+ -

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«السَّاعِي عَلَى الأَرْمَلَةِ وَالمِسْكِينِ، كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوِ القَائِمِ اللَّيْلَ الصَّائِمِ النَّهَارَ».

[صحيح] - [متفق عليه]
المزيــد ...

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”بیواؤں اور مسکینوں کے لیے تگ و دو کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے یا رات میں قیام کرنے والے اور دن میں روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔“

صحیح - متفق علیہ

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم فرما رہے ہیں کہ جو شخص کسی ایسی عورت کی دیکھ بھال کرے، جس کا شوہر فوت ہو چکا ہو اور اس کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ ہو، اسی طرح کسی ضرورت مند غریب کی مدد کے لیے آگے آئے اور اس طرح کے لوگوں پر اس یقین کے ساتھ اپنا مال خرچ کرے کہ اس کا بدلہ اللہ کے یہاں ملنے والا ہے، تو وہ اجر و ثواب کے معاملے میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے یا تھکے بغیر تہجد کی نماز پڑھنے والے اور بلاناغہ لگاتار روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔

ترجمہ: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان ایغور بنگالی زبان فرانسیسی زبان ترکی زبان روسی زبان بوسنیائی زبان سنہالی ہندوستانی چینی زبان فارسی زبان ویتنامی تجالوج کردی ہاؤسا پرتگالی مليالم تلگو سواحلی تمل بورمی تھائی جرمنی جاپانی پشتو آسامی الباني السويدية الأمهرية الغوجاراتية الدرية
ترجمہ دیکھیں

حدیث کے کچھ فوائد

  1. ایک دوسرے کی مدد کرنے، ایک دوسرے کی ذمے داریاں اٹھانے اور کمزور لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے کی ترغیب۔
  2. عبادت کے اندر ہر اچھا کام شامل ہے۔ بیواؤں اور مسکینوں کی مدد کرنا بھی عبادت ہے۔
  3. ابن ہبیرہ کہتے ہیں : اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے ایک ساتھ روزہ رکھنے والے، تہجد پڑھنے والے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کا اجر عطا کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے بیواؤں کی ان کے شوہر کی طرح دیکھ بھال کی، اپنے خرچ چلانے کی طاقت نہ رکھنے والے غریبوں پر اپنا بچا ہوا مال خرچ کیا اور اپنی محنت سے کمائے ہوئے مال کا صدقہ کیا، اس لیے اس کا نفع روزے، تہجد اور اللہ کی راہ میں جہاد کے برابر ہوگا۔