عن أنس رضي الله عنه، قال:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأبي بكر وعمر: «هذان سَيِّدا كُهُول أهل الجنة من الأوَّلِين والآخِرين إلا النبيِّين والمرسلين».

[صحيح] - [رواه الترمذي] - [سنن الترمذي: 3664]
المزيــد ...

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: "نبیوں اور رسولوں کو چھوڑ کر یہ دونوں تمام اگلے اور پچھلے ادھیڑ عمر جنتیوں کے سردار ہیں"۔

[صحیح] - [اسے ترمذی نے روایت کیا ہے] - [سننِ ترمذی - 3664]

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ ابو بکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما نبیوں کے بعد سب سے افضل انسان اور نبیوں اور رسولوں کے بعد جنت میں جانے والے افضل ترین انسان ہيں۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما نبیوں اور رسولوں کے بعد افضل ترین لوگ ہيں۔
  2. جنت میں کوئی ادھیڑ عمر کا نہيں ہوگا۔ اس میں داخل ہونے والے ہر شخص کی عمر 33 سال ہوگی۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ابو بکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما ایسے تمام لوگوں کے سردار ہوں گے، جن کی وفات دنیا میں ادھیڑ عمر میں ہوئی تھی۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں اعتبار اس حدیث کے وقت دنیا میں موجود لوگوں کی عمر کا کیا گیا ہو۔
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان انڈونیشیائی زبان ایغور مزید ۔ ۔ ۔ (44)
مزید ۔ ۔ ۔