فضائل

168حدیث کی فہرست 12فرعی اقسام

حدیث کی فہرست 168

”یقیناً حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے
”اگر تم اللہ تعالیٰ پر ویسا ہی توکّل (بھروسہ) کرو جیسا کہ اس پر توکّل کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے۔ وہ صبح كو خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔“
تمھاری زبان ہر وقت اللہ عز و جل کے ذکر سے تر رہے
”بیواؤں اور مسکینوں کے لیے تگ و دو کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے یا رات میں قیام کرنے والے اور دن میں روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔“
”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ اور میری قبر کو میلہ گاہ نہ بناؤ۔ مجھ پر درود بھیجو۔ تمہارا بھیجا گیا درود مجھ تک پہنچتا ہے تم چاہے جہاں بھی رہو“۔
”پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک اپنے مابین سرزد ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے“۔
ایک مسلمان کو جو بھی تکان، مرض، پريشانی، صدمہ، تکلیف یا غم پہنچتا ہے، حتی کہ اگر كوئی کانٹا بھی چبھتا ہے، تو اللہ تعالی اس کے بدلے میں اس کے گناہ معاف کردیتے ہیں۔
جو شخص طلب علم میں (اپنے گھر سے) نکلتا ہے وہ ایسے ہے جیسے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا، یہاں تک کہ وہ واپس لوٹ آئے۔
”یقیناً حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے
”اگر تم اللہ پر ویسے بھروسہ کرو، جیسا کہ بھروسہ کرنے کا حق ہے، تو تمہیں ایسے رزق دیا جائے، جیسے پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے۔ وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو آسودہ حال واپس آتے ہیں“۔
ایک بندے نے گناہ کیا اور پھر بول اٹھا : اے اللہ! میرا گناہ معاف کر دے
”ہر اچھا کام صدقہ ہے“۔
رشتے ناتے کو کاٹنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
”جو اس بات کا خواہش مند ہو کہ اس کی روزی میں فراخی ہو اور اس کی عمر دراز کر دی جائے، اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کیا کرے“۔
دعا ہی عبادت ہے
”اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز و مکرم کوئی چیز نہیں“۔
”جس نے دن میں سو بار ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ“ پڑھا، اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔“
جس نے دس بار "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ" (اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہيں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہيں ہے، اسی کی بادشاہت ہے، اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے) کہا
”جس کے ساتھ اللہ خیر کا ارادہ کرتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے
”جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا، اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجر اس طرح کی دس نیکیوں کے برابر ہوتا ہے
جو بندہ سچے دل سے یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں، اسے اللہ جہنم پر حرام کر دیتا ہے
بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ جو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، اللہ تعالیٰ اسے عذاب نہ دے
جو کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا ہوا مرا، وہ جنت میں داخل ہو گا، اور جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرا، و ہ جہنم میں داخل ہو گا۔‘‘
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری امت کے ایک شخص کو چھانٹ کر نکالے گا اور سارے لوگوں کے سامنے لائے گا
