عن أم سلمة هند بنت أبي أمية حذيفة رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «إِنَّه يُسْتَعمل عَلَيكُم أُمَرَاء فَتَعْرِفُون وَتُنكِرُون، فَمَن كَرِه فَقَد بَرِئ، ومَن أَنْكَرَ فَقَد سَلِمَ، ولَكِن مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ» قالوا: يا رسول الله، أَلاَ نُقَاتِلُهُم؟ قال: «لا، ما أَقَامُوا فِيكُم الصَّلاَة».
[صحيح] - [رواه مسلم]
المزيــد ...

ام سلمہ ہند بنت ابی امیہ حذیفہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دیکھو، تم پر (مستقبل میں) کچھ ایسے امیر مقرر کیے جائیں گے جن کے کچھ کام تمہیں بھلے لگیں گے اور کچھ برے۔ جس نے ان (کے برے کاموں ) کو ناگوار جانا وہ گناہ سے بری ہے اور جس نے ان کے خلاف آواز اٹھائی وہ سلامت رہا۔ سوائے اس شخص کے جو (ان کے برے کاموں پر) راضی رہا اور اس نے ان کی پیروی کی (ایسا شخص انہی کی طرح ہلاکت میں پڑے گا)۔ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں (ایسا نہ کرنا) جب تک کہ وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں۔
صحیح - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

شرح

نبی ﷺ نے آگاہ فرمایا کہ عنقریب ہم پر حکمران کی طرف سے ایسے امراء مقرر کیے جائیں گے جن کے کچھ کام ہمیں پسند آئیں گے کیونکہ وہ شریعت کے موافق ہوں گے اور بعض کو ہم ناپسند کریں گے کیوں کہ وہ مخالفِ شریعت ہوں گے۔ جس نے اپنے دل میں برائی کو ناگوار جانا لیکن ان امراء کی پکڑ کے خوف سے ان کے خلاف آواز اٹھانے کی اس میں سَکَتْ نہ ہو تو وہ گناہ سے بری رہا اور جو ہاتھ یا زبان سے انھیں روکنے کی قدرت رکھتا ہو اور وہ انھیں اس سے روکے تو وہ سلامت رہا لیکن جو دل سے ان کے (بُرے) کام پر راضی ہو گیا اور اسے کرنے میں اس نے ان کی پیروی کی وہ انھیں کی طرح ہلاکت میں پڑے گا۔ پھر نبی ﷺ سے لوگوں نے دریافت فرمایا: کیا ہم ان سے قتال نہ کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں (ان سے قتال نہ کرو)، جب تک کہ وہ تم میں نماز کو قائم کرتے رہیں۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی سنہالی ایغور کردی ہاؤسا پرتگالی مليالم تلگو سواحلی تمل بورمی جرمنی جاپانی
ترجمہ دیکھیں

فوائد

  1. نبیﷺ کا ایک معجزہ ان غیبی امور کے بارے میں بتانا بھی تھا، جو کچھ وقفے کے بعد واقع ہونے والے تھے۔
  2. اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ استطاعت کے مطابق منکر کا انکار کرنا واجب ہے اور حاکموں کے خلاف خروج کرنا جائز نہیں ہے، الا یہ کہ وہ نماز کو ترک کردیں، کیوں کہ نماز کفر اور اسلام کے درمیان فرق کرنے والی چیز ہے۔
  3. منکر کے روکنے اور حاکم وقت کی اطاعت کا پٹہ گلے سے اتار پھینکنے کا پیمانہ شریعت ہے، خواہش نفس، معصیت یا گروہ بندی نہيں۔
  4. ظالموں کا ساتھ دینا، ان کی مدد کرنا، ان کو دیکھنے پر خوشی کا اظہار کرنا اور بلا کسی شرعی ضرورت کے ان کے پاس بیٹھنا جا‏ئز نہيں ہے۔
  5. جب حکام کوئی شریعت مخالف چیز ایجاد کریں، تو اس پر امت کا ان کی موافقت کرنا جائز نہيں ہے۔
  6. اس حدیث میں فتنے بھڑکانے اور انتشار پیدا کرنے سے آگاہ کیا گیا ہے اور اسے نافرمان حکمرانوں کی بری باتوں کو برداشت کرنے اوران کی تکلیفوں پر صبرکرنے کے مقابلے میں زیادہ برا سمجھا گیا ہے۔
  7. نماز اسلام کا عنوان اور اسلام و کفر کے درمیان فارق ہے ۔
  8. اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ نماز کا چھوڑنا کفر ہے۔ اس لیے کہ حکمرانوں سے جنگ کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہے، جب تک کہ ہم کھلا کفر نہ دیکھ لیں، جس کے بارے میں ہمارے پاس اللہ کی طرف سے کوئی دلیل ہو۔ لہذا جب اللہ کے نبی ﷺ نے ہمیں اس بات کی اجازت دی کہ جب وہ نماز قائم نہ کریں، تو ان سے جنگ کرو، تو یہ اس بات پر دال ہے کہ نماز کا ترک کرنا کھلا ہوا کفر ہے، جس کے بارے میں ہمارے پاس دلیل موجود ہے۔
مزید ۔ ۔ ۔