرمائی۔
جو شخص سچے دل سے اللہ سے شہادت مانگے گا، اللہ اسے شہیدوں کے مرتبوں تک پہنچا دے گا، اگرچہ اس کی وفات اپنے بستر پر ہی ہوئی ہو"۔
”جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو جہاد کے لئے سامان فراہم کیا، اس نے درحقیقت جہاد کیا اور جس نے مجاہد کے اہل و عیال کی اچھے انداز میں جانشینی کی، حقیقت میں اس نے جہاد کیا“۔
مجھ سے پہلے اللہ نے جتنے نبی بھیجے، ان کے لیے ان کی امت میں سے کچھ حواری اور ساتھی ہوتے تھے، جو ان کی سنت پر عمل اور ان کے حکم کی اقتدا کرتے تھے۔
(بغرض سفر) نبی ﷺ کا پاؤں رکاب میں تھا کہ ایک شخص نے پوچھا کہ (یا رسول اللہ!) کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا“۔
وہ جہنم میں ہے۔ لوگ اسے دیکھنے کے لیے گئے تو انہیں اس کے ہاں ایک چادر ملی جو اس نے (مال غنیمت سے) چرائی تھی۔
رسول اللہ ﷺ جب کسی شخص کو کسی لشکر یا سریہ کا امیر مقرر کر کے روانہ فرماتے تو اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور اپنے مسلمان ساتھیوں کے ساتھ خیر و بھلائی کی وصیت فرماتے۔
جس نے تیر اندازی کا فن سیکھا، پھر اس نے اسے چھوڑ دیا، وہ ہم میں سے نہیں، یا (فرمایا:) اس نے یقیناً نافرمانی کی.
جو شخص مر گیا اور اس نے نہ جہاد کیا اور نہ ہی کبھی اس کی نیت کی تو وہ نفاق کی قسموں میں سے ایک قسم پر مرا۔
جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں قتل ہو جائے وہ شہید ہے ۔ اور جو اپنے گھر والوں کی حفاظت یا خون یا دین کے دفاع میں قتل ہو جائے وہ بھی شہید ہے۔
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا یہ فرمان کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے جہاد کی اجازت چاہی تو آپ ﷺنے فرمایا : ’’تم عورتوں کا جہاد حج ہے"
میں ضرور یہودیوں اور نصرانیوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دوں گا، یہاں تک کہ مسلمان کے سوا کسی کو نہيں چھوڑوں گا
(جہاد میں) ایک دن اور رات کی پہرے داری پورا ماہ روزہ رکھنے اور اس میں قیام کرنے سے بہتر ہے اور اگر اس دوران اس شخص کی موت واقع ہو جائے تو اس کے اُس عمل کا ثواب بھی اس کے لیے لکھا جاتا رہے گا جو وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا اور اس کو رزق بھی دیا جائے گا اور وہ قبر کے فتنہ (فرشتوں کے سوالات) سے بھی محفوظ رہے گا۔
ہر مرنے والے کا عمل اس کی موت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے، سوائے اس شخص کے جو اللہ کی راہ (یعنی جہاد) میں سرحد پر پہرہ دیتا ہے۔ یقیناً اس کا عمل تاروز قیامت بڑھایا جاتا رہتا ہے اور قبر کی آزمائش سے بھی اس کو محفوظ رکھا جاتا ہے
جب اللہ (روز قیامت) اگلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا تو ہر عہد شکن کے لیے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا، اور کہا جائے گا: یہ فلان بن فلاں کی عہد شکنی ہے
اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والے کی حفاظت کی ذمے داری لی ہے؛ اگر اس کی وفات ہوگئی، تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور اگر وہ واپس آیا، تو ثواب اور مالِ غنیمت کے ساتھ واپس ہوگا۔
جو شخص بھی اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے زخمی ہوا وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہو گا جس کا رنگ تو خون جیسا ہو گا لیکن خوشبو مشک کی سی ہو گی۔
جو شخص (میدانِ جہاد میں) کسی کو قتل کرے اور اس پر گواہی موجود ہو تو اس سے چھینا ہوا (مال) بھی اسی (قتل کرنے والے )کے لیے ہے۔
ایک شخص نے اُحُد کے دن آپ ﷺ سے کہا: آپ کیا کہتے ہیں کہ اگر میں مارا گیا تو میں کہاں رہوں گا (میرا ٹھکانہ کہاں ہوگا)؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا جنت میں۔ انھوں نے اپنے ہاتھ سے کھجوریں پھینکیں اور لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہوگیے۔
کوئی شخص بھی ایسا نہ ہو گا جو جنت میں داخل ہونے کے بعد دنیا میں دوبارہ آنا پسند کرے، خواہ اسے دنیا میں موجود ہر شے مل جائے، سوائے شہید کے۔ اس کی یہ تمنا ہو گی کہ دنیا میں دوبارہ واپس جا کر دس مرتبہ اور قتل ہو کیونکہ وہ شہادت پر ملنے والی عزت کو دیکھ رہا ہوگا۔
اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال ایسے ہے جیسے وہ روزے دار شب بیدار جو انتہائی خشوع کے ساتھ اللہ کی آیات کو پڑھتا ہے اور روزہ و نماز میں کبھی بھی کمزوری نہیں دکھاتا یہاں تک کہ وہ مجاہد واپس لوٹ آئے۔
جس شخص نے اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے اللہ کى راه میں گھوڑا پالا، تو يقيناً اس (گھوڑے) کا چارہ، اس کا پانی، اس کی لید اور اس كا پیشاب قیامت والے دن اس کے پلڑے ميں ہوں گے۔