تم اللہ سے ڈرتے رہنا اور اپنے حکمرانوں کا حکم سننا اور ماننا۔ خواہ حکمراں ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ تم میرے بعد بہت زیادہ اختلاف دیکھو گے۔ لہذا تم میری سنت اور میرے نیک اور ہدایت یاب خلفاء کی سنت پر چلتے رہنا
جب مؤذن نے "اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ" کہا اور تم میں سے کسی نے "اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ" کہا
اللہ تعالی نے فرمایا: میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھا آدھا بانٹ دیا ہے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے، جو وہ مانگے
میں نے اس وجہ سے تم سے قسم نہیں اٹھوائی کہ مجھے تم پر شک ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور انھوں نے مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے تم پر فخر کر تا ہے۔
اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ جب میں اپنے کسی مومن بندے سے، اہل دنیا میں سے اس کا کوئی عزیز لے لیتا ہوں اور وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے، تو اس کے لیے سوائے جنت کے میرے پاس کوئی اجر نہیں ہے۔
سب سے بہتر دینار جو آدمی خرچ کرتا ہے، وہ دینار ہے، جسے وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، اور وہ دینار ہے جسے وہ اللہ کی راہ میں وقف کیے ہوئے اپني سواری کے جانور پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے، جو اللہ کی راہ میں اپنے دوست احباب پر خرچ کرتا ہے"۔
میری قبر کو عید ( میلا) نہ بنا لینا اور نہ ہی اپنے گھروں کو قبرستان بننا۔ مجھ پر درود وسلام بھیجا کرو۔ کیوں کہ تمھارا بھیجا گیا سلام مجھ تک پہنچتا ہے چاہے، تم جہاں بھی ہو۔
”جو شخص دو لڑکیوں کو ان کے جوان ہونے تک پالے، تو قیامت کے دن میں اور وہ اس طرح سے آئیں گے“۔ یہ کہتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ملا کر دکھایا۔
’’تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتے، جب تک مؤمن نہ بن جاؤ اور مؤمن اس وقت تک نہيں بس سکتے، جب تک ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو۔ کیا میں تمھیں ایسا کام نہ بتاؤں، جسے کرنے سے تم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے؟ اپنے درمیان سلام عام کرو۔‘‘
کون سا عمل اللہ کے نزدیک سب سے محبوب ہے؟ تو آپ نے جواب دیا: "وقت پر نماز پڑھنا۔" انھوں نے پوچھا کہ پھر کون سا؟ تو آپ نے جواب دیا: "والدین کی فرماں برداری کرنا۔" انھوں نے پوچھا کہ پھر کون سا؟ تو آپ نے جواب دیا: "اللہ کے راستے میں جہاد کرنا
بدشگونی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے۔ -آپ نے یہ بات تین بار کہی-" ویسے ہم میں سے ہر شخص کے دل میں اس طرح کی بات آتی ہے، لیکن اللہ عز و جل توکل کے ذریعے اسے ختم کر دیتا ہے۔
اللہ کی قسم! تمھارے ذریعے سے کسی ایک آدمی کا ہدایت یافتہ ہو جانا تمھارے لیے (بیش قیمت) سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔‘‘
کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے تمام گناہ کو منہدم کرتا ہے اور ہجرت اپنے سے پہلے کے گناہ کو ختم کردیتی ہے اور حج اپنے سے پہلے کے گناہ کو ختم کرتا ہے؟۔
اللہ سے ڈرو جو تمھارا رب ہے، نمازِ پنجگانہ پڑھو، ماہِ رمضان کے روزے رکھو، اپنے مال کی زکات ادا کرو اور اپنے امرا کی اطاعت کرو، تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔
کیا میں تمہیں ایسی چیزیں نہ بتاؤں، جن سے اللہ تعالی گناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند کر دیتا ہے؟
”کیا میں تمھیں ایسا عمل نہ بتاؤں جو تمھارے سارے اعمال سے بہتر، تمھارے مالک کے ہاں سب سے زیادہ پاکیزہ، تمھارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرنے والا ہے،
