عن أنس بن مالك -رضي الله عنه-، قال: «لمَّا كان اليوم الذي دَخَل فيه رسول الله -صلى الله عليه وسلم- المدينةَ أضاءَ منها كلُّ شيء، فلمَّا كان اليوم الذي مات فيه أَظْلَم منها كلُّ شيء، وما نَفَضْنا عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- الأيْدِي وإنَّا لفي دَفْنِه حتى أَنْكَرْنا قلوبَنا».
[صحيح.] - [رواه الترمذي وابن ماجه وأحمد.]
المزيــد ...

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : "جس دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم مدینے میں داخل ہوئے، تو اس کی ہر چیز روشن ہو گئی اور جس دن آپ کی وفات ہوئی، تو اس کی ہر چیز پر اندھیرا چھا گیا۔ ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی تدفین کے بعد اپنے ہاتھ بھی نہیں جھاڑے تھے اور ابھی آپ کو دفن کرنے میں مشغول ہی تھے کہ ہم اپنے دلوں کو پہچان نہیں پا رہے تھے"۔
صحیح - اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔

شرح

انس بن مالک رضی اللہ عنہ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ جب آپ مکہ سے ہجرت کرکے آئے اور پہلی بار مدینے میں داخل ہوئے، تو اس کا ذرہ ذرہ روشن ہو گيا اور جس دن آپ فوت ہوئے، تو اس کا ذرہ ذرہ اندھیرے میں گم ہو گیا۔ یاد رہے کہ اس حدیث میں روشن ہونے اور تاریکی چھانے کی جو بات کہی گئی ہے، وہ حسی نہیں، بلکہ معنوی ہے۔ انھوں نے آگے بتایا کہ جب وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین سے فارغ ہوئے، تو اپنے دلوں کو, وحی کا سلسلہ بند ہونے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت کی برکت سے محرومی کی وجہ سے, اس سابقہ روشن وآباد حالت میں نہیں پایا، کہ جس حالت میں رسول صلی اللہ علیہ و سلم کى حیات مبارکہ میں, انوار ایمانی, رقت کے نظاروں اور آپسی میل محبت کے جلؤوں کى بنا پر, اپنے دلوں کو پاتے تھے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان چینی زبان فارسی زبان ہندوستانی ہاؤسا
ترجمہ دیکھیں