جو اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پرراضی ہو گیا، اس کے لئے جنت واجب ہو گئی
جو مسلمان آدمی اللہ کے راستہ میں اونٹنی کے تھنوں میں دودھ اترنے کے وقفے برابر بھی قتال کرے اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے اور جس شخص کو اللہ کے راستہ میں کوئی زخم لگ جائے یا تکلیف پہنچ جائے تو وہ قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ رستا ہوا آئے گا لیکن اس دن اس کا رنگ زعفران جیسا اور مہک مشک جیسی ہوگی۔
اے انصاریو! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا پھر تم کو میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت نصیب کی؟ کیا ایسا نہیں تھا کہ تم بکھرے ہوئے تھے اور اللہ نے میرے ذریعہ تمہیں باہم دگر جوڑ دیا؟ کیا تم محتاج نہیں تھے کہ پھر میرے ذریعہ سے اللہ نے تمہیں غنی کردیا؟
لوگوں کے لیے زندگی کے بہترین طریقوں میں سے یہ ہے کہ آدمی اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے گھوڑے کی لگام پکڑ رکھی ہو۔
تم میں سے جو شخص جہاد پر جانے والے کے اہل خانہ اور اس کے مال میں بھلائی کے ساتھ اس کی جانشینی کرے گا اس کو جہاد میں جانے والے کا نصف اجر ملے گا۔
جہاد کرنے والی جس جماعت یا جہاد کرنے والے جس لشکر نے جہاد کیا اور مالِ غنیمت لے کر صحیح و سالم واپس آگیا اس کو اس کا دو تہائی اجر جلدی (یعنی اسی دنیا میں ) مل گیا اور جہاد کرنے والی جس جماعت یا جہاد کرنے والے جس لشکر نے جہاد کیا اور نہ صرف یہ کہ اس کو مال غنیمت نہیں ملا بلکہ اس جماعت و لشکر کے لوگ زخمی ہوئے یا شہید کر دیے گیے تو ان کا اجر پورا باقی رہا۔
جس نے جہاد نہیں کیا یا کسی جہاد کرنے والے کے لیے سامان جہاد فراہم نہیں کیا یا کسی مجاہد کے اہل و عیال کی بھلائی کے ساتھ خبر گیری نہ کی تو اللہ روز قیامت سے پہلے اسے کسی سخت مصیبت سے دو چار کرے گا۔
میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ فلاں فلاں کو جلا دینا۔ لیکن آگ کی سزا تو صرف اللہ تعالیٰ ہی دے گا۔ اس لیے اگر تم ان کو پاؤ تو انہیں قتل کر دینا
مجاہدین کی عورتوں کی عزت و حرمت پیچھے رہ جانے والوں (یعنی جہاد کے لیے نہ جانے والوں) پر اسی طرح لازم ہے جس طرح کہ ان کی ماؤں کی عزت و حرمت ان پر لازم ہے۔
ہمیں خیبر کے دن کھانے کی کچھ چیزیں حاصل ہوئیں، تو لوگ آتے اور اس میں سے اتنا لے کر چلے جاتے، جو ان کے لیے کافی ہو
مسلمان دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ایک ہاتھ کی طرح ہیں، ان کا خون اور ان کا مال برابر ہے، ان کے کسی ادنی انسان کی دی ہوئی امان بھی اس لائق ہوتی ہے کہ سارے مسلمان اس کا احترام کریں اور مسلمانوں کى اور مال غنیمت ان میں کا سب سےدور شخص بھى لوٹاتا ہے
نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خالد بن ولید کو دومۃ الجندل کے حکمراں اکیدر کی جانب بھیجا۔ وہ ان کو گرفتار کر کے آپ کے پاس لائے تو آپ نے اس کے خون کو تحفظ فراہم کیا اور اس سے جزیہ پر مصالحت کر لی
رسول الله ﷺ بعض سرایا کے موقع پر اس میں شریک ہونے والوں کو غنیمت کے عام حصوں کے علاوہ اپنے طور پر بھی دیا کرتے تھے۔
بنی نضیر کے اموال وہ تھے، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو بغیر لڑائی کے عطا کیے تھے۔ مسلمانوں نے ان کے لیے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے تھے۔
ہم سے پہلے مال غنیمت کسی کے لیے حلال نہ تھا۔ پھر اللہ تعالی نے ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھتے ہوئے اسے ہمارے لیے جائز کر دیا۔
جب غزوہ احد کا وقت قریب آگیا تو مجھے میرے والد نے رات کو بلایا اور کہا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سب سے پہلا مقتول میں ہی ہوں گا۔
رسول اللہ ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا۔ جس وقت آپ نے اسے اتارا تو ایک شخص نے آ کر بتایا کہ ابن اخطل کعبہ کے پردوں سے لٹکا ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے قتل کر دو۔
شہید پانچ ہیں: طاعون کی بیماری سے مرنے والا، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، دب کر مرنے والا اور الله كى راہ میں شہید ہونے والا۔
رسول اللہ ﷺ نے دس جاسوسوں کی ایک جماعت بھیجی اور عاصم بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر بنایا۔
میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ نے جہنم سے محفوظ رکھا ہے۔ ایک گروہ وہ جو ہند پر لشکر کشی کرے گا اور ایک گروہ وہ ہو گا جو عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہو گا۔
عنقریب علاقے تمہارے لئے فتح کردیے جائیں گے اور (دشمنوں کے مقابلے میں) اللہ تمہارے لیے کافی ہو جائے گا چنانچہ تم میں سے کوئی بھی اپنے تیروں سے کھیلنے میں سستی نہ کرے۔