’’ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو"۔ کسی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! آپ کس کی بات کر رہے ہيں؟ آپ نے فرمایا : "اس شخص کی جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا، ان ميں سے کسی ایک کو یا دونوں کو، پھر (ان کی خدمت کرکے) جنت میں داخل نہ ہوسکا۔‘‘
مفرِّدون سبقت لے گئے
”جس رات مجھے معراج کرائی گئی، اس رات میں ابراہیم علیہ السلام سے ملا، ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد! اپنی امت کو میری جانب سے سلام کہہ دینا اور انہیں بتا دینا کہ جنت کی مٹی بہت اچھی (زرخیز) ہے اور اس کا پانی بہت میٹھا ہے۔
اگر تم ویسے ہی ہو، جیسا تم نے بتایا ہے، تو گویا تم انھیں گرم گرم راکھ کھلا رہے ہو اور جب تک تم اس حالت پر رہو گے، اللہ کی طرف سے تمھارے ساتھ ایک مددگار متعین رہے گا"۔
جو لوگ کسی مجلس سے اٹھیں اور اس مجلس ميں انہوں نے اللہ کا ذکر نہ کیا ہو، تو ان کا وہاں سے اٹھنا ایسے ہے، جیسے وہ مردہ گدھے کے پاس سے اٹھے ہوں اور یہ مجلس (روزِ قیامت) ان کے لیے حسرت کا سامان ہو گی"۔
مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرے پاس اس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو، پھر مجھ پر تین دن گزر جائیں اور میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی موجود ہو، ماسوا اس شے کے جسے میں قرض کی ادائیگی کے لیے سنبھال کر رکھ لوں۔ اس کے سوا جتنا کچھ بھی ہو میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح، اس طرح اور اس طرح تقسیم کردوں۔
اے اللہ کے رسول ﷺ! لوگوں میں کون شخص ہے جو بہترین ساتھی ہے؟ آپ نے فرمایا تمہاری ماں، پھر تمہاری ماں، پھر تمہاری ماں اور پھر تمہارا باپ، پھر اس سے قریب پھر اس سے قریب والا۔
ایک شخص نے آپ ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو روزہ رکھو اور اگر چاہو تو روزہ نہ رکھو۔
’’تمھاری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رہے۔‘‘
قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ تم کو ختم کردے گا اور تمہاری جگہ ایسے لوگ لائے گا جو گناہ کر کے اللہ سے مغفرت طلب کریں گے اور اللہ ان کو بخش دے گا۔
لوگو! سلام عام کرو، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو اور رات میں جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو نماز پڑھو، سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤگے۔
اللہ تعالی فرماتا ہے جب تک بندہ میرا ذکر کرتا رہتا ہے اور اس کے ہونٹ میرے ذکر میں متحرک رہتے ہیں، میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔
جب میرا بندہ کسی برائی کے ارتکاب کا ارادہ کرے تو اسے اس وقت تک نہ لکھو جب تک کہ وہ اس کا ارتکاب نہ کر لے۔ اگر وہ اسے کر لے تو اسے ایک ہی برائی لکھو اور اگر وہ اسے میری وجہ سے چھوڑ دے تو اسے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دو
یہ شخص جس کی تم نے اچھے الفاظ میں تعریف کی، اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ اور یہ شخص جس کی تم نے برے الفاظ میں تعریف کی، اس کے لیے جہنم واجب ہوگئی، تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔
جو شخص قرآن کے پڑھنے میں ماہر ہو، وہ معزز اور نیک سفراء (فرشتوں) کے ساتھ ہو گا، اور جو شخص قرآن کو اٹک اٹک کر پڑھتا ہو اور اسے پڑھنے میں مشقت ہوتی ہو تو اس کو دو گنا ثواب ملتا ہے۔
اللہ کے ننانوے، ایک کم سو نام ہیں، جس نے انہیں یاد کیا وہ جنت میں داخل ہو گا، اور اللہ وتر (طاق) ہے، وتر کو پسند کرتا ہے
ایسا شخص ہرگز جہنم میں داخل نہيں ہو سکتا، جو بدر اور حدیبیہ میں شریک رہا ہو
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: "نبیوں اور رسولوں کو چھوڑ کر یہ دونوں تمام اگلے اور پچھلے ادھیڑ عمر جنتیوں کے سردار ہیں"۔
