عن أبي موسى الأشعري-رضي الله عنه- قال: «سُئِلَ رَسُولُ الله -صلى الله عليه وسلم- عَنْ الرَّجُلِ: يُقَاتِلُ شَجَاعَةً، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً، وَيُقَاتِلُ رِيَاءً، أَيُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ الله؟ فَقَالَ رَسُولُ الله -صلى الله عليه وسلم-: مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ الله هِيَ الْعُلْيَا، فَهُوَ فِي سَبِيلِ الله».
[صحيح.] - [متفق عليه.]
المزيــد ...

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بہادری کی نمائش کے لیے جنگ کرتا ہے، ایک شخص مجرد حمیت کی بنا پر لڑتا ہے اور ایک شخص محض دکھاوے کے لیے لڑتا ہے، ان میں سے کون اللہ کی راہ میں ہے؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "جو شخص اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے لڑتا ہے صرف اسی کا لڑنا اللہ کے راستے میں ہے"۔

شرح

ایک شخص نے نبی ﷺ سے دریافت کیا کہ ایک ایسا آدمی ہے جو دشمنانِ دین سے لڑتا ہے تاہم لوگوں کے سامنے بہادری اور دلیری کا اظہار کرنا اسے لڑنے پر ابھارتا ہے، اسی طرح ایک ایسا شخص ہے جو اپنی قوم اور وطن کی حمیت میں لڑتا ہے اور تیسرا شخص لوگوں کو یہ دکھانے کے لیے لڑتا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ان لوگوں میں سے ہے جو تعریف و تعظیم کے مستحق ہوتے ہیں، ان تینوں میں سے کون سا شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہے؟ آپ ﷺ نے مختصر لیکن جامع ترین الفاظ میں جواب دیا کہ صرف وہی جہاد فی سبیل اللہ کرنے والا ہے جو اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے لڑتا ہے۔ اس کے علاوہ جو بھی ہے وہ اللہ کی راہ میں لڑنے والا نہیں ہوگا کیونکہ اس کا لڑنا کسی اور مقصد کے لیے تھا۔ اعمال کے اچھے یا برے ہونے کا مدار نیتوں پر ہوتا ہے۔تمام اعمال میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ ان کے اچھے یا برے ہونے میں نیت کی تاثیر ہوتی ہے۔ اس معنی پر دلالت کرنے والی بہت سی دلیلیں موجود ہیں۔

ترجمہ: ترکی زبان بوسنیائی زبان بنگالی زبان چینی زبان
ترجمہ دیکھیں