عن أنس رضي الله عنه قال: غاب عمي أنس بن النَّضْرِ رضي الله عنه عن قتال بدر، فقال: يا رسول الله، غِبْتُ عن أول قتال قاتلت المشركين، لئن الله أشهدني قتال المشركين لَيُرِيَنَّ الله ما أصنع. فلما كان يوم أُحُدٍ انْكَشَفَ المسلمون، فقال: اللَّهم أعْتَذِرُ إليك مما صنع هؤلاء - يعني: أصحابه - وأبرأُ إليك مما صنع هؤلاء - يعني: المشركين - ثم تقدم فاستقبله سعد بن معاذ، فقال: يا سعد بن معاذ، الجنَّة وربِّ الكعبة إنِّي أجِدُ ريحها من دونِ أُحُدٍ. قال سعد: فما استطعت يا رسول الله ما صنع! قال أنس: فوجدنا به بِضْعَا وثمانين ضربة بالسيف، أو طعنة بِرُمْح، أو رَمْيَة بسهم، ووجدناه قد قُتل ومَثَّل به المشركون فما عَرفه أحدٌ إلا أُختُه بِبَنَانِهِ. قال أنس: كنَّا نرى أو نَظُنُّ أن هذه الآية نزلت فيه وفي أشباهه: {من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه} [الأحزاب: 23] إلى آخرها. المزيد
انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے چچا انس بن نضر رضی اللہ عنہ جنگ بدر میں غیرحاضر رہے تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسول پہلی جنگ جو آپ نے مشرکوں سے لڑی میں اس میں شریک نہ تھا البتہ آئندہ اگر اللہ نے مشرکین سے لڑائی کا موقع مجھےعطا فرمایا تو میں جو کچھ کروں گا اللہ اسے دکھائے گا۔ پس جب احد والا دن ہواتو مسلمانوں نے اپنے مورچے چھوڑ دئے اور شکست کھا گئے، تو انہوں نے کہا: اے اللہ میں تجھ سے اس حرکت کی عذر خواہی کرتا ہوں جو ان مسلمانوں نے کی ہے،اور میں تیرے سامنے بیزاری ظاہر کرتا ہوں، اس حرکت سے جو ان مشرکوں نے کی ہے۔ پھر وہ آگے بڑھے تو ان کا سامنا سعد بن معاذ سے ہوا، آپ نے ان سے کہا: اے سعد بن معاذ! جنت،رب کعبہ کی قسم ! میں اس کی خوشبو احد پہاڑ سے بھی زیادہ قریب محسوس کر رہا ہوں۔ سعد نے کہا: اے اللہ کے رسول! انھوں (انس بن نضر) نے جو کیا مجھ سے وہ نہیں ہوسکا! انس بن مالک کہتے ہیں کہ ہم نے ان کے جسم پر اسی (80) سے زیادہ تلوار کی چوٹیں یا نیزے کے زخم یا تیر کے نشان پائے۔ اور ہم نے انھیں دیکھا کہ وہ قتل (شہید) کر دیے گئے تھے اور مشرکوں نے ان کا مثلہ کردیا تھا (یعنی انکے کان ناک وغیرہ کاٹ ڈالے تھے) اس سبب سے ان کی بہن کے سوا کسی نے ان کو نہیں پہچانا، انہوں نے ان کو انکی انگلیوں کے پوروں سے پہچانا۔ انس بن مالک نے فرمایا: ہم خیال کرتے تھے کہ یہ آیت ان کے اور ان جیسے مسلمانوں ہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے: ﴿مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّـهَ عَلَيْهِ...﴾ [الأحزاب: 23] ”مومنوں میں کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے وہ عہد سچ کر دکھایا جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا...“ آخر آیت تک۔