میں نے کہا اے اللہ کے رسول! میرے حُسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیرا باپ، پھر درجہ بہ درجہ جو تمہارے قریبی لوگ ہیں۔
اے اللہ کے رسول! میں نے ہر چھوٹے بڑے گناہ کا ارتکاب کر لیا۔ آپ نے فرمایا: "کیا تم یہ گواہی نہیں دیتے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں؟
عمل کی چھ قسمیں ہیں اور لوگوں کی چار۔ دو عمل واجب کردینے والے ہیں، ایک عمل کا بدلہ اسی کے مثل ملتا ہے، ایک عمل کا بدلہ دس گنا ملتا ہے اور ایک عمل کا بدلہ سات سو گنا ملتا ہے
”قیامت کی نشانیوں میں سے کچھ نشانیاں یہ ہیں کہ علم دین اٹھا لہا جائے گا، جہالت زیادہ ہو جائے گی، بدکاری بکثرت پھیل جائے گی، شراب نوشی زیادہ ہو جائے گی، مرد کم رہ جائیں گے اورعورتیں زیادہ ہو جائیں گی، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ایک ہی نگہبان ہوگا۔“
نبی ﷺ نے کسی واقعے کا ذکر کیا اور فرمایا: "یہ علم چلے جانے کے وقت ہو گا
علم اس لیے حاصل نہ کرو کہ علما کے مقابلے میں فخر کا اظہار کرو، نہ اس لیے کہ کم عقل لوگوں سے بحث کرو
اللہ نے (اسلام کی) مثال صراط مستقیم (سیدھی راہ)
کیا تم میں سے کسی کو یہ بات پسند ہے کہ جب گھر جائے تو اسے گھر میں تین بڑی بڑی موٹی تازی حاملہ اونٹنیاں ملیں؟
صاحب قرآن سے کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور اسی طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھ، جیسے کہ دنیا میں پڑھا کرتا تھا۔ جہاں آخری آیت ختم کرے گا، وہیں تیری منزل ہوگی"۔
قرآن کو اونچی آواز سے پڑھنے والا ایسے ہے، جیسے کوئی دکھا کر صدقہ کرے اور دھیمی آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسے ہے، جیسے کوئی مخفی طور پر صدقہ دے"۔
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دس آیتیں پڑھتے اور اس سے آگے اس وقت تک نہیں بڑھتے، جب تک کہ ان آیتوں میں موجود علم اور عمل کو سیکھ نہ لیتے
اے ابو منذر! کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے پاس موجود اللہ کی کتاب کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ میں نے عرض کیا: ﴿اللَّهُ لَا إِلہ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ ان کا کہنا ہے کہ یہ سننے کے بعد آپﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: ’’اللہ کی قسم ! ابو منذر! تمھیں یہ علم مبارک ہو"۔
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہہ دیجیے، میں قیامت کے دن آپ کے لیے اس کےبارے میں گواہ بن جاؤں گا
’’جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے۔ پھر مجھ پر درود بھیجو
وہ ایک شیطان ہے، جسے خِِنزَب کہا جاتا ہے۔ جب تمھیں اس کے خلل انداز ہونے کا احساس ہو، تو اس سے اللہ کی پناہ مانگو اور اپنی بائیں جانب تین بار تھتکارو
بلاشبہ اللہ اسی عمل کو قبول کرتا ہے، جو خالص اسی کے لیے اور اس کی رضامندی کے حصول میں کیا جائے۔
”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل بھی منقطع ہو جاتا ہے، مگر تین قسم کے عمل (کا ثواب) جاری رہتا ہے۔ صدقۂ جاریہ، یا ایسا علم جس سے اس کے بعد بھی فائدہ اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔“
جہاد میں ایک دن کی پہرے داری دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے۔
رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کی جگہ جاتے تو میں اور میرے جیسا ایک اور لڑکا پانی کا برتن اور ایک نیزہ اٹھاۓ ہوتے۔ آپ ﷺ پانی کے ذریعے استنجا کرتے تھے۔
بوڑھے مسلمان کی توقیر کرنا، حامل قرآن کی توقیر کرنا جب کہ وہ قرآن میں غلو کرنے والا اور اس سے رو گردانی کرنے والا نہ ہو اور عادل بادشاہ کی عزت کرنا منجملہ طور پر اللہ کی تعظیم کرنا ہے۔
