عن بهز بن حكيم، عن أبيه، عن جده، قال: قلتُ يا رسول الله: مَن أَبَرّ؟ قال: "أُمَّك، ثم أُمَّك، ثم أُمَّك، ثم أَباك، ثم الأقربَ، فالأقربَ".
[حسن.] - [رواه أبو داود والترمذي وأحمد.]
المزيــد ...

بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! میرے حُسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیرا باپ، پھر درجہ بہ درجہ جو تمہارے قریبی لوگ ہیں۔
حَسَنْ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

شرح

اس حدیث میں رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے ساتھ احسان کرنے پر ابھارا گیا ہے، اور ان سب میں سب سے زیادہ حق دار ماں کو بتایا گیا ہے پھر اس کے بعد اس کا باپ ہے پھر اس کےبعد جو زیادہ قریبی ہو پھر اس کے بعد جو زیادہ قریبی ہو، لیکن سب سے زیادہ حق دار ماں ہے اس کی وجہ اس کی اپنی اولاد کی تئیں کثرت سے پریشانی اور تکلیف اٹھانا نیز خدمت وشفقت ہے، اور اس لیے بھی کہ حمل ور ضاعت اور تربیت کی فضیلت بھی اسی کے ساتھ خاص ہے اور حمل میں تھکاوٹ ہے پھر اس کے بعد وضع حمل کی مشقت ہے، اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا﴾ ”اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور برداشت کر کے اسے جنا“۔ (سورہ احقاف: 15) اور جب ماں کا درجہ باپ سے مقدم ہے تو اس کے علاوہ دوسرے لوگوں پر بدرجہ اولی مقدم ہو گا، اور ماں باپ کے ساتھ حُسنِ سلوک میں سے یہ بھی ہے کہ ان پر خرچ کیا جائے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان چینی زبان فارسی زبان ہندوستانی کردی پرتگالی
ترجمہ دیکھیں