عن عبد الله بن بسر -رضي الله عنه- قال: أتى النبي -صلى الله عليه وسلم- رجل، فقال: يا رسول الله إن شرائع الإسلام قد كثرت علينا، فبابٌ نتمسك به جامع؟ قال: «لا يزال لسانك رَطْبًا من ذكر الله -عز وجل-».
[صحيح.] - [رواه الترمذي وابن ماجه وأحمد.]
المزيــد ...

عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! اسلام کے احکام ہم پر بہت زیادہ ہیں۔ کوئی ایسا جامع عمل بتائیں، جسے ہم لازم پکڑیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمھاری زبان ہر وقت اللہ عز و جل کے ذکر سے تر رہے“۔
صحیح - اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔

شرح

اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ ایک صحابی نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ﷺ انھیں کوئی ایسا آسان و جامع کام بتا دیں، جس میں بھلائی کے سارے پہلو ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے اللہ کے ذکر کی طرف راہ نمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ تمھاری زبان ہمہ وقت اللہ کے ذکر سے تر و تازہ رہے اور تم رات دن اللہ کے ذکر میں مشغول رہو۔ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے لیے ذکر کو چنا؛ کیوں کہ یہ ایک ہلکا پھلکا اور آسان عمل ہے، اس میں کئی گُنا اجر اور شمار عظیم منافع ہیں۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان تجالوج ہندوستانی کردی ہاؤسا پرتگالی
ترجمہ دیکھیں