میں نے آپ کو قبلہ کی بجائے دوسری طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ اگر میں رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے نہ دیکھتا تو میں بھی نہ کرتا۔
میں نے انصار کو دیکھا تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کچھ ایسا کرتے تھے کہ میں نے قسم کھا لی کہ جب ان میں سے کسی کی صحبت نصیب ہوگی، میں اس کی خدمت کروں گا۔
نبی ﷺ کے زمانے میں دو بھائی تھے۔ ان میں سے ایک تو نبی ﷺ کی خدمت میں رہا کرتا تھا اور دوسرا کوئی کام کرتا تھا۔ کام کرنے والے نے اپنے بھائی کی نبی ﷺ کے حضور شکایت کی۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ہو سکتا ہے کہ اسی کی وجہ سے تمھیں رزق دیا جاتا ہو۔
اللہ تعالیٰ نے اس عمل کی وجہ سے اس کے لیے جنت واجب کردی یا اسے جہنم سے آزاد کردیا۔
نبی ﷺ کی تمام بیویوں میں جتنی غیرت مجھے خدیجہ رضی اللہ عنہا سے آتی تھی اتنی کسی اور سے نہیں آتی تھی حالانکہ انہیں میں نے کبھی دیکھا بھی نہ تھا، لیکن آپ ﷺ ان کا ذکر بکثرت فرمایا کرتے تھے۔
آدمی کی اپنے بھائی کےحق میں پس پشت دعا قبول ہوتی ہے۔ اس کے سر پر ایک فرشتہ متعین ہوتا ہے اور جب بھی وہ اپنے بھائی کے لیے دعائے خیرکرتا ہے تو اس پر یہ متعین کردہ فرشتہ کہتا ہے: ’آمین، اور تیرے لیے بھی اس کی مثل ہو‘۔
جب کوئی مومن یا مسلم وضو کرتے وقت چہرہ دھوتا ہے، تو جیسے ہی چہرہ سے پانی گرتا ہے، یا پانی کا آخری قطرہ گرتا ہے تو اس کے وہ گناہ جھڑ جاتے ہیں جو اس نے اپنی آنکھوں سے کیے تھے۔
تم ایسے کام کرتے ہو جو تمہاری نظر میں بال سے زیادہ باریک یعنی حقیر ہیں جب کہ ہم لوگ رسول الله ﷺ کے زمانہ میں ان کاموں کو ہلاکت خیز کام شمار کرتے تھے۔
انس رضی اللہ عنہ کی والدہ نے ان سے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا راز ہر گز کسی کو نہ بتانا۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم اے ثابت! اگر میں وہ راز کسی کو بتانے والا ہوتا تو تمھیں بتادیتا۔
چالیس خصلتیں جن میں سب سے اعلیٰ و ارفع دودھ دینے والی بکری کا ہد یہ کرنا ہے۔ ایسی ہیں کہ جو شخص ان میں سے ایک خصلت پر بھی عمل پیرا ہوگا ثواب کی نیت سے اور اللہ کے وعدے کو سچا سمجھتے ہوئے، تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کرے گا۔
بہت سارے پراگندہ بال والے، لوگوں کے دھتکارے ہوئے ایسے ہیں کہ اگر اللہ تعالی پر قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ اُن کی قسم پوری فرما دے۔
اللہ عزوجل نے جس علم و ہدایت کے ساتھ مجھ کو مبعوث کیا ہے اس کی مثال اس بادل کی طرح ہے جو زمین پر برسا ، زمین کا کچھ حصہ اچھا تھا اُس نے اس پانی کو جذب کر لیا اور اس نے چارہ اور بہت سا سبزہ اُگایا اور زمین کا بعض حصہ سخت تھا ، اس نے پانی کو روک لیا جس سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو نفع دیا ، انہوں نے وہ پانی خود پیا ، جانوروں کو پلایا اور کھیتیاں بھی کیں۔
اے انصاریو! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا پھر تم کو میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت نصیب کی؟ کیا ایسا نہیں تھا کہ تم بکھرے ہوئے تھے اور اللہ نے میرے ذریعہ تمہیں باہم دگر جوڑ دیا؟ کیا تم محتاج نہیں تھے کہ پھر میرے ذریعہ سے اللہ نے تمہیں غنی کردیا؟
جبریل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کے پاس تشریف لائے اور پوچھا: آپ اپنے یہاں اہل بدر کو کیسا سمجھتے ہیں؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا: وہ (ہمارے ہاں ) سب سے بہتر مسلمانوں میں سے ہیں۔
ایک کھجور کا تنا تھا، جس پر نبی کریم ﷺ دوران خطبہ ٹیک لگا کر کھڑے ہوا کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ کے لیے منبر رکھ دیا گیا اور( آپ نے اس تنے پر ٹیک لگانا چھوڑ دیا) تو ہم نے اس کے رونے کی ایسی آواز سنی، جیسے دس مہینے کی گابھن اونٹنی آواز کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے منبر سے اتر کر اپنا ہاتھ اس پر رکھا، تو اسے سکون ہوا۔
