عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رضي الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
«لَا تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ لِتُبَاهُوا بِهِ الْعُلَمَاءَ، وَلَا لِتُمَارُوا بِهِ السُّفَهَاءَ، وَلَا تَخَيَّرُوا بِهِ الْمَجَالِسَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ، فَالنَّارُ النَّارُ».

[صحيح] - [رواه ابن ماجه]
المزيــد ...

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"علم اس لیے حاصل نہ کرو کہ علما کے مقابلے میں فخر کا اظہار کرو، نہ اس لیے کہ کم عقل لوگوں سے بحث کرو، نہ اس لیے کہ مجلس میں ممتاز مقام حاصل کرو۔ جس نے ایسا کیا تو (اس کے لیے) آگ ہے، آگ ہے"۔

صحیح - اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی کے ساتھ اس بات سے منع کیا ہے کہ حصول علم کے پیچھے علما کے مقابلے میں فخر و مباہات کرنے اور یہ باور کرانے کا مقصد کارفرما ہو کہ میں بھی تمہاری طرح عالم ہوں، نادانوں اور کم عقلوں سے بحث و مباحثہ کرنے یا مجلسوں میں سرداری اور صدارت حاصل کرنے جیسے ارادے چھپے ہوئے ہوں۔ جس نے ایسا کیا وہ ریا ونمود اور حصول علم میں اخلاص کے فقدان کی وجہ سے جہنم کا مستحق ہے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان ہندوستانی ویتنامی سنہالی ایغور کردی ہاؤسا مليالم تلگو سواحلی تمل بورمی تھائی پشتو آسامی الباني السويدية الأمهرية
ترجمہ دیکھیں

حدیث کے کچھ فوائد

  1. جو شخص فخر ومباہات، بحث ومباحثہ یا مجلسوں کی صدارت حاصل کرنے کے لیے علم حاصل کرتا ہے، اسے جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔
  2. جو شخص علم سیکھے اور سکھائے، اس کی نیت میں اخلاص کا پایا جانا بہت اہم اور ضروری ہے۔
  3. نیت ہی تمام اعمال کی بنیاد ہے اور اسی کے مطابق بدلہ ملے گا۔