”میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور (امیر کی بات) سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام امیر بن جائے۔ (یاد رکھو!)تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ یقینا بہت اختلاف دیکھے گا۔ چنانچہ تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا
میں اللہ تعالی کے سامنے اس چیز سے بری ہوں کہ تم میں سے کسی کو اپنا خلیل (سب سے پیارا دوست) بناؤں؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنایا ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا تھا
تم اللہ سے ڈرتے رہنا اور اپنے حکمرانوں کا حکم سننا اور ماننا۔ خواہ حکمراں ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ تم میرے بعد بہت زیادہ اختلاف دیکھو گے۔ لہذا تم میری سنت اور میرے نیک اور ہدایت یاب خلفاء کی سنت پر چلتے رہنا
وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے انصار کے بارے میں فرمایا : "ان سے صرف مومن ہی محبت رکھے گا اور ان سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا۔ جو شخص ان سے محبت کرے گا، اس سے اللہ محبت کرے گا اور جو اُن سے بغض رکھے گا اس سے اللہ تعالیٰ بغض رکھے گا"۔
میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا، جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔ اللہ اس کے ہاتھ پر فتح عطافرمائے گا"۔
’’میرے صحابہ کو گالی نہ دو۔ اگر تم میں سے کوئی احد کے برابر بھی سونا خرچ کر دے، تو بھی ان کے ایک مد یا آدھا مد کو نہیں پہنچے گا۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: "نبیوں اور رسولوں کو چھوڑ کر یہ دونوں تمام اگلے اور پچھلے ادھیڑ عمر جنتیوں کے سردار ہیں"۔
وہ حجرِ اسود کے پاس آئے اور اس کا بوسہ لینے کے بعد کہنے لگے: مجھے اچھی طرح سے علم ہے کہ تو ایک پتھر ہے ۔ تو نہ کچھ نقصان دے سکتا ہے اور نہ کوئی نفع۔ اگر میں نے نبی ﷺ کو تمہارا بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تمہارا بوسہ نہ لیتا۔
یہی وہ شخص ہیں جن کے لیے عرشِ الٰہی ہل گیا، آسمان کے دروازے کھول دیے گئے، اور ستر ہزار فرشتے ان کے جنازے میں شریک ہوئے، (پھر بھی قبر میں) انہیں ایک بار بھینچا گیا، پھر (یہ عذاب) ان سے جاتا رہا۔
میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بعد کسی شخص کو نہیں دیکھا جس کے متعلق نبی کریمﷺنے فرمایا ہو کہ میرے ماں باپ تجھ پر فدا ہوں۔ میں نے آپ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا: تیرمارنا جاری رکھ، میرے ماں باپ تجھ پر فدا ہوں۔
امیر المؤ منین! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: {خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ}۔ اور یہ جاہلوں میں سے ہیں۔
کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے ہمارے ساتھ کچھ آدمی بھیج دیں جو (ہمیں) قرآن اور سنت کی تعلیم دیں۔ آپ نے ان کے ساتھ ستّر (70) انصاری صحابہ بھیج دیے جنہیں قرّاء کہا جاتا تھا، ان میں میرے ماموں حضرت حرام (بن ملحان) رضی اللہ عنہ بھی تھے۔
اگر میں اپنی ان کھجوروں کو کھا لینے تک زندہ رہا، تو پھر یہ بڑی لمبی زندگی ہوگی۔ پھر انھوں نے، جو کھجوریں ان کے پاس تھیں، پھینکیں اور کافروں سے لڑائی شروع کردی، یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔
اگر تم جانتے ہوتے کہ تمھارے لیے اللہ کے ہاں کیا کچھ ہے، تو تم چاہتے کہ تمھارا فاقہ اور ضرورت مندی اور بڑھ جاۓ۔
غزوہ موتہ میں میرے ہاتھ پر نو تلواریں (لڑتے لڑتے) ٹوٹ گئیں اور میرے ہاتھ میں صرف ایک یمنی تلوار باقی بچی۔
اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ایک رات اپنے کھجوروں کے کھلیان میں قرآن پڑھ رہے تھے کہ ان کا گھوڑا بدکنے لگا، آپ رضی اللہ عنہ نے پھر پڑھا وہ پھر بدکنے لگا، آپ نے پھر پڑھا وہ پھر بدکنے لگا، اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں ڈرا کہ کہیں وہ یحییٰ کو کچل نہ ڈالے، میں اس کے پاس جاکر کھڑا ہو گیا، میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سائبان کی طرح کوئی چیز میرے سر پر ہے، وہ چراغوں سے روشن ہے اور وہ اوپر کی طرف چڑھنے لگا یہاں تک کہ میں اسے پھر نہ دیکھ سکا۔
اُحد کے دن رسول اللہ ﷺ دو زرہیں پہنے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ ایک چٹان پر چڑھنے لگے، لیکن چڑھ نہ سکے تو آپ ﷺ نے اپنے نیچے طلحہ رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا اور اوپر چڑھنے لگے، یہاں تک کہ چٹان پرسیدھے کھڑے ہوگئے۔ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: طلحہ نے اپنے لیے (جنت) واجب کرلی۔
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: یہ میرے ماموں ہیں، اگر کوئی شخص ایسا ماموں رکھتا ہے تو وہ مجھے دکھائے۔