عن عائشة -رضي الله عنها-، أنَّ أبا بكر دَخَل على النبي -صلى الله عليه وسلم- بعد وفاته، فَوَضَع فَمَهُ بَيْن عيْنَيْه، ووَضَعَ يديْه على صُدْغَيه، وقال: «وَانَبِيَّاهُ، وَاخَليلاهُ، وَاصَفِيَّاهُ».
[حسن.] - [رواه أحمد.]
المزيــد ...

عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ، نبي صلی اللہ علیہ و سلم کے انتقال کے بعد آپ کے پاس آئے، اپنا منہ آپ کی دونوں آنکھوں کے بیچ رکھا، اپنے دونوں ہاتھ آپ کی دونوں کنپٹیوں پر رکھے اور کہا : "ا"ہائے نبی! ہائےمخلص دوست! ہائےبرگزیدہ شخصیت!
حَسَنْ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

شرح

ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد آپ کے پاس آئے، آپ کی دونوں آنکھوں کے بیچ اپنا منہ اور آپ کى دونوں کنپٹیوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر آپ کا بوسہ لیا اور فرمایا : "ہائے نبی! ہائےمخلص دوست! ہائےبرگزیدہ شخصیت!"۔ یعنی ابو بکر رضی اللہ عنہآپ کى موت کى وجہ سے غم واندوہ اور تکلیف وپریشانی میں ڈوب گئے اور نبی صلى اللہ علیہ وسلم کو اس بات کے ساتھ یاد کیا کہ صلى اللہ علیہ وسلم ان کے مخلص دوست تھے، جن سے وہ تمام لوگوں سے زیادہ محبت کرتے تھے اور جن کو ہر ایک پر، یہاں تک کہ اپنے اوپر بھی ترجیح دیتے تھے۔ اسے عربی میں "النُّدبة" کہا جاتا ہے، جس کے معنی ہیں میت کے محاسن اور فضائل بیان کرنا۔ اگر دل کے اندر مصیبت پر اعتراض اور بے صبری کی کیفیت نہ ہو، ساتھ ہی آواز اونچی نہ ہو، جیسا کہ عورتیں چیخ اور چلا کر روتی ہیں، تو یہ جائز ہے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہی کیا تھا۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان چینی زبان فارسی زبان ہندوستانی ہاؤسا
ترجمہ دیکھیں