عن خولة الأنصارية رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إن رجالاً يَتَخَوَّضُون في مال الله بغير حق، فلهم النار يوم القيامة».
[صحيح] - [رواه البخاري]
المزيــد ...

خولہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ کچھ لوگ اللہ کے مال میں ناحق تصرف کرتے ہیں۔ چنانچہ ایسے لوگوں کے لیے قیامت کے دن جہنم ہے“۔
صحیح - اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

شرح

نبی ﷺ نے خبر دی ہے کہ کچھ لوگ مسلمانوں کے اموال میں ناجائز طور پر تصرف کرتے ہیں اور اسے ناحق لیتے ہیں۔ اسی میں کسی غیر حق دار شخص کا یتیموں کے مالوں اور وقف شدہ اموال کو کھانا، امانتوں کا انکار کرنا اور عوامی دولت (پبلک فنڈز) سے بغیر استحقاق یا اجازت کے لینا شامل ہے۔ نیز آپ ﷺ نے باخبر کیا ہے کہ ایسے لوگوں کی جزا قیامت کے دن جہنم ہے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی سنہالی ایغور کردی پرتگالی مليالم تلگو سواحلی تمل بورمی جرمنی جاپانی
ترجمہ دیکھیں

فوائد

  1. انسان کے لیے حلال طریقوں کے علاوہ کسی اور طریقے سے مال کمانا حرام ہے، کیوں کہ حرام طریقے سے مال کمانا مال میں ناحق تصرف کرنے کے دائرے میں آتا ہے۔
  2. مسلمانوں اور مسلم حکمرانوں کے ہاتھوں میں جو مال ہے، وہ اللہ کا مال ہے۔ اللہ نے ان کو اس پر اپنا جانشین بنایا ہے، تاکہ اسے جائز امور میں خرچ کریں۔ اس میں ناحق تصرف کرنا حرام ہے۔ یہ بات حاکموں اور دیگر تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔
مزید ۔ ۔ ۔