+ -

عن الْأَغَرِّ رضي الله عنه، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«يَا أَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَى اللهِ، فَإِنِّي أَتُوبُ فِي الْيَوْمِ إِلَيْهِ مِائَةَ مَرَّةٍ».

[صحيح] - [رواه مسلم] - [صحيح مسلم: 2702]
المزيــد ...

اغر رضی اللہ عنہ، جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابی تھے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
’’اے لوگو! اللہ تعالی کے حضور توبہ کرو، میں دن میں سو دفعہ اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔‘‘

[صحیح] - [اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔] - [صحيح مسلم - 2702]

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ توبہ و استغفار کرنے کا حکم دے رہے ہیں اور اپنے بارے میں بتا رہے ہیں کہ آپ دن میں سو بار سے زیادہ اللہ کے حضور توبہ واستغفار کرتے ہيں۔ جب کہ آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف تھے۔ یہ دراصل اللہ کے حضور بندگی اور عاجزی کے اظہار کا کمال تھا۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. ہر شخص کو، چاہے اس کا ایمان جتنا بھی مضبوط ہو، اللہ تعالی کی جانب رجوع کرنے اور توبہ کے ذریعے اپنے ایمان کو مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر شخص سے اللہ تعالی کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہوتی ہے۔ ارشاد ربانی ہے : "اور اے مومنو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو"۔
  2. توبہ کا یہ حکم عا ہے۔ توبہ چاہے حرام کاموں اور گناہوں کے ارتکاب کی ہو یا واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی کی۔
  3. توبہ کی قبولیت کے لیے اخلاص اولین شرط ہے۔ چنانچہ غیر اللہ کے لیے کوئی گناہ ترک کرنے والا تائب نہیں کہلائے گا۔
  4. نووی کہتے ہيں : توبہ کی تین شرطیں ہیں : 1- گناہ سے باز آ جانا۔ 2۔ گناہ کے ارتکاب پر نادم و شرمندہ ہونا۔ 3- اس بات کا عزم کرنا کہ دوبارہ وہ گناہ نہيں کرے گا۔ مذکورہ تین شرطیں اس وقت ہیں، جب گناہ کا تعلق اللہ کے حقوق میں سے کسی حق سے ہو۔ اگر گناہ کا تعلق بندوں کے حقوق میں سے کسی حق سے ہو، تو توبہ کے صحیح ہونے کے لیے اس حق کو صاحب حق کو لوٹانا یا پھر صاحب حق کی جانب سے معاف کر دیا جانا ضروری ہے۔
  5. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار کرنے سے یہ نہیں لازم آتا کہ آپ گناہوں کے ارتکاب پر ہی استغفار کرتے تھے، بلکہ کمال عبودیت پر فائز ہونے، اللہ پاک کے ذکر میں مصرورف رہنے، اللہ کے عظیم حق کا احساس رکھنے اور اس کوتاہی کا ادراک رکھنے کی وجہ سے کیا کرتے تھے جو بندے سے صادر ہوجایا کرتی ہے، گرچہ وہ اللہ کی نعمتوں کا جس قدر بھی شکر ادا کر لے۔ اس کا مقصد اپنے بعد اپنی امت کے لیے اس عمل کو مشروع قرار دینا تھا۔ اس کے علاوہ بھی اس کی بہت سی حکمتیں ہیں۔
ترجمہ: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان بنگالی زبان فرانسیسی زبان ترکی زبان روسی زبان بوسنیائی زبان سنہالی ہندوستانی چینی زبان ویتنامی تجالوج کردی ہاؤسا پرتگالی مليالم تلگو سواحلی تھائی پشتو آسامی السويدية الأمهرية الهولندية الغوجاراتية النيبالية الدرية الرومانية المجرية الموري ภาษามาลากาซี ภาษากันนาดา الولوف الأوكرانية الجورجية المقدونية الخميرية الماراثية
ترجمہ دیکھیں
مزید ۔ ۔ ۔