1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. دعوت و احتساب

حدیث صبر کرو، کیوں کہ تم پر ہر بعد میں آنے والا دور پہلے سے برا ہو گا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو۔

عن الزبير بن عدي، قال: أَتَيْنَا أنسَ بنَ مَالِكٍ رضي الله عنه فَشَكَوْنَا إليه ما نَلْقَى من الحَجَّاجِ، فقال: «اصْبِرُوا، فإنه لا يأتي زمانٌ إلا والذي بعده شَرٌّ منه حَتَّى تَلْقَوا رَبَّكُم» سمعتُه من نَبِيِّكُم صلى الله عليه وسلم .

زبیر بن عدی بیان کرتے ہیں کہ ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے حجاج کے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی شکایت کی۔ انھوں نے فرمایا: صبر کرو، کیوں کہ تم پر ہر بعد میں آنے والا دور پہلے سے برا ہو گا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ میں نے یہ تمھارے نبی ﷺ سے سنا ہے۔

صحیح اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

شرح

زبیر بن عدی کچھ لوگوں کے ساتھ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جو رسول اللہ ﷺ کے خادم تھے۔ انھوں نے ان سے حجاج بن یوسف ثقفی کی شکایت کی، جو اموی خلفا کا گورنر تھا، وہ بہت ہی جابر اور سر کش تھا اور ظلم و خون ریزی میں مشہور تھا۔ انس رضی اللہ عنہ نے انھیں حکمرانوں کے ظلم پر صبر کرنے کی تلقین کی اور بتایا کہ لوگوں پر آنے والا ہر زمانہ اپنے سے پہلے والے زمانے سے بد تر ہو گا، یہاں تک کہ وہ اپنے رب سے جا ملیں۔ مزید بتایا کہ انھوں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔ یہاں شر سے مراد مطلق شر نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ بعض جگہوں پر تو یہ شر ہو گا اور بعض دوسری جگہوں پر خیر ہو گا۔

تراجم کا مشاہدہ

16 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية