عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: «ما غِرْتُ على أحد من نساء النبي -صلى الله عليه وسلم- ما غِرْتُ على خديجة -رضي الله عنها-، وما رأيتها قط، ولكن كان يُكثر ذِكْرَها، وربما ذبح الشَّاةَ، ثم يُقطعها أَعْضَاءً، ثم يَبْعَثُهَا في صَدَائِقِ خديجة، فربما قلت له: كأن لم يكن في الدنيا إلا خديجة! فيقول: «إنها كانت وكانت وكان لي منها وَلَدٌ». وفي رواية: وإن كان لَيَذْبَحُ الشَّاءَ، فيُهدي في خَلَائِلِهَا منها ما يَسَعُهُنَّ. وفي رواية: كان إذا ذَبَحَ الشَّاةَ، يقول: «أرسلوا بها إلى أصدقاء خديجة». وفي رواية: قالت: اسْتَأْذَنَتْ هالة بنت خويلد أخت خديجة على رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فعرف استئذان خديجة، فارْتَاحَ لذلك، فقال: «اللهم هالة بنت خويلد».
[صحيح.] - [الرواية الأولى: متفق عليها. الرواية الثانية: متفق عليها. الرواية الثالثة: متفق عليها. الرواية الرابعة: متفق عليها.]
المزيــد ...

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کی تمام بیویوں میں جتنی غیرت مجھے خدیجہ رضی اللہ عنہا سے آتی تھی، اتنی کسی اور سے نہیں آتی تھی حالانکہ انہیں میں نے انہیں کبھی دیکھا بھی نہ تھا، لیکن آپ ﷺ ان کا ذکر بکثرت فرمایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ جب کبھی بکری ذبح کرتے تو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی ملنے والیوں کو بھیجتے تھے۔ بسا اوقات میں آپ ﷺ سے کہتی : جیسے دنیا میں خدیجہ رضی اللہ عنہاکے سوا کوئی عورت ہے ہی نہیں! اس پر آپ ﷺ فرماتے کہ "وہ ایسی تھیں اور ایسی تھیں اور ان سے میری اولاد ہے"۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ اگر کبھی بکری ذبح کرتے تو ان سے میل محبت رکھنے والی خواتین کو اس میں سے اتنا ہدیہ بھیجتے جو ان کے لیے کافی ہو جاتا۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ جب کبھی بکری ذبح کرتے تو فرماتے کہ " یہ خدیجہ کی سہیلیوں کے ہاں پہنچادو"۔ ایک اور روایت میں ہے، عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن، ہالہ بنت خویلد نے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ کو خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اجازت مانگنا یاد آگیا، آپ ﷺخوش ہو اٹھے اور فرمایا "اللہ! یہ تو ہالہ بنت خویلد ہیں"۔

شرح

اُمُّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کی تمام بیویوں میں جتنی غیرت مجھے خدیجہ رضی اللہ عنہا سے آتی تھی، اتنی کسی اور سے نہیں آتی تھی، اور وہ نبی ﷺ کی سب سے پہلی بیوی تھیں، عائشہ رضی اللہ عنھا کے انہیں دیکھنے سے قبل ہی ان کا انتقال ہوچکا تھا، نبی ﷺ کا مدینہ طیبہ میں یہ معمول تھا کہ جب کوئی بکری ذبح فرماتے تو خدیجہ رضی اللہ عنھاکی سہیلیوں کے ہاں اس کے کچھ گوشت کاہدیہ بھیجتے ، عائشہ رضی اللہ عنھا برداشت نہ کرپاتیں اور کہہ دیا کرتیں :اے اللہ کے رسول!ایسا لگتا ہے کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے سوا دنیا میں کوئی اور خاتون ہی نہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ یہ فرماتے کہ وہ ایسے کرتی تھیں، یوں کرتی تھیں اور ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کی خوبیاں ذکر فرماتے۔ نیز آپ ﷺ اس محبت، بے پناہ پیار اور انتہائی گہری وابستگی کے راز میں زور پیدا کرتے ہوئے فرماتے کہ "ان سے مجھے اولاد بھی ہے"۔ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہونے والے فرزند، ابراہیم رضی اللہ عنہ کے سوا آپ ﷺ کی جملہ چار لڑکیاں اور تین لڑکے،خدیجہ رضی اللہ عنہا ہی سے تھے اور ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کو قبطی بادشاہ نے نبی ﷺ کو ہدیہ میں دیا تھا۔ ایک مرتبہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن، ہالہ بنت خویلد رضی اللہ عنہما تشریف لائیں اور گھر میں آنے کی اجازت طلب کی اور ان کے اجازت مانگنے کا انداز، خدیجہ رضی اللہ عنہا کے اجازت مانگنے جیسا تھا کیونکہ ان کی آواز، ان کی بہن جیسی تھی، چنانچہ آپ ﷺ کو اس سے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی یاد آگئی تو آپ ﷺ میں خوشی و مسرت کے جذبات امنڈ آئے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان چینی زبان فارسی زبان
ترجمہ دیکھیں