عن عبد الله بن الزبير -رضي الله عنهما- قال: سمعتُ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: وقد كان الناسُ انهزموا عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حتى انتهى بعضُهم إلى دُون الأَعْراض على جبلٍ بناحيةِ المدينة، ثم رجعوا إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وقد كان حَنْظَلة بن أبي عامر الْتَقَى هو وأبو سفيان بن حرْب، فلمَّا اسْتَعْلاه حَنْظَلة رآه شَدَّاد بن الأسْود، فعَلَاه شَدَّاد بالسيْف حتى قتله، وقد كاد يَقْتل أبا سفيان، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إنَّ صاحبَكم حَنْظَلةُ تُغَسِّلُه الملائكةُ، فسَلُوا صاحبتَه»، فقالت: خرج وهو جُنُبٌ لما سمِع الهائِعَة، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «فذاك قد غَسَّلَتْه الملائكةُ».
[حسن.] - [رواه ابن حبان والحاكم والبيهقي.]
المزيــد ...

عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے جب کہ لوگ رسول اللہ کو چھوڑ کر پسپا ہو چکے تھے یہاں تک کہ ان میں سے کچھ تو مدینے کی طرف واقع ایک پہاڑ پر موجود بستیوں تک جا پہنچے تھے۔ بعدازاں وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف پلٹ آئے۔ حنظلہ بن ابو عامر رضی اللہ عنہ اور ابو سفیان بن حرب کا آمنا سامنا ہوا۔ جب ابو سفیان پر حنظلہ رضی اللہ عنہ غالب آگئے تو شداد بن اسود نے انہیں دیکھا اور اپنی تلوار کے ساتھ ان پر حملہ آور ہو کر انہیں قتل کر دیا حالانکہ وہ ابو سفیان کو مار دینے کے بالکل قریب تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے ساتھی حنظلہ کو فرشتے غسل دے رہے ہیں، ان کی بیوی سے (اس کا سبب) پوچھو۔ (جب ان کی بیوی سے پوچھا گیا تو) اس نے جواب دیا کہ جب انہوں نے پکار سنی تھی تو وہ حالت جنابت میں ہی نکل کھڑے ہوئے تھے۔ ا س پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہی وجہ ہے کہ فرشتوں نے انہیں غسل دیا ہے۔
حَسَنْ - اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔

شرح

جنگ اُحد کے دن مسلمانوں کا پلڑا بھاری تھا لیکن بعد ازاں تیر اندازوں نے رسول اللہ ﷺ کی حکم عدولی کی تو شکست ہو گئی اور بعض لوگ رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ گئے یہاں تک کہ ان میں سے کچھ تو مدینے کی جانب موجود ایک پہاڑ کی بلندی پر واقع بستیوں تک جا پہنچے تاہم وہ دوبارہ رسول اللہ ﷺ کی طرف پلٹ آئے۔ دورانِ معرکہ حنظلہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی مشرکین کے سرغنہ ابو سفیان بن حرب سے مڈبھیڑ ہو ئی۔ جب حنظلہ رضی اللہ عنہ نے ابو سفیان پر قابو پا لیا اور وہ انہیں قتل کرنے ہی والے تھے تو مشرکین میں سے ایک شخص شداد بن اسود نے انہیں دیکھا اور حنظلہ رضی اللہ پر تلوار کا وار کر کے انہیں قتل کر دیا۔ جب معرکہ ختم ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ فرشتے حنظلہ رضی اللہ کو غسل دے رہے ہیں اور صحابہ کو حکم دیا کہ وہ ان کی بیوی سے ان کے بارے میں دریافت کریں۔ جب صحابہ کرام نے ان کی بیوی سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ حنظلہ رضی اللہ عنہ نے جب جہاد کی پکار سنی تو وہ حالتِ جنابت میں تھے اور اسی حالت میں وہ نکل کھڑے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو بتایا کہ حالتِ جنابت میں شہید ہوجانے کی وجہ سے فرشتوں نے انہیں غسل دیا۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان چینی زبان فارسی زبان ہندوستانی ایغور
ترجمہ دیکھیں