یہ کلمے باقیات صالحات (یعنی باقی رہنے والی نیکیاں) ہیں : ”لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَاَللَّهُ أَكْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إلَّا بِاَللَّهِ“۔
کسی بندے کا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے کم نہیں ہوتا۔ جس شخص پر ظلم کیا جائے اور وہ اس ظلم و زیادتی پر صبر کرے، تو اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھا دیتا ہے اور جس شخص نے اپنے نفس پر سوال کا دروازہ کھولا (یعنی بلا ضرورت مانگا)، اللہ تعالیٰ اس کے لیے فقر و افلاس کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ شخص پر ہے۔
جب بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے، تو میں اُس سے ایک ہاتھ (گز) قریب ہوتا ہوں اور جب بندہ ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں، جب بندہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں۔
ایک آدمی راستے میں پڑے درخت کی ایک شاخ کے پاس سے گزر اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اسے ضرور ہٹاؤں گا تاکہ یہ مسلمانوں کو تکلیف نہ دے۔ اس نیکی کی وجہ سے وہ جنت میں داخل کر دیا گیا۔
جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مار دیا، اس کےلیے سو نیکیاں ہیں۔ دوسری ضرب میں مارنے میں اس سے کم نیکیاں ہیں اور تیسری ضرب میں مارنے میں اس سے کم نیکیاں ہیں۔
جس مسلمان کے تین بچے فوت ہوجائیں اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی، مگر قسم پوری کرنے کے لیے آگ پر سے گزرے گا۔
اس شخص کے بارے ميں آپ کا کيا خيال ہے جو نيک عمل کرتا ہے اور لوگ اس پر اس کی تعریف کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ مومن کے لیے پيشگی خوش خبری ہے۔
قرآن پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے قارئین کا سفارشی بن کر آئے گا۔
اللہ تعالیٰ نےاسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا اور کنانہ میں سے قریش کو منتخب کیا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب کیا پھر بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب کیا۔ میں اولادِ آدم کا سردار ہوں مگر اس پر فخر نہیں، میں پہلا شخص ہوں گا جس سے قبر شق کی جائے گی، سب سے پہلے میں سفارش کروں گا اور میں ہی پہلا ہوں گا جس کی سفارش قبول کی جائے گی۔
مرض الموت میں رسول اللہ ﷺ پوچھتے رہتے تھے کہ ”کل میرا قیام کہاں ہو گا، کل میرا قیام کہاں ہو گا؟“ آپ ﷺ عائشہ (رضی اللہ عنہا) کی باری کے منتظر تھے، پھر آپ کی بیویوں نے آپ کی چاہت کے مطابق آپ کو اُن کے ہاں قیام کی اجازت دے دی۔
جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو کوئی گناہ اسے نقصان نہیں دے گا، اور جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اس کے ساتھ شرک کرتا ہو تو کوئی نیکی اسے فائدہ نہیں دے گی۔
’’اللہ عزوجل نہیں سوتا، اور نہ ہی سونا اس کے شایان شان ہے
”یقیناً تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اسے جاننے والا میں ہی ہوں۔“
میں اس وجہ سے نہیں رو رہی کہ مجھے علم نہیں کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے، وہ رسول اللہ ﷺ کے لیے زیادہ بہتر ہے؛ بلکہ میں تو اس وجہ سے رو رہی ہوں کہ آسمان سے وحی آنے کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے۔ ام ایمن نے ان دونوں کو بھی رلا دیا اور وہ بھی ان کے ساتھ رونے لگے۔
