عن جُبَير بن مُطْعِم رضي الله عنه أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول:
«لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعُ رَحِمٍ».

[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح مسلم: 2556]
المزيــد ...

جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا:
"رشتے ناتے کو کاٹنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔"

[صحیح] - [متفق علیہ] - [صحیح مسلم - 2556]

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے اپنے رشتے داروں سے ان کے واجب حقوق روک دیے، ان کو تکلیف دی یا ان کے ساتھ برا سلوک کیا، وہ اس بات کا حق دار ہے کہ جنت میں کبھی داخل نہ ہو۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. رشتے ناتے کو کاٹنا کبیرہ گناہ ہے۔
  2. صلہ رحمی عام عرف کے مطابق کی جائے گی۔ اس کی نوعیت جگہ، وقت اور اشخاص کے بدلنے کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے۔
  3. صلہ رحمی زیارت، صدقہ، اچھے برتاؤ، بیمار کی مزاج پرسی، بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے وغیرہ سے ہوتی ہے۔
  4. قطع رحمی جس قدر قریبی رشتے دار کی ہوگی، گناہ اتنا ہی زیادہ ہوگا۔
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان مزید ۔ ۔ ۔ (66)
مزید ۔ ۔ ۔