+ -

عن عرفجة رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:
«مَنْ أَتَاكُمْ وَأَمْرُكُمْ جَمِيعٌ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ، يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاكُمْ، أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَكُمْ، فَاقْتُلُوهُ».

[صحيح] - [رواه مسلم] - [صحيح مسلم: 1852]
المزيــد ...

عرفجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا:
"جو شخص تمھارے پاس اس حال میں آئے کہ تم لوگ بالاتفاق کسی کو خلیفہ مان کر اس کی اطاعت کر رہے ہو، وہ تمھارے اس اتحاد کو پارہ پارہ کرنا چاہے یا تمھاری جماعت کے شیرازے کو منتشر کرنا چاہے، تو اسے قتل کر دو۔"

صحیح - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جب مسلمان بالاتفاق کسی کو حکمراں مان چکے ہوں اور ایک جماعت کی شکل میں رہ ہے ہوں اور پھر کوئی آکر ان کے حکمراں سے اس کی حکمرانی چھیننا چاہے یا مسلمانوں کی جماعت کو ایک سے زیادہ جماعتوں میں بانٹنا چاہے، مسلمانوں پر اسے روکنا اور اس سے جنگ کرنا واجب ہوگا، تاکہ اس کی برائی سے بچا جا سکے اور مسلمانوں کی خوں ریزی سے تحفظ فراہم ہو سکے۔

ترجمہ: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان ایغور بنگالی زبان فرانسیسی زبان ترکی زبان روسی زبان بوسنیائی زبان سنہالی ہندوستانی چینی زبان فارسی زبان ویتنامی کردی ہاؤسا پرتگالی مليالم تلگو سواحلی تمل بورمی تھائی جاپانی پشتو آسامی الباني السويدية الأمهرية الهولندية الغوجاراتية القيرقيزية النيبالية اليوروبا الليتوانية الدرية الصومالية الكينياروندا التشيكية
ترجمہ دیکھیں

حدیث کے کچھ فوائد

  1. مسلمانوں کا حکمراں جب تک کسی گناہ کے کام کا حکم نہ دے، اس کی بات سننا اور اس کے حکم کی تعمیل کرنا واجب اور اس کے خلاف بغاوت کرنا حرام ہوگا۔
  2. جو مسلمانوں کے حکمراں اور ان کی جماعت کے خلاف علم بغاوت بلند کرے، اس سے جنگ کرنا واجب ہوگا، چاہے وہ عزت و شرافت اور حسب ونسب کے معاملے میں کتنے ہی اونچے مقام پر فائز کیوں نہ ہو۔
  3. اجتماعیت کو برقرار رکھنے اور تفرق و اختلاف کا شکار نہ ہونے کی ترغیب۔
مزید ۔ ۔ ۔