میں آج رسول اللہ ﷺ کے دربان کی ذمہ داری سر انجام دوں گا۔ کچھ دیر کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انھوں نے دروازے کو دھکیلا، تو میں نے پوچھا کہ کون صاحب ہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ ابوبکر!۔ میں نے کہا: ذراٹھہریے۔ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ابوبکر دروازے پر موجود ہیں اور اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ انھیں اجازت دے دو اور جنت کی بشارت بھی۔
میں نے جب بھی عمر رضی اللہ عنہ کو (کسی مسئلہ میں رائے دیتے ہوئے) یہ کہتے سنا کہ میرے خیال میں یہ ایسے ہے تو وہ بات ویسے ہی نکلتی جیسے آپ کا خیال ہوتا۔
کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے ہمارے ساتھ کچھ آدمی بھیج دیں جو (ہمیں) قرآن اور سنت کی تعلیم دیں۔ آپ نے ان کے ساتھ ستّر (70) انصاری صحابہ بھیج دیے جنہیں قرّاء کہا جاتا تھا، ان میں میرے ماموں حضرت حرام (بن ملحان) رضی اللہ عنہ بھی تھے۔
کوئی بھی بچہ اپنے والد کا بدلہ نہیں چکا سکتا ہاں اگر وہ اسے کسی کی غلامی میں پائے تو اسے خریدے اور آزاد کردے۔
بہت خوب! یہ تو بڑا فائدہ بخش مال ہے۔ یہ تو بہت ہی نفع بخش مال ہے۔ اور جو بات تم نے کہی میں نے وہ سن لی۔ اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اسے اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو دے دو۔
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم اسی کیفیت پر ہمیشہ رہو جس حالت میں میرے پاس ہوتے ہو یعنی ذکر میں مشغول ہوتے تو فرشتے تمہارے بستروں پر تم سے مصافحہ کریں اور راستوں میں بھی لیکن اے حنظلہ! وقت وقت کی بات ہے۔
انسان، کانوں کی طرح ہیں جیسے سونا اور چاندی کی کانیں ہوتی ہیں، جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں بہتر اور اچھی صفات کے مالک تھے، وہ اسلام لانے کے بعد بھی بہتر اور اچھی صفات والے ہیں بشرطیکہ وہ دین کا علم بھی حاصل کریں۔ روحوں کے جھنڈ کے جھنڈ الگ الگ تھے۔ پھر وہاں جن روحوں میں آپس میں پہچان تھی، ان میں یہاں بھی محبت ہوتی ہے اور جو وہاں غیر تھیں یہاں بھی وہ ایک دوسرے سے نا آشنا رہتی ہیں۔
اُحد کے دن رسول اللہ ﷺ دو زرہیں پہنے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ ایک چٹان پر چڑھنے لگے، لیکن چڑھ نہ سکے تو آپ ﷺ نے اپنے نیچے طلحہ رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا اور اوپر چڑھنے لگے، یہاں تک کہ چٹان پرسیدھے کھڑے ہوگئے۔ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: طلحہ نے اپنے لیے (جنت) واجب کرلی۔
” کیا اللہ نے تمھیں صدقہ کرنے کو کچھ نہيں دیا ہے؟ بے شک ہر بار سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے، ہر بار اللہ أکبر کہنا صدقہ ہے، ہر بار الحمد للہ کہنا صدقہ ہے اور ہر بار لاالہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے منع کرنا صدقہ ہے، اور تم میں سے کسی کا اپنی بیوی سے صحبت کرنا بھی صدقہ ہے“۔
”جس نے کسی مومن کی دنیا کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کردی، اللہ تعالیٰ بروز قیامت اس کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور کردے گا۔
’’اے لوگو! اللہ تعالی کے حضور توبہ کرو، میں دن میں سو دفعہ اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔‘‘
فتنہ و فساد اور قتل و غارت گری کے زمانے میں عبادت کرنا ایسے ہے، جیسے میری طرف ہجرت کرنا۔
جب دو مسلمان آپس ميں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہيں، تو ان کے الگ ہونے سے پہلے پہلے ان کو بخش دیا جاتا ہے"۔
”اللہ اس شخص کو تروتازہ (اور خوش) رکھے، جس نے مجھ سے کوئی بات سنی، پھر اس نے اسے جیسے مجھ سے سنا تھا ہو بہو ویسے ہی دوسروں تک پہنچا دیا، کیونکہ بہت سے لوگ جنہیں بات (حدیث) پہنچائی جائے پہنچانے والے سے کہیں زیادہ بات کو سمجھنے والے ہوتے ہیں“۔