عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«لاَ تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلاَ نَصِيفَهُ».
[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح البخاري: 3673]
المزيــد ...
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’میرے صحابہ کو گالی نہ دو۔ اگر تم میں سے کوئی احد کے برابر بھی سونا خرچ کر دے، تو بھی ان کے ایک مد یا آدھا مد کو نہیں پہنچے گا۔"
[صحیح] - [متفق علیہ] - [صحيح البخاري - 3673]
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو گالی دینے سے منع فرمایا ہے۔ خاص طور سے اسلام کے ہراول دستہ کی حیثیت رکھنے والے مہاجر وانصار صحابہ کو۔ آپ نے آگے بتایا کہ اگر بعد کا کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے، تو اتنا ثواب حاصل نہيں کر سکے گا، جتنا کسی صحابی کو ایک مد یا آدھا مد خرچ کرنے پر ثواب مل جایا کرتا تھا۔ مد متوسط جسامت والے انسان کےایک لپ بھر کو کہتے ہیں۔ صحابہ کو اتنا بڑا ثواب ان کے اخلاص، سچی نیت اور فتح مکہ سے پہلے ایسے وقت میں خرچ کرنے اور جنگ میں شامل ہونے کی وجہ سے ملا، جب اس کی اشد ضرورت تھی۔