عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «من رأى منكم منكراً فليُغيِّره بيده، فإلم يستطع فبلسانه، فإلم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان».
[صحيح] - [رواه مسلم]
المزيــد ...

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسولﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’تم میں سے جو شخص کوئی برائی دیکھے، وہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل (روک) دے۔ اگر وہ اس کی طاقت نہیں رکھتا، تو پھر اپنی زبان سے بدل دے۔ اگر وہ اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا، تو پھر اسے اپنے دل میں برا جانے اوریہ ایمان کا کم تر درجہ ہے۔‘‘
صحیح - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

شرح

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسولﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’تم میں سے جو شخص کوئی برائی دیکھے‘‘۔ یہ خطاب تمام لوگوں سے ہے۔ مرد عورتیں، چھوٹے بڑے سب اس میں شامل ہیں۔ اس میں ہر وہ شخص شامل ہے، جو 'مَن' اور 'منكم' کے خطاب کے دائرے میں آتا ہے۔ 'منکر' وہ چیز ہے، جو بذاتِ خود ناپسندیدہ ہو۔ اس کی پہچان دو امور سے ہوتی ہے: شرعی ممانعت اور عقلی دلیل سے۔ مگر اس پر گناہ اسی وقت مرتب ہوتا ہے، جب شرعی خطاب موجود ہو۔ 'معروف' کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ لیکن یہاں خواہش نفس اور قلبی چاہت کا کوئی دخل نہیں ہے۔ پھر اللہ کے رسولﷺ نے برائی سے روکنے والے کے امکانات کے مطابق برائی سے روکنے کے درجات بیان فرمائے ہیں۔ پہلے درجہ سے آغاز کرتے ہوئے ہاتھ سے روکنے کاتذکرہ فرمایا، جو کہ ارباب حکومت یا ایسے قدرت رکھنے والے لوگوں کا کام ہے، جو حکمت سے کام لیں اور ان کے برائی سے روکنے کے نتیجے میں اس جیسی یا اس سے بڑی کوئی برائی سامنے نہ آئے۔ اگر ہاتھ سے روکنےکی طاقت نہ ہو، تو اپنی زبان سے روکے۔ زبان سے روکنے کا کام بھی مناسب اسلوب میں اور غیر بھڑکاؤ انداز میں ہونا چاہیے، تاکہ اس سے بڑی برائی سامنے نہ آ جائے۔اگر اپنی زبان سے بھی نہ روک سکے، تو اپنے دل کے ذریعہ روکے۔ یعنی زبان سے انکار کرنے کی صورت میں اگر نقصان لاحق ہونے کا اندیشہ ہو، تو پھر اپنے دل سے اس برائی کو برا جانے، ناپسند کرے اور اس سے نفرت کرے۔ ہوسکے تو برائی کی جگہ سے ہٹ بھی جائے۔ یہ دل سے براجاننا ایمان کا کم تر درجہ ہے۔ یعنی یہ ایمان کے اس شعار کاسب سے کم تر مرتبہ ہے۔ کیوں کہ یہ کم ترین عمل ہے، جو کیا جا سکتا ہے۔

ترجمہ: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان بنگالی زبان کردی پرتگالی سواحلی
ترجمہ دیکھیں
1: یہ حدیث برائی سے روکنے کے مراتب کے سلسلے میں بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔
2: انسان پر اپنی طاقت کے مطابق برائی سے روکنا واجب ہے۔
3: برائی سے روکنے کے سلسلے میں اسباب کو بروئے کار لانا۔
4: بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا باب دین کا ایک اہم عظیم ترین باب ہے۔ اسی پر دینی نظام کی درستگی کا انحصار ہے۔
5: شریعت نے لوگوں کے برائی سے روکنے کی الگ الگ طاقت کا خیال رکھا ہے۔
6: برائی پر مرتب ہونے والی سزا کو جاننے کے لیے کتاب و سنت کی جانب رجوع کرنا پڑے گا۔ یہاں انسانی خواہشات کا کوئی دخل نہيں ہے۔
7: اس شخص کی کے لیے رہنمائی، جو کسی کے ماتحت اور زیر نگرانی ہو اور اس سے صادر ہونے والی برائی کو کیسے روکا جائے ان کی نشان دہی۔
8: ایمان کے قول، عمل اور نیت جیسے مراتب اور درجات ہیں، جو بڑھتے اور گھٹتے ہیں۔