عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْتَقَدَ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا أَعْلَمُ لَكَ عِلْمَهُ، فَأَتَاهُ فَوَجَدَهُ جَالِسًا فِي بَيْتِهِ، مُنَكِّسًا رَأْسَهُ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ فَقَالَ شَرٌّ، كَانَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ، وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَأَتَى الرَّجُلُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ كَذَا وَكَذَا، فَرَجَعَ الْمَرَّةَ الْآخِرَةَ بِبِشَارَةٍ عَظِيمَةٍ، فَقَالَ: «اذْهَبْ إِلَيْهِ فَقُلْ لَهُ: إِنَّكَ لَسْتَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَلَكِنْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ».
المزيد
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو غیر موجود دیکھ کر ان کے بارے میں پوچھا، تو ایک شخص نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں آپ کے پاس ان کے بارے میں جان کاری لے آؤں گا۔ چنانچہ وہ ثابت بن قیس کے یہاں گیا، تو دیکھا کہ وہ اپنے گھر میں سر جھکائے بیٹھے ہیں۔ اس نے حال پوچھا، تو انھوں نے جواب دیا کہ حال برا ہے۔ ان کی آواز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی آواز سے اونچی ہو جایا کرتی تھی، اس لیے ان کا عمل ضائع ہو گیا اور اب وہ جہنمی ہیں۔ چنانچہ وہ آدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے جو کچھ کہا تھا، سب سنا دیا۔ چنانچہ دوسری بار وہ ان کے پاس ایک بہت بڑی خوش خبری کے ساتھ گئے۔ دراصل آپ نے کہا تھا : "اس کے پاس جاؤ اور اسے بتادو کہ جہنمیوں میں سے نہیں، بلکہ جنتیوں میں سے ہیں۔"