+ -

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَوَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ».

[صحيح] - [رواه مسلم]
المزيــد ...

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
’’تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتے، جب تک مؤمن نہ بن جاؤ اور مؤمن اس وقت تک نہيں بس سکتے، جب تک ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو۔ کیا میں تمھیں ایسا کام نہ بتاؤں، جسے کرنے سے تم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے؟ اپنے درمیان سلام عام کرو۔‘‘

صحیح - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جنت میں بس ایمان والے ہی داخل ہوں گے، جب کہ ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا اور مسلم سماج کا حال اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک کہ لوگ ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگیں۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے محبت عام کرنے کا سب سے افضل طریقہ بتایا۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان سلام عام کیا جائے۔

ترجمہ: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان ایغور فرانسیسی زبان ترکی زبان روسی زبان بوسنیائی زبان سنہالی ہندوستانی چینی زبان فارسی زبان ویتنامی کردی ہاؤسا پرتگالی سواحلی تھائی پشتو آسامی السويدية الأمهرية الغوجاراتية الدرية
ترجمہ دیکھیں

حدیث کے کچھ فوائد

  1. جنت میں داخل ہونے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے ایمان ضروری ہے۔
  2. کمال ایمان میں یہ بات بھی داخل ہے کہ مسلمان اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہو۔
  3. سلام عام کرنا اور مسلمانوں کو سلام دینا مستحب ہے۔ کیوں کہ اس سے لوگوں کے درمیان محبت اور امن و شانتی پھیلتی ہے۔
  4. سلام صرف مسلمان ہی کو دیا جائے گا۔ کیوں کہ حدیث میں "تمھارے درمیان" کے الفاظ آئے ہیں۔
  5. سلام کرنے سے قطع تعلق، قطع کلامی اور کدورت جیسی چیزیں ختم ہو جاتی ہيں۔
  6. مسلمانوں کے درمیان آپسی محبت کی اہمیت اور اس کا ایمان کے مکمل ہونے کے لیے ضروری ہونا۔
  7. ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ سلام کے مکمل الفاظ "السلام عليكم ورحمة الله وبركاته" ہیں۔ حالاں کہ "السلام عليكم" کہہ دینا بھی کافی ہے۔