عن ابن مسعود -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: «ما من نبي بعثه الله في أُمَّةٍ قبلي إلا كان له من أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ وأَصْحَابٌ يأخذون بسُنته ويَقْتَدُونَ بأَمره، ثم إنها تَخْلُفُ من بعدهم خُلُوفٌ يقولون ما لا يفعلون، ويفعلون ما لا يُؤْمَرُونَ، فمن جَاهَدَهُمْ بيده فهو مؤمن، ومن جَاهَدَهُمْ بقلبه فهو مؤمن، ومن جَاهَدَهُمْ بلسانه فهو مؤمن، وليس وَرَاءَ ذلك من الإيمان حَبّةُ خَرْدَلٍ».
[صحيح.] - [رواه مسلم.]
المزيــد ...

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "مجھ سے پہلے اللہ نے جتنے نبی بھیجے، ان کے ان کی امت میں سے حواری اور ساتھی ہوتے تھے، جو ان کی سنت پر عمل اور ان کے حکم کی اقتدا کرتے تھے۔ پھر ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ پیدا ہوئے، جو ایسی باتیں کہتے، جو وہ کرتے نہیں تھے اور کرتے وہ کام تھے جن کا انھیں حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ پس جو شخص ان سے ہاتھ سے جہاد کرے گا، وہ مومن ہے، جو ان سے دل سے جہاد کرے گا، وہ مومن ہےاور جو ان سے اپنی زبان سے جہاد کرے گا، وہ مومن ہے، اور اس کے علاوہ رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں‘‘۔

شرح

نبی ﷺ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جتنے نبی بھیجے، ان کی امّت میں کچھ ایسے مخلص و پاکیزہ لوگ ہوتے تھے، جو ان کے بعد خلافت کا بار اٹھانے کے لیے درست ہوتے اور کچھ ایسے ساتھی ہوتے تھے، جو ان کی سنت و طریقے کو اپناتے اور ان کے حکم کی بجا آوری کرتے۔ پھر ان کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہو گئے، جو ایسی چیزوں کا اظہار کرتے، جو انھیں دی نہیں گئی ہوتیں؛ یعنی حمیدہ میں سے کسی وصف سے متصف ہونے کا دعوی تو کرتے، لیکن وہ اس سے عاری ہوتے۔ نیز خلاف مامور غیر شرعی منکرات کو بھی انجام دیتے۔ ایسے میں جو ان کے ساتھ ہاتھ سے جہاد کرے؛ بشرطے کہ منکر کا ازالہ اسی پر موقوف ہو اور اس پر اس سے بڑے فتنے کا اندیشہ نہ ہو، تو وہ کامل مؤمن ہے۔ اور جو ان سے اپنی زبان کے ذریعے جہاد کرے، اس طرح کہ اس کا انکار کرے اور اس کے روکنے والے کی مدد کرے، وہ بھی مؤمن ہے اورجو ان سے اپنے دل سے جہاد کرے؛ اس طرح کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے اس کے ازالے کی مدد کا خواہاں ہوں، وہ بھی مومن ہے اور دل سے منکر کو ناپسند کرنے کے ورے ایمان کا کوئی درجہ نہیں ہے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان ہسپانوی زبان ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان
ترجمہ